بیدر۔ 5؍اکٹوبر (محمدیوسف رحیم بیدری): کلیان کرناٹک، کتناخوبصورت نام ہے ہمارے اس علاقے کا۔۔ مگر کیا واقعی نام کے شایانِ شان (ہماری بھلائی) یعنی کلیان ہورہا ہے؟ملک کو آزادی ملے تقریباً78 سال پورے ہو رہے ہیں،لیکن ہمارے علاقے کے اضلاع اب بھی ریاست کے سب سے پسماندہ اضلاع ہیں۔2013 میں آئین کی 98وین ترمیم کے تحت آرٹیکل 371Jکے ذریعے اس علاقے کو خصوصی درجہ دیا گیا۔ساتھ ہی ایک خصوصی کارپوریشن ـ”کلیان کرناٹک ڈیولپمنٹ بورڈ”کے نام سے قائم کیا گیا۔2019میں حیدرآباد کرناٹک کا نام بدل کر کلیان کرناٹک رکھا گیا۔12سال گز گئے لیکن ہمارے خواب اب تک پورے نہیں ہو سکے۔مزدور ںکاکام کی تلاش میں ہجرت کرنا نہیں رُکا،نوجوانوں کو اپنی قابلیت کے مطابق روزگار نہیں مل رہا ہے،آبادی کے لحاظ سے اسپتال نہیں بن سکے،غذائی قلت کی وجہ سے نو مولود بچوں اور ماؤں کی اموات کا سلسلہ تھما نہیں ہے،جلتے سورج تلے محنت کرنے والے کسانوں کے مسائل حل نہیں ہو سکے جن کی وجہ سے خود کشیاں بڑھتی ہی جا رہی ہیں۔پسماندہ طبقات،اقلیتیں،دلت اور قبائیلی طبقات آج تک سماجی انصاف سے محروم ہیں۔ہر دن نئی اسکیموں کا اعلان،بڑے بڑے فنڈ کی منظوری کا وعدہ،پچھلے 12سالوں میں تقریبا25ہزار کروڑ روپئے جاری ہونے کا دعوی کیا جاتا ہے مگر وہ رقم کہاں جا رہی ہے؟،ان اسکیموں کا فائدہ آخر کس کو پہنچ رہا ہے؟ہم کیوں اس سے محروم ہیں؟ اس کا ذمہ دار کون ہے؟اُن کی لا پرواہی یا ہماری خاموشی؟
ہمارے حالات پر ایک نظر:بنگلور ڈویژن میں فی کس آمدنی 5.01ہے جبکہ ہمارے علاقے میں صرف1.73ہے۔٭میسور ڈویژن میں 10پسماندہ تعلقے ہیں جبکہ ہمارے علاقے میں29تعلقے پسماندہ ہیں۔٭ریاست کے سب سے پچھڑے اضلاع یادگیر،رائچور،گلبرگہ اور کوپل ہمارے علاقے میں ہیں۔٭ ریاست میں چھوٹے اور درمیانی درجے کی صنعتوں کی کُل تعداد 17.48 لاکھ ہے،مگر کلیان کرناٹک علاقے میں صرف1.96لاکھ ہیں یعنی11%فی صد۔٭مزدوری کے لئے ہجرت کرنے والے سب سے زیادہ مزدور ہمارے علاقے سے ہیں۔٭ایک رپورٹ کے مطابق ہمارے علاقے سے ہر سال 10ہزار طلبہ انجینئرنگ مکمل کرتے ہیں،لیکن نوکریوں کی تلاش میں دوسری جگہوں پر منتقل ہوجاتے ہیں۔٭تقریبا 30لاکھ لوگ خون کی کمی اور غذائی قلت کا شکار ہیں۔پچھلے چار سال میں 9000نومولود(بچے) اور 600ماؤں کی موت غذائی قلت کی وجہ سے ہوئی ہے۔
٭آبادی کے لحاظ سے صحت کے مراکز(اسپتال) کی سخت کمی ہے۔1963سب سنٹرز درکار ہیں جبکہ صرف1519مراکز ہیں،100کمیونٹی ہیلتھ سنٹرس کی ضرورت ہے،مگر صرف 58سنٹرس قائم ہیں،اسی طرح 400پرائمری ہیلتھ سنٹرس کی ضرورت ہے مگر صرف 352سنٹرس ہی قائم ہیں۔٭تقریبا 80ہزار سرکاری نوکریاں خالی ہیں جن میں 22ہزار اساتذہ کی آسامیاں بھی شامل ہیں۔ ہر سال ایس ایس یل سی اور پی یو سی کے نتائج میں کلیان کرناٹک کے اضلاع سب سے پیچھے رہتے ہیں۔٭ریاست میں سب سے زیادہ اقلیتیں،پسماندہ اور درجہ فہرست طبقات ہمارے انہیں اضلاع میں رہتے ہیں ،مگر ان طبقات کے بچوں کے لئے تناسب کے تحت ہاسٹلس قائم نہیں ہیں۔کلیان کرناٹک میں وسائل کی کوئی کمی نہیں ہے۔ہٹّی میںسونے کی کان،بلاری اور ہاسپیٹ میں لوہے کے ذخائر،گلبرگہ میں سمینٹ اور دالیں،رائچور اور کوپل کی کپاس اور دھان کی کھیتیاں ۔اگر ترقی کے منصوبے صحیح طرح سے روبہ عمل لائے جاتے تو کلیان کرناٹک زمین پر جنت بن سکتا تھامگر سیاستدانوں کی لا پروائی اور بے رُخی نے ہمارا یہ حال بنا رکھا ہے۔اسی صورتِ حال کی جانب حکومت کی توجہ مبذول کروانے اور اس خطہ کی منصفانہ ترقی کی مانگ کر تے ہوئے ویلفئیر پارٹی آف انڈیا کی جانب سے یہ کارواں نکالا جا رہا ہے۔
ہمارے مطالبات:انسانی ترقی کا اشاریہ(Human Development Index) اور فی کس آمدنی(Per Capita Income) کو بڑھایا جائے۔DMF,KMERCاورKKRDBکے تحت آنے والے فنڈز کے صحیح استعما ل کو یقینی بنا یا جائے۔روزگار کے مواقع بڑھانے کی تدابیر اختیار کی جائیں۔علاقے میں بڑی صنعتیں قائم کی جائیں اور ان میں مقامی افراد کو روزگار دیا جائے۔کلیان کرناٹک کوتاریخی اہمیت حاصل ہے،یہاں موجود تاریخی مقامات و آثار کی بنیاد پر سیاحت کو فروغ دیا جائے۔ تمام آبپاشی کے منصوبوں کو جلد از جلد شروع کیا جائے۔تمام خالی سرکاری آسامیوں کو فوری بھرتی کیا جائے۔تعلیم کے میعار کو بہتر بنانے کے لیے خصوصی کمیٹی تشکیل دی جائے،اساتذہ اور پروفیسرسز کی خالی آسامیوں کو فوری پُر کیا جائے۔ کلیان کرناٹک کے لیے خصوصی صنعتی پالیسی بنائی جائے اور سرمایہ کاری بڑھائی جائے۔اقلیتوں،دلتوں اور پسماندہ طبقات پر ہونے والے مظالم کو روکنے کے لیے خصوصی عدالت قائم کی جائے۔آبادی کے تناسب سے پرائمری و ملٹی ا سپشیالیٹی اسپتال بناوائے جائیں۔(اضلاع کے مسائل اور مانگوں کو ،اس کاروان کے اختتام پرحکومت کو پیش کئے جانے والے میمو رنڈم میں الگ سے شامل کیا جائے گا)آئیے ۔۔ہمارے علاقے کی منصفانہ ترقی اور ہمارے جائز حقوق کو حاصل کرنے کی اس جدوجہد میں آپ بھی شامل ہوں۔یہی کچھ ویلفئیر پارٹی آف انڈیا،کرناٹک چاہتی ہے۔اس بات کی اطلاع ویلفیرپارٹی کے ذرائع نے دی ہے۔
