ڈاکٹر عبید الرحمن ندوی
استاد دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ

ڈاکٹر سرو پلی رادھا کرشنن ہندوستان کی علمی، فکری، تعلیمی اور سیاسی تاریخ کا ایک درخشندہ ستارہ تھے۔ وہ نہ صرف ایک جید ماہرِ تعلیم اور گہری بصیرت رکھنے والے فلسفی تھے بلکہ ایک عظیم مفکر، مصنف، مدبر، بے مثال سفارت کار اور خطابت کے فن میں کامل مہارت رکھنے والے مؤثر مقرر بھی تھے۔ ان کی شخصیت میں علم و عمل، فکر و تدبر اور اخلاق و کردار کا حسین امتزاج پایا جاتا تھا۔
ڈاکٹر رادھا کرشنن نے اپنی علمی و فلسفیانہ گہرائی سے نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا میں علم و دانش کا پرچم بلند کیا۔ وہ ایسے انسان تھے جنہوں نے مشرقی فلسفے کو مغرب کے علمی حلقوں میں متعارف کرایا اور ہندومت کے روحانی پہلوؤں کو فلسفیانہ انداز میں پیش کیا۔ ان کی تحریروں میں فکر کی وسعت، دلائل کی گہرائی اور زبان کی شائستگی نے ایک ایسا علمی معیار قائم کیا جو آج بھی اہلِ علم کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
ڈاکٹر سرو پلی رادھا کرشنن5 ستمبر 1888ء کو جنوبی ہند کی ریاست تمل ناڈو کے ایک چھوٹے سے قصبہ تروتنی میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی سے غیر معمولی ذہانت اور علم دوستی ان کے اندر نمایاں تھی۔ غربت اور محدود وسائل کے باوجود انہوں نے اپنی تعلیم میں وہ کمال حاصل کیا جس نے آگے چل کر انہیں بین الاقوامی سطح پر ایک ممتاز مقام عطا کیا۔ انہوں نے اپنی بنیادی تعلیم کے وی ہائی اسکول میں حاصل کی اور اپنی ثانوی اور اعلی تعلیم کے لیے ویلور کے وورہیس کالج میں داخلہ لیا۔ انہوں نے 1904 میں مدراس کرسچن کالج سے گریجویشن اور 1906 میں فلسفہ میں ماسٹرز کیا۔ ان کا تعلق ایک غریب گھرانے سے تھا لیکن وہ تعلیم حاصل کرنے کا پختہ عزم و ارادہ رکھتے تھے، وہ بہت محنتی اور بلا کے ذہین تھے، اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ان کی قوت ارادی اور پختہ عزم ہی تھا جس نے انکو زندگی میں کامیابی عطا کی۔ ایک ہونہار طالب علم ہونے کے ناطے انہیں اپنی تمام تعلیمی زندگی میں اسکالرشپ سے نوازا گیا۔
ڈاکٹر رادھا کرشنن کو تقابل مذاہب اور فلسفے کے بیسویں صدی کے سب سے بااثر اور ممتاز اسکالرز میں شمار کیا جاتا ہے۔ بحیثیت استاد ان کی خدمات: وہ ایک ماہر اور تجربہ کار استاد تھے- ایک قابل استاد کے لئے جن اوصاف حمیدہ اور خوبیوں کی ضرورت ہوتی ہیں ان میں بدجہ اتم موجود تھیں-
ڈاکٹر رادھا کرشنن فلسفیانہ اور دانشورانہ علوم و فنون کو فروغ دینے، استاد اور طالب علم کے درمیان مضبوط رشتوں کو استوار کرنے کے لئے ہمیشہ کوشاں رہتے تھے – ڈاکٹر صاحب نے اساتذہ کے درمیان امتیاز اور بھید بھاؤ کو بھی ختم کیا-ان کا مطمح نظر یہ تھا کہ ایسے طلبا تیار کئے جائیں جو روشن خیال ہوں،وقت کے نباض ہوں اور اپنے ملک کے وفا دار ہوں ڈاکٹر رادھا کرشنن نے ہندوستان اور بیرون ہند کی مختلف نامور یونیورسٹیوں میں تعلیم دی ۔ وہ کلکتہ یونیورسٹی میں 1921 سے 1932 تک عقلی اور اخلاقی سائنس کے کنگ جارج پنجم کی چیئر پر فائز رہے۔ ڈاکٹر رادھا کرشنن نے آکسفورڈ یونیورسٹی میں 1936 سے 1952 یعنی 16 سال تک بطور پروفیسر خدمات انجام دیں۔ اس کے علاوہ وہ اسپالڈنگ پروفیسر آف ایسٹرن ریلیجنز اینڈ ایتھکس کے منصب پر فائز رہے- وہ یونیورسٹی میں پروفیسری کی کرسی پر فائز ہونے والے پہلے ہندوستانی تھے۔
انہوں نے میسور یونیورسٹی میں 1918 سے 1921 تک پروفیسر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ اسی طرح انہوں نے بنارس ہندو یونیورسٹی (BHU) کے وائس چانسلر کے طور پر 1939 سے 1948 تک نو سال خدمات انجام دیں جس کے بعد انہوں نے یونیورسٹی ایجوکیشن کمیشن کی سربراہی کی۔
بحیثیت ایک ماہر مصنف:
ڈاکٹر رادھا کرشنن عالمی شہرت کے ایک بڑے مصنف تھے۔ انہوں نے بہت سی کتابیں تصنیف کیں۔ ان کی متعدد کتابوں میں کچھ مشہور کتابیں درج ذیل ہیں-Indian Philosophy )Two Volumes),The Hindu View of Life,Eeastern Religions and Western Thought, Philosophy of Upanishads and True Knowledge وغیرہ-
بحیثیت صدر ہندوستان:
ڈاکٹر رادھا کرشنن کی سیاسی زندگی کئی اہم عہدوں پر محیط ہے- وہ ہندوستان کے ایک بارعب اور بہت ہی سنجیدہ صدر تھے – ان کی قیادت میں ہندوستان نے مختلف میدانوں میں غیر معمولی ترقی کی- انہوں نے 1952 سے 1962 تک ہندوستان کے نائب صدر اور 1962 سے 1967 تک ہندوستان کے دوسرے صدر کے طور پر کام کیا۔ان کے صدارتی عہد میں
تعلیمی بصیرت اور ہندوستان میں اعلیٰ ترین آئینی اصولوں کے وقار اور احترام کو بھی فروغ ملا-
بحیثیت ایک عظیم ہندو فلسفی:
ڈاکٹر رادھاکرشنن کا شمار ہندوستان کے عظیم فلسفیوں میں ہوتا ہے- انہوں نے ہندوستانی فلسفے کو مغرب میں متعارف کرایا اور جمہوری اقدار کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے فلسفیانہ اور فکری عمل نے انھیں آکسفورڈ یونیورسٹی میں مشرقی مذاہب اور اخلاقیات کی اسپالڈنگ پروفیسر شپ عطا کی۔ بلاشبہ، وہ ایک ممتاز ہندو فلسفی تھے جو دنیا کے سامنے ہندو مت کی ایک جدید اور عالمگیر تفہیم پیش کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں – انہوں نے مغربی تنقید کے خلاف مؤثر طریقے سے ہندو مذہب کا دفاع کیا، مشرقی اور مغربی روحانیت کے درمیان ایک پل کے طور پر کام کیا۔ان کی قابل قدر خدمات، بشمول ہندوستانی فلسفہ (دو جلدیں)، دی ہندو ویو آف لائف، اور مشرقی مذاہب اور مغربی سوچ نے ہندوستانی فلسفہ اور مذہب کو پوری دنیا میں متعارف کرایا۔ سچ یہ ہے کہ رادھا کرشنن کی بے لوث فلسفیانہ خدمات کے اثرات ہنوز جاری و ساری ہیں، جو ہندو مذہب کو سمجھنے اور بین المذاہب مکالمے کو فروغ دینے کے لیے ایک فریم ورک فراہم کرتی ہیں۔ بہر حال، ان کی صدارت اور ان کی تعلیمی خدمات نے ہندوستان کے اخلاقی اور فکری کردار میں کلیدی کردار ادا کیا ہے-
بحیثیت سفیر:
ڈاکٹر رادھا کرشنن نے سوویت یونین میں ہندوستانی سفیر کے طور پر 1949 سے 1952 تک خدمات انجام دیں۔ سرد جنگ کے دور میں ہندوستان اور USSR کے درمیان امن اور ہم آہنگی پیدا کرنے میں ان کی سفارتی ذہانت نے اہم کردار ادا کیا۔
ڈاکٹر رادھا کرشنن اور خواتین کی تعلیم:
رادھا کرشنن کمیشن، جسے یونیورسٹی ایجوکیشن کمیشن کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، 1948-1949 میں قائم کیا گیا تھا اور انہوں نے خواتین کی اعلیٰ تعلیم تک رسائی کو بڑھانے پر زور دیا تھا۔ مردوں اور عورتوں کی تعلیم کو بھر پور طریقے سے فروغ دینے کی سفارش کرتے ہوئے، اس کے مواقع بڑھانے، پابندیوں کے خاتمے اور کالجوں میں خواتین کے لیے ضروری سہولیات کی فراہمی پر زور دیا۔ آزادی کے بعد ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم میں خواتین کی زیادہ شمولیت کے علاوہ، کمیشن نے خواتین کی تعلیمی رسائی کو محدود کرنے والی تمام رکاوٹوں کو دور کرنے کی وکالت کی۔ 1950 میں ڈاکٹر رادھا کرشنن کی یونیورسٹی ایجوکیشن رپورٹ میں سب کے لیے جامع اور ٹھوس تعلیم کی وکالت کی گئی۔ انہوں نے مستقبل کی پالیسیوں کی بنیاد رکھی اور ایک ایسا تعلیمی نظام بنانے پر زور دیا جو معاشرے کے تمام طبقات کے لیے قابل رسائی اور فائدہ مند ہو۔ کمیشن کی رپورٹ میں واضح طور پر خواتین کی تعلیم جیسے موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے، جو ہندوستانی اعلیٰ تعلیم کے مجموعی فریم ورک میں اس کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
یوم اساتذہ:
ڈاکٹر رادھا کرشنن کا یوم پیدائش 5 ستمبر ہندوستان میں یوم اساتذہ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ روایت اس وقت شروع ہوئی جب وہ 1962 میں ہندوستان کے نائب صدر بنے، ان کے کچھ طلبا اور دوستوں نے ان سے ان کی سالگرہ منانے کے لیے رابطہ کیا جس پر انھوں نے ان سے کہا کہ ان کی سالگرہ نہ منائیں بلکہ اسے اساتذہ کے اعزاز کے طور پر یہ دن منائیں۔ وہ خود تدریس کو سب سے اہم اور قابل قدر پیشہ سمجھتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ اساتذہ کو ملک کے بہترین دماغ ہونے چاہئیں اور انہوں نے ذمہ دار شہریوں کی تشکیل میں تعلیم کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے افراد اور معاشرے کی تشکیل میں اور ان کو جلا دینےمیں اساتذہ کی نمایاں خدمات کو تسلیم کرنے پر بھی زور دیا۔وہ کہتے ہیں کہ ’’حقیقی اساتذہ وہ ہوتے ہیں جو ہمیں اپنے بارے میں سوچنے میں مدد فراہم کرتے ہیں” اور وہ ایک رہنما اصول کے طور پر کام کرتے ہیں جو آزاد اور تخلیقی سوچ رکھنے والوں کی فلسفیانہ سوچ و فکر کو فروغ دینے میں بھی مدد کرتے ہیں ۔
اس کے علاوہ، ڈاکٹر رادھا کرشنن کا خیال تھا کہ تعلیم کو صرف علم نہیں دینا چاہیے بلکہ روحانی اقدار، اخلاقی عادات، اور "زندگی گزارنے کے فن” کو بھی فروغ دینا چاہیے، جس کا مقصد مکمل انسانی ترقی اور سماجی تبدیلی ہو ۔ ان کے فلسفے اور ان کی غیر معمولی خدمات اور عظیم کار نامے کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کی یوم پیدائش 5 ستمبر کو ہر سال ہندوستان میں یوم اساتذہ کے طور پر منایا جاتا ہے، یومِ اساتذہ، انکی تعلیمی خدمات، اخلاقی بصیرت، اور انسان دوستی کے روشن چراغ کا استعارہ بن چکا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے