(مولانا افضال الرحمن قاسمی خطاب کرتے ہوئے)
جلسہ دستاربندی واصلاح معاشرہ سے علماء کا خطاب، مولانا احمد علی کی جانب سے علماء کرام کو افادات منظور نامی کتاب ہدیۃً پیش کی گئی
اناؤ: (محمد جنیدقاسمی یکم دسمبر): گزشتہ شب مدرسہ دارالعلوم ضیاء القرآن قصبہ پوروہ میں جلسہ دستاربندی منعقد ہوا، جس میں مولانا افضال الرحمن قاسمی شیخ الحدیث مدرسہ اشرف المدارس ہردوئی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قرآن مجید جو انسانی تربیت کی سب سے وسیع اور جامع کتاب ہے اور حدیث شریف جو قرآن مجید ہی کی تشریح و توسیع ہے، مستقل تربیت گاہ کی حیثیت رکھتی ہے، اس لئے گھر کا ماحول ہو یا مدرسہ کا یا معاشرہ کے کسی دیگر تربیتی وسیلہ کا لڑکے اور بڑوں دونوں کے لئے یہ بہت مفید اور ضروری ہے کہ اس کا ربط اس وسیع اور جامع ذریعۂ تربیت سے قائم کردیا جائے تو زندگی بھر خودبخود تربیت حاصل کرنے کا سلسلہ قائم ہو جاتا ہے، اور یہ بھی گھر کی تربیت کی بنیادی ذمہ داری ہے، اس کی اساس بھی وہیں قائم کی جانی چاہئے، بعد ازاں مولانا خلیل احمد مظاہری امام و خطیب مسجد لال بنگلہ کانپور نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ الفاظ قرآن کو اس کی حفاظت میں بہت بڑا دخل ہے کیونکہ الفاظ قرآن کا یہ معجزہ ہے کہ وہ نہایت سہولت سے حفظ ہو جاتے ہیں، تم اپنے حفظ پر کیا ناز کرتے ہو ذرا کافیہ یا اور کوئی نظم ونثر کی کتاب تو حفظ کر کے دیکھو، آپ کو اس وقت اپنے حفظ کی حقیقت معلوم ہوجائے گی، یہ خدا تعالیٰ ہی کی تو حفاظت ہے کہ قرآن جیسی ضخیم کتاب کا حفظ کرنا ایسا آسان کردیا ہے کہ بچے تک حفظ کرلیتے ہیں؛ بلکہ تجربہ شاہد ہے کہ حفظ قرآن بچپن ہی میں اچھا ہوتا ہے، بڑے ہو کر ویسا حفظ نہیں ہوتا جیسا بچپں میں ہوتا ہے اور یقینا بچپن ہی میں بچہ معانی قرآن سمجھنے کے قابل نہیں ہوتا، تو جو لوگ بدون معانی سمجھے الفاظ قرآن کے پڑھنے کو بیکار کہتے ہیں، اب اگر ان لوگوں کے مشورہ پر بچوں کو قرآن نہ پڑھایا جائے تو اس کا انجام یہی ہوگا کہ حفظ کا دروازہ بند ہو جائے گا، یہ لوگ دنیا سے حفظ قرآن کو مٹانا چاہتے ہیں۔تفصیلات کے مطابق قصبہ پوروہ میں واقع مدرسہ دارالعلوم ضیاء القرآن محلہ گڑھی میں ایک روزہ جلسہ دستاربندی کا انعقاد عمل میں آیا۔ جلسے کا آغاز قاری نوازش عرفانی الٰہ آباد کی تلاوت سے ہوا جبکہ نعت کا نذرانہ مولانا عمرعبداللہ بارہ بنکوی نے پیش کیا۔ اس موقع پر جلسے کے نگراں مولانا احمد علی سعادتی ناظم مدرسہ نے سبھی حاضرین کا شکریہ اداکیا۔
نظامت کے فرائض قاری شکیل امام و خطیب مسجد بلال جیتی کھیڑا نے انجام دیئے، جبکہ دستاربندی اور مولانا افضال الرحمن قاسمی کا تعارف مفتی محمد جنید قاسمی استاذ مدرسہ عربیہ مفتاح العلوم گنج مرادآباد نے کرایا، جلسے میں مولانا مختار عالم مظاہری، مولانا سفیان جامعی، مفتی بلال قاسمی ہردوئی، مولانا شاداب قاسمی، حافظ محمد معراج سیتاپوری، قاری کامل سمدھن، حافظ سفیان، مولانا شمس الدین بارہ، مولانا الطاف بارہ، حافظ ظہیر الدین امام مسجد زمزم ٹینرس اناؤ، مولانا بلال مہتمم مدرسہ افتخارالعلوم اناؤ، مولانا عمران اناؤ، مولانا عارف اچل گنج، مفتی معراج الحق، مولانا نصار عالم سیتاپور، قاری اسماعیل مؤ۔ جن کی دستاربندی ہوئی، ان کے نام یہ ہیں: حافظ عبدالصمد، حافظ مزمل، حافظ محمد حذیفہ، حافظ محمد علی، حافظ ولید، حافظ شعبان، حافظ ایان، حافظ محمد توصیف، حافظ محمد فیصل، حافظ مہتاب، حافظ ابوطلحہ۔ اس موقع پر ناظم مدرسہ مولانا احمد علی سعادتی کی جانب سے مفتی محمد جنید قاسمی کی کتاب ’افادات منظور‘ علماء کرام کو ہدیۃ ً پیش کی گئی۔
