سدھارتھ نگر (پریس ریلیز): قوموں کی ترقی ان کے تخیل پہ موقوف ہوتی ہے اور ان کی ہمہ جہت ترقی ان کی ذہنی وسعت اور ہمت وحوصلہ نیز بیداری پر منحصر ہوتی ہے۔آج جہاں ملت اسلامیہ ہند کے سامنے بے شمار چیلنجز ہیں وہیں ملت کے سامنے اوقاف کے حوالے سے مسائل کھڑے ہیں مگر اکابر کی کوششوں سے کچھ امید ضرور ہے۔ امید پورٹل پر رجسٹریشن کیلئے بیداری کا عمل جاری ہے۔ سرکار نے موقع دیا ہے اس پر لوگ بیدار ہوں تو کئی مسائل کا حل ممکن ہے۔ ان خیالات کا اظہار پانے آن لائن پیغام میں گریٹ انڈیا نیشنل اکیڈمی کے چیئر مین نوراللہ خان نے کیا۔
معروف سوشل ورکر اور بزنس مین اور بی ٹی ایس موہانہ چوراہا کے پرو پرائٹر اور “ہائی ریج سولیوشن “ کے ڈایلیریکٹر جناب عتیق خان نے کہاکہ اس بیداری سے مکاتب ومدارس نیز ملی اوقاف کی دیگر جائیدادوں کو بچایا جاسکتا ہے ورنہ ہمارے اجداد جن مقبروں میں مفون ہیں وہ بھی مقبرے ہاتھ سے جا سکتے ہیں۔
ایڈوکیٹ عبیداللہ سنابلی نے کہا کہ پہلے ہی کافی جائیدادیں غفلت کے سبب چلی گئیں، اب مزید کمیوں کا سرزد ہونا نامناسب ہے۔ فوری طور پر خسرہ نمبر کے ساتھ متعلقہ اتھارٹی سے رابطہ کیا جائے سرکار سے ملی مہلت کا فائدہ اٹھایا جائے۔ اور فوری طور پر نشان دہی کرواکر اپنے قبضے میں لیا جائے۔ علماء ملت، دانشوران قوم ، سوشل ورکرز، ملی بہی خواہان اور نیتا حضرات اس کار خیر کی جانب توجہ فرمائیں۔ خود بیدار ہوں، لوگوں کو اپڈیٹ کریں اور اس مہم کو کامیاب بنائیں۔
معروف سماجی کارکن دینی ملی امور سے وابستہ شخصیت کے حامل جناب خالد سہیل صاحب نے کہاکہ اسے مہم کے طور پر لیا جائے اور فورا جہاں بھی ایسی اراضی ہوں ان پر کام کیا جائے۔ یہ اہم مسئلہ اور ان کا تحفظ وقت کا شدید تقاضا اور ہمارا ملی فریضہ ہے۔
اس حوالے سے منعقد میٹنگ میں بار بار توجہ دلائی گئی اور کہا گم گیا کہ آپ حضرات کی مصروفیت سے کچھ لمحات درکار ہیں۔ توجہ فرمائیں! سدھارتھ نگر میں ڈھائی ہزار سے زائد اوقاف کی جائیدادیں ہیں اور وہ قابل توجہ ہیں۔ اس کے علاوہ پورے ملک میں کافی ایسی اوقاف والی اراضی ہیں جو توجہ طلب ہیں۔ جو سرکاری رجسٹریشن سے محروم رہ جائیں گی وہ جائیدادیں ، قبرستان، مسجد یا مدارس ومکاتب کی زمینیں سرکاری تحویل میں چلی جائیں گی۔ حکومت نے موقع دیا ہے۔ اللہ کے واسطے دیگر مصارف سے بجٹ نکال کر اور اپنی مصروفیا ت سے وقت نکال کر اس پر توجہ فرمائیں۔
کانگریس لیڈر اور معروف سماجی کارکن جاوید اشرف خان نے کہا کہ یہ ایک انتہائی حساس مسئلہ ہے۔ قوم کے سمجھدار سربراہان کو چاہیے کہ وہ دستاویزات کی درستگی کے لیے حکومت کی طرف سے دی گئی رعایتی مدت کا صحیح استعمال کرنے کے لیے آگے آئیں اور وقف اراضی کو اتھارٹیز کے پاس رجسٹرڈ کرائیں کیونکہ ہمارا بروقت اقدام ہمیں مستقبل میں ناخوشگوار حالات سے بچائے گا۔
اس حوالے سے اپنے پیغام میں سماجی امور پر گہری نظر رکھنے والے سماجی کارکن ایڈوکیٹ شعیب احمد خان “ ممبئی) نے کہاکہ تمام قسم کی زمینوں کے حوالے سے بیداری ضروری ہے بطور خاص یہ ملی اوقاف توجہ طلب ہیں اور اس ورثہ کا تحفظ اجداد سے محبت کی دلیل اور ان کی وراثتوں کے ہم امین ہیں اس لئے ان کا قانونی وعملی تحفظ ہماری ذمے داری ہے۔
