از: محمدشمیم احمد نوری مصباحی
خادم:دارالعلوم انوار مصطفیٰ سہلاؤ شریف،باڑمیر(راجستھان)
اسلام ایک ایسا آفاقی اور ابدی مذہب ہے جو انسانیت کو غلامی سے آزادی، تاریکی سے روشنی اور گمراہی سے ہدایت کی طرف لے جاتا ہے۔ ایمان، مسلمانوں کی زندگی کا جوہر اور روح ہے۔ لیکن افسوس کہ آج کے پرفتن دور میں فتنۂ ارتداد یعنی دین سے پھر جانے کی خطرناک لہر اُمتِ مسلمہ کے ایمان و یقین کو جھنجھوڑ رہی ہے۔ کہیں لالچ کے دام میں عقیدہ بیچا جا رہا ہے، کہیں شادی کے جھانسے میں ایمان گنوایا جا رہا ہے، اور کہیں فکری زہر و اخلاقی انحطاط کے سبب نئی نسل گمراہی کے گڑھے میں جا رہی ہے۔
یہ محض ایک انفرادی حادثہ نہیں بلکہ اجتماعی المیہ ہے جو ہماری دینی، اخلاقی اور تعلیمی غفلت کا نتیجہ ہے۔
فتنۂ ارتداد کی کچھ اہم وجوہات:
فتنہ کبھی اچانک جنم نہیں لیتا، بلکہ یہ ایک طویل بےحسی اور تدریجی زوال کا ثمرہ ہوتا ہے۔ اگر ہم اس ناسور کی جڑوں کو پہچان لیں تو اس کا علاج ممکن ہے۔ ذیل میں چند بنیادی اسباب کا تجزیہ پیش ہے:
1. دین سے دوری اور علمِ دین کی کمی:
جب انسان کا تعلق قرآن و سنت سے کمزور ہوتا ہے تو وہ باطل نظریات کے سامنے بے بس ہو جاتا ہے۔ آج کے نوجوان دین کے بنیادی عقائد تک سے ناواقف ہیں۔ نتیجہ یہ کہ معمولی شبہات اور سوالات پر ایمان متزلزل ہو جاتا ہے۔
2. بے پردگی، فحاشی اور اخلاقی زوال:
میڈیا اور سوشل میڈیا نے عریانی و بے حیائی کو آزادی کے نام پر عام کر دیا ہے۔ فلم، ویب سیریز، فیشن شو، مخلوط محفلیں… یہ سب ایمان کی حرارت کو سرد اور ضمیر کو مردہ کر رہی ہیں۔ جب حیاء ختم ہو جائے تو دل میں ایمان باقی نہیں رہتا۔
3. مخلوط نظامِ تعلیم:
موجودہ نظامِ تعلیم میں دین سے لاتعلقی اور مخلوط ماحول نے نئی نسل کو فکری انتشار میں مبتلا کر دیا ہے۔ جب لڑکے لڑکیوں کا آزادانہ میل جول معمول بن جائے تو عشق و محبت کے جال میں پھنسنا، اور پھر غیر مسلم سے نکاح کے لیے دین چھوڑ دینا ایک عام بات بن جاتی ہے۔
4. سوشل میڈیا، اسمارٹ فون اور انٹرنیٹ کا غلط استعمال:
یہ آلات اگرچہ نعمت ہیں، مگر غلط استعمال نے انہیں فتنہ کا سب سے بڑا ذریعہ بنا دیا ہے۔ یوٹیوب، انسٹاگرام، واٹس ایپ، اور فیس بک کے ذریعے ذہنوں میں شکوک پیدا کیے جا رہے ہیں، ایمان پر حملے ہو رہے ہیں، اور غیر اسلامی رشتے فروغ پا رہے ہیں۔
5. غربت، مجبوری اور جذباتی کمزوری:
بعض اوقات غربت اور مجبوری کے باعث مسلمان بچیاں جہیز یا مالی لالچ میں دین سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔ کہیں تعلیم یا نوکری کے لالچ میں غیر مسلم ماحول میں رہ کر ایمان برباد ہو جاتا ہے۔
6. نکاحِ غیر شرعی: (دوسرے مذہب میں شادی)
یہ فتنہ آج کے دور میں سب سے خطرناک صورت اختیار کر چکا ہے۔ شادی کے بہانے دلوں پر اثر ڈال کر ایمان چھینا جا رہا ہے۔ نوجوان لڑکیاں محض محبت یا فریب میں آ کر اپنا عقیدہ، اپنی عاقبت، سب کچھ گنوا دیتی ہیں۔
فتنۂ ارتداد کے نتائج:
یہ محض ایک فرد کا نقصان نہیں، بلکہ پوری قوم کی شکست ہے۔
ایک لڑکی کا مرتد ہونا، ایک نسل کا کٹ جانا ہے۔
ایک نوجوان کا ایمان ضائع ہونا، ایک گھرانے کی تباہی ہے۔
اور اگر یہی روش عام ہو گئی تو اسلامی شناخت مٹنے کا خطرہ ہے۔
اللہ وحدہ لاشریک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:وَمَنْ یَرْتَدِدْ مِنْکُمْ عَنْ دِیْنِهِ فَیَمُتْ وَهُوَ کَافِرٌ فَاُولٰٓئِکَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَةِ
(البقرہ: 217)
"جو کوئی اپنے دین سے پھر جائے اور کفر پر مرے تو اس کے تمام اعمال دنیا و آخرت میں برباد ہو جائیں گے۔”
فتنۂ ارتداد کی روک تھام،مؤثر اقدامات و تجاویز:
1. دینی تعلیم و تربیت کا فروغ:
ہر مسلمان گھرانہ اپنے بچوں کو قرآن، عقائدِ اہلِ سنت، سیرتِ نبی ﷺ اور علمِ فقہ کی تعلیم دلائے۔
مدارسِ اسلامیہ اور مکاتب کا جال بچھایا جائے۔ والدین خود بھی دینی شعور حاصل کریں تاکہ وہ ایمان کی حفاظت کر سکیں۔
2. ماں کی تربیت پر خصوصی توجہ:
ماں اگر دین دار ہو تو نسلیں ایمان پر قائم رہتی ہیں۔ اس لیے خواتین کے لیے اصلاحی اجتماعات، درسِ قرآن، اور اسلامی اخلاق کی تعلیم کو عام کیا جائے۔
3. میڈیا کے غلط اثرات سے حفاظت:
اسلامی ویڈیوز، سیرت و تاریخِ اسلام پر مبنی پروگرام، اور علمائے اہلِ سنت کے بیانات کو فروغ دیا جائے۔
بچوں کے ہاتھ میں اسمارٹ فون دینے سے پرہیز کیا جائے یا نگرانی کے ساتھ استعمال کرایا جائے۔
4. اسلامی ماحول اور صالح صحبت:
نوجوانوں کو علماء، صلحاء اور اہلِ دل کی صحبت میں رہنے کی ترغیب دی جائے۔ بری صحبت ایمان کا زہر ہے، جبکہ نیک صحبت ایمان کی غذا۔
5. خاندانی و معاشرتی نگرانی:
ماں باپ کو چاہیے کہ اپنے بچوں کی دوستی، تعلیم، رہن سہن اور آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھیں۔ ایمان کی حفاظت، سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔
6. نکاح میں مذہبی احتیاط:
والدین کو چاہیے کہ دین و ایمان کو بنیاد بنا کر رشتہ طے کریں۔ صرف مال، حسن یا نوکری نہ دیکھیں۔
اسلامی تنظیمیں اور ادارے اس ضمن میں بیداری مہم چلائیں تاکہ مسلم لڑکیاں اپنے دین و عقیدہ کی حفاظت کر سکیں۔
7. علماء و مشائخ کی رہنمائی:
ائمہ و خطباء جمعہ کے خطبات میں عقائد، ایمان کی حفاظت، اور ارتداد کے نقصانات پر روشنی ڈالیں۔
خانقاہوں اور دینی اداروں سے اصلاحی و بیداری مہمات چلائی جائیں۔
آج کا دور ایمان کی آزمائش کا دور ہے۔ ارتداد کی یہ لہر ہمیں سوچنے پر مجبور کر رہی ہے کہ کہیں ہم نے اپنی نئی نسل کو دنیا کی چمک دمک میں کھو تو نہیں دیا؟
ہمیں چاہیے کہ ایمان کی حفاظت کو سب سے مقدم سمجھیں۔ اپنی اولاد کے دلوں میں عشقِ رسول ﷺ، محبتِ قرآن، اور غیرتِ ایمانی پیدا کریں۔
یاد رکھیے! جب تک گھروں میں قرآن کی تلاوت گونجتی رہے گی، جب تک دلوں میں عشقِ مصطفیٰ ﷺ کی حرارت زندہ رہے گی،
تب تک کوئی طوفان ایمان کو متزلزل نہیں کر سکتا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اور ہماری نسلوں اور سبھی مسلمانوں کو ایمان پر استقامت عطا فرمائے، اور فتنۂ ارتداد سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
