بلیا: 9 نومبر 2025 کو عالمي یوم اردو کی مناسبت سے ایک شاندار جلسہ عام و سیمینار کا انعقاد انجمن ترقی اُردو سکندر پور یونٹ کی طرف سے مدرسہ دارالعلوم سرکار اسی کے صحن میں کیا گیا۔ جلسے کا آغاز قاری فیروز صاحب کے تلاوت قرآن عظیم نے کیا۔ نعت پاک کا نذرانہ قاری امام اختر و قاری فیروز نے ایک ساتھ پیش کیا۔ نور جہاں مُسلم گرلز انٹر کالج کی طیبہ جاوید و چائلڈ ایجوکیشن سینٹر کی فلک پروین نے دعاء "لب پہ آ تی ہے دعاء بن کے تمنا میری” بہت ہی خوبصورت انداز میں پیش کیا۔

جلسے کی صدارت مولانا رحمت اللہ صاحب پرنسپل مدرسہ دارالعلوم سرکار اسی نے فرمائی و خطبہ استقبالیہ ماسٹر ترنّم انصاری نے پیش کیا۔مہمان خصوصی پروفیسر سراج اجملی صاحب علیگڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ نے عربی کے بعد اُردو اور بھوجپوری کو دنیا کی میٹھی زبان بتاتے ہوئے اُردو ادب کے تین اہم شاعر میر غالب اور اقبال کا ذکر ان کے عہد کو یاد کیا۔ جناب ارشد سراج مکی صاحب مدیر نشان راہ دہلی نے اقبال کے الہامی شاعری کا ذکر کرتے ہوئے فلسفہ خودی یعنی سیلف رسپکٹ کو واضح کر نوجوانان وطن کو جگایا۔ پروفیسر ضیاء اللہ صاحب ڈی سی ایس کے پی جی کالج مئو نے تاریخ و ساہتیہ کے رشتے پر روشنی ڈالتے ہوئے اُردو کے تلفظ کی ادائیگی پر تفصیلی گفتگو کیا۔ خاکہ نگار ڈاکٹر شکیل احمد نے مدرسے اور اسکول کے اُردو نصاب کا تذکرہ کرتے ہوئے اسے اور بہتر شکل دینے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ ڈاکٹر مسعود احمد صاحب ڈائریکٹر تاج پبلک اسکول تاجپور ڈیمہ غازی پور نے ہندوستان کی جنگ آزادی میں اُردو کے شاعروں اور ادیبوں کے کارنامے کا تذکرہ کیا۔ ڈاکٹر ایم اعظمی نے تعلیم کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے۔

نورالہدی لاری نے محبان اردو کے سامنے اردو کے فروغ کے لیے بہت سے تجاویز اور مشورہ دیتے ہوئے انجمن کے سرپرست ڈاکٹر حیدر علی خان کے پیغام کو پڑھ کر سنایا۔ شعراء میں سلمان گھوسوی، عثمان کاوش، خیرالبشر نے اپنے مخصوص لب و لہجہ اور ترنّم سے پورے مجمع کو لوٹ لیا۔

پروگرام میں ریٹائرڈ اساتزہ کرام محمد رفیع اللہ دانش، لطیف احمد خان ہندی، عیںن الحق انصاری، شیخ انور، ماسٹر سلیم شیخ عاطف، سید منہاج الدین اجملی، سرفراز احمد، جمیل احمد، اقبال احمد،  محمد الیاس، نثار احمد، شیخ عطاءالحسن و للن مشرا کو مومنٹو و شال دیکر اعزاز دیا گیا۔ اردو میں ٹاپر طالبات صائمہ پروین،  کنیز فاطمہ و معصومہ پروین کو مومنٹو کی شکل میں اعزاز دیا گیا۔ ڈاکٹر عبدالاول نے انجمن کا سالانہ رپورٹ پیش کیا۔

پروفیسر ڈاکٹر سید سراج الدین اجمالی کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازہ گیا

پروفیسر ڈاکٹر سید سراج الدین اجملی صاحب شعبہ اُردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علیگڑھ کو ان کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں انجمن ترقی اردو بلیا کی طرف سے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈز 2025 سے نوازا گیا۔ اس موقع پر مولانا ارشد سراج مکی کو انجمن کی طرف سے سپاس نامہ پیش کیا گیا اور مجلہ نشان راہ کا رسم اجراء سید سراج الدین اجملی کے ہاتھوں ہوا۔

جلسے کے انعقاد میں سکندر پور کی ٹیم میں جناب ظہیر عالم صاحب انصاری کی قیادت میں شیخ وسیع احمد صدر جناب ترنم انصاری ۔ ہدایات حسین ببلو۔ عین الحق ۔حاجی نوشاد طارق احمد چنّو۔ لطیف احمدِ۔ احمد رضا۔حشمت علی۔ عبیداللہ وا جدی۔اسلم انصاری۔اور مدرسہ سرکار اسی کے اساتذہ کرام کی کافی محنتیں رہیں۔ بلیا ماسٹر قربان عبدالمومن۔عتیق ا لر حمن۔ اشفاق احمد محمد شاہد۔ خورشید احمد۔ محمد اظہر ۔الطاف احمد ۔شاہد پرویز انصاری۔ عقل الرحمن ۔ ونے رائے۔ انیل کمار محمد شمشاد۔ممتاز احمد وغیرہ شامل ہوئے۔ پروگرام کی نظامت ا نجمن ترقی اردو کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر عبدالاول نے کی مولا نا ارشد سراج مکئی کے دعاء کے بعد اس کامیاب جلسے کا اختتام پذیر ہوا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے