لکھنؤ: مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، لکھنؤ میں مولانا ابوالکلام آزاد ڈے کے موقع پر ایک شاندار پروگرام منعقد ہوا، جس میں شہر کی مختلف یونیورسٹیوں اور کالجوں کے اسٹوڈنٹس نے شرکت کی۔
اس مقابلے میں ممتاز پی جی کالج، لکھنؤ کی نمائندگی کرتے ہوئے جمشید فاروقی نے اپنی پُرجوش اور مدلل تقریر کے ذریعے پہلی پوزیشن حاصل کی۔ ان کی تقریر کا عنوان تھا: "ہندوستان میں جدید نظامِ تعلیم اور مولانا ابوالکلام آزاد کی خدمات”۔
اپنے خطاب میں جمشید فاروقی نے کہا کہ مولانا آزاد صرف ایک شخصیت نہیں بلکہ ایک انقلابی فکر کا نام ہے جنہوں نے دینی و عصری علوم میں ہم آہنگی پیدا کی۔
انہوں نے کہا کہ مولانا آزاد کا نظریہ تھا کہ تعلیم ایسی ہونی چاہیے جو زمانے کی رفتار کے ساتھ جڑ سکے۔ انہوں نے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (UGC) اور آل انڈیا کونسل فار سیکنڈری ایجوکیشن کے قیام جیسے تاریخی اقدامات کا ذکر بھی کیا۔
پروگرام کے اختتام پر ججز نے جمشید فاروقی کی تقریر کو نہایت متاثر کن قرار دیتے ہوئے انہیں پہلا انعام دیا۔
