محمدیوسف رحیم بیدری ، بیدر،کرناٹک 

۱۔ ریسرچ 
’’یہ کیالکھتے رہتے ہو۔ صحافت اور ادب ۔ کبھی ریسرچ اور سائنس کی دنیامیں بھی قدم رکھو‘‘ میرے پڑوسی نے کہا۔ اس کی بات سن کر ذہن میں جھمکاساہوا۔ وہ دراصل مجھے نئی راہ دکھارہاتھا۔ ریسرچ اور سائنس کی دنیاکی راہ ۔ میں نے کہا’’کچھ ریسرچ پر غور کیاہے میں نے بھی ‘‘ پڑوسی نے پوچھا’’کیاملاپھر؟‘‘ میں خاموش ہوگیا۔ تذبذب میں تھاکہ بتاؤ یانہیں ۔پھر بھی کہا’’ریسرچ دراصل پتھر کو پالش کرکے ہیرا بنانے کاعمل ہے۔ جس چیز پر بھی ریسرچ کریں گے وہ پتھر ہی ہوگااور ہمیں اس کو ہیرابنانا پڑے گا۔ جو محنت کریں گے و ہ ہیراحاصل کرپائیں گے‘‘
پڑوسی ریسرچر نے کہا’’یارتمہار ادماغ توواقعی ریسرچ کے قابل ہے ‘‘ میں اور بھی کہناچاہتاتھا۔ وقت نہیں تھا۔ سردیوں کے دن بھی تھے،سائنس کی دنیا پر بات کئے بغیر اٹھ کر چلاآیا۔
۲۔ پڑوسی پارٹی 
اس کا سوال تھا’’نتائج میں پڑوسیوں سے مددملتی ہے ‘‘ وہ ایک گہری سانس چھوڑتے ہوئے بولا ’’سارا کھیل اور کھیلا یہ پڑوسی ہی کرتے ہیں ‘‘ اس نے کہا’’میں سمجھانہیں ‘‘ اس نے اس کی طرف دیکھا، یہ سوچ کرکے معصوم ہے یابن رہاہے ؟ پھر بولا ’’پڑوسی ووٹر بھی ہوتاہے اور پڑوسی پارٹیاں بھی ہوتی ہیں۔ اگر پڑوسی پارٹیوں کولگتاہے کہ امیدوار ہمارے حساب کا ہے ، تھوڑا ڈھیلا ہے ، منتخب ہوکر ہماری بات سن سکتاہے تو پارٹیاں بھی اپنا کچھ فیصد ووٹ ادھر ڈال دیتی ہیں اور اگر وہ امیدوار جیت لیتاہے تو اس سے کام بھی لیتے ہیں ‘‘
جواب سننے والے نے کہا’’یہ تو غداری ہوئی ؟‘‘ سمجھایاگیاکہ ’’اس کو غداری نہیں ، اقتدار کے لئے چلی جانے والی چال کہتے ہیں ، کچھ چالیں کامیاب ہوجاتی ہیں اور کچھ نہیں۔ پڑوسی پارٹیوں میں اپناآدمی رکھنا جگرے کاکام ہے ، ایسا کام پارٹیاں کرتی ہیں ‘‘ وہ جواب سن کر حیرت زدہ ر ہ گیا۔
۳۔ پرہیزگار ہستی 
وہ انتہائی پرہیزگار مشہورتھے۔ ہر وقت مسجد میں رہتے تھے یاپھر مسلمانوں تک دین پہنچانے سفر پر ہوتے۔ ان کے محلے اور شہر میں ان کی بڑی عزت تھی۔ لیکن وہ کبھی اپنے پڑوسیوں کے دکھ درد میں شریک نہیں دیکھے گئے۔ البتہ دعوتوں میں جیسے ہی شریک ہوتے ، ان کے تمام شاگرد ان کو گھیر لیتے۔ گھیرکر دعوت کے مقام پر لاکر طعام کے لئے مناسب جگہ بٹھاتے اور دعوت کے بعداپنے جلو میں ان کو ان کے مکان تک چھوڑ آتے۔ عام آدمیوں کی رسائی ان تک مشکل تھی۔ وہ ایک پرہیزگار ہستی تھے۔ان کی دعاؤں میں سنا ہے کہ کافی اثرہے۔
۴۔ کامیاب نتائج 
اورجب تفصیلی باتیں فیس بک پرپڑھیں تو لگنے لگا کہ کہیں اس کاانتقال تو نہیں ہوگیا۔ آخر میں پتہ چلاکہ وہ جیت گیاہے۔لوگوں کواطلاع دینی بھی نہیں آتی۔ سیدھے سیدھے لکھ دیتے کہ موصوف جیت گئے ہیں ۔ نیچے پڑھنے کی ضرورت ہی نہ ہوتی۔ کیوں کہ جیت جانے کامطلب یہ ہے کہ گھاگ آدمی ہے ، اس نے پورے ہتھکنڈے استعمال کئے ہوں گے۔ اور کیا۔ اور اس کی خبراپنے اوپرکے باسیس کو لگنے نہیں دی ہوگی۔ خود کی کوشش سے ہی آدمی اچانک کامیاب نتائج لاسکتاہے۔ آپ کو یقین نہ ہوتو اسی سے پوچھ لیں جوجیت گیاہے۔ وہ قطعی نہیں بتائے گاکہ اس نے کچھ کیاہے۔ سبھی کچھ جتانے والے کے نام کردے گا۔فراخدل آدمی نیک نہیں ہوسکتا۔ ایسا میرا ماننا ہے۔
۵۔ زندگی سفر ہے 
حکم تھاکہ ’’ہم سب کو پڑوسیوں تک پہنچناہے ۔ ان سے حسن ِ سلوک اورمضبوط تعلقات بنانے ہیں ۔ یہ نبی کریم  ﷺ کا حکم ہے ، قرآن میں اس کی تاکید کی گئی ہے ‘‘ امیر صاحب نے پورامنصوبہ بتادیاکہ ہمیں کب کیا کرنا ہے ۔ انفرادی طورپر کیاکرنا ہے اور اجتماعی طورپر کس طرح کام انجام دیناہے۔
پروگرام اچھاتھا۔ پھر میں وہاں سے چلاآیا۔ گھر میں داخل ہواتھاکہ باس کی کال تھی۔ غیرمتوقع طورپر مجھے دہلی جانا تھا۔ جنوبی ہند سے دہلی کاسفر توبہ بھلی ۔ لیکن کچھ نہیں ہوسکتاتھا۔ پندرہ دن کاٹور کرکے واپس آناتھا، انکار کی گنجائش ہی نہیں تھی ورنہ نوکری سے ہاتھ دھونے پڑتے۔ پھر تومجھے پڑوسیوں والے منصوبے پر ’’اناللہ ۔۔۔‘‘ پڑھ کر دہلی کے لئے نکلنا پڑا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے