ایمان، اخلاق اور تزکیۂ نفس پر مؤثر تربیتی اجتماع

کوڈر تال (ہلکولی)، ضلع سدھارتھ نگر: اعتماد فاؤنڈیشن، سکھوئیا ڈبرا، سدھارتھ نگر کے زیرِ اہتمام علاقہ کوڈر تال، پوسٹ ہلکولی میں ایک عظیم الشان دعوتی و اصلاحی پروگرام نہایت نظم و ضبط اور روحانی ماحول میں منعقد ہوا۔ اس بابرکت اجتماع میں علاقے کے عوام و خواص، علماء کرام، طلبہ اور نوجوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ پروگرام کا بنیادی مقصد معاشرے میں دینی شعور کو بیدار کرنا، اخلاقی اقدار کو فروغ دینا اور تزکیۂ نفس کی اہمیت کو اجاگر کرنا تھا۔ اللہ کے فضل سے یہ اجتماع اپنے مقاصد کے اعتبار سے نہایت کامیاب اور مؤثر ثابت ہوا۔

پروگرام کی نظامت کے فرائض فضیلۃ الشیخ عبدالرب سلفی سراجی نے انجام دیے۔ ان کی سنجیدہ، باوقار اور مربوط نظامت نے پورے پروگرام کو ایک مضبوط تسلسل عطا کیا۔ وقت کی پابندی، موضوعات کی مناسبت اور دینی وقار ان کی نظامت کی نمایاں خصوصیات رہیں، جس کی وجہ سے محفل میں نظم و ضبط کے ساتھ ایک روحانی اور پراثر فضا قائم رہی۔

پروگرام کا آغاز حافظ محمد سلمان رشدی کی پُرسوز اور دل نشیں تلاوتِ قرآنِ کریم سے ہوا۔ تلاوت کی آیات نے سامعین کے دلوں کو نرم کیا اور انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ کر دیا۔ اس کے بعد قاری عبدالآخر عرفانی نے نہایت عقیدت و محبت کے ساتھ نعتِ رسول ﷺ پیش کی، جس سے محفل میں عشقِ رسول ﷺ کی کیفیت پیدا ہو گئی اور حاضرین کے دل سنتِ نبوی ﷺ سے وابستگی کی طرف مائل ہو گئے۔

اصلاحی و فکری خطابات

پروگرام کے دوران تین اہم اصلاحی خطابات پیش کیے گئے۔پہلا خطاب فضیلۃ الشیخ عبدالرحمن سلفی نے حقوق العباد کے موضوع پر فرمایا۔ انہوں نے قرآن و حدیث کی روشنی میں واضح کیا کہ محض عبادات پر اکتفا کافی نہیں، بلکہ بندوں کے حقوق کی ادائیگی ایمان کا لازمی تقاضا ہے۔ انہوں نے سامعین کو اپنے روزمرہ معاملات کا محاسبہ کرنے اور ظلم و زیادتی سے بچنے کی تلقین کی۔

دوسرا خطاب حافظ سلمان رشدی نے سات مہلک گناہوں کے عنوان سے پیش کیا۔ انہوں نے نہایت مدلل انداز میں ان گناہوں کی سنگینی بیان کی اور بتایا کہ یہ گناہ فرد کے ساتھ ساتھ پورے معاشرے کو اخلاقی زوال کی طرف لے جاتے ہیں۔ خطاب کے دوران سامعین کو سچی توبہ، اصلاحِ اعمال اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کی بھرپور ترغیب دی گئی۔

تیسرا اور آخری خطاب فضیلۃ الشیخ محمد عرفان سلفی نے تکبر جیسے خطرناک روحانی مرض پر فرمایا۔ انہوں نے واضح کیا کہ تکبر انسان کی ہلاکت اور گمراہی کا سبب بنتا ہے، جبکہ عاجزی، انکساری اور تواضع اللہ تعالیٰ کی رضا اور نجات کا ذریعہ ہیں۔ یہ خطاب اصلاحِ باطن اور تزکیۂ نفس کے حوالے سے نہایت مؤثر ثابت ہوا۔

پروگرام کے اختتام پر یہ بات نمایاں ہو کر سامنے آئی کہ یہ اجتماع محض ایک رسمی جلسہ نہیں بلکہ ایک فکری، اخلاقی اور روحانی تربیت گاہ تھا، جس نے سامعین کے دلوں میں خود احتسابی، اصلاحِ نفس اور عملی تبدیلی کی سچی تڑپ پیدا کی۔

آخر میں اجتماعی دعا کی گئی کہ اللہ تعالیٰ اس دعوتی و اصلاحی پروگرام کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے، اعتماد فاؤنڈیشن کی دینی و اصلاحی کاوشوں کو قبول کرے، تمام خطباء کرام کو جزائے خیر عطا فرمائے اور ہم سب کو سننے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا ربّ العالمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے