سہلاؤ شریف/ممبئی (پریس ریلیز): راجستھان کی عظیم، ممتاز اور علاقۂ تھار کی مرکزی دینی درسگاہ دارالعلوم انوارِ مصطفیٰ سہلاؤ شریف، باڑمیر کے ناظمِ تعلیمات، معروف عالمِ دین،ادیب شہیر حضرت علامہ مولانا محمد شمیم احمد صاحب نوری مصباحی نے اپنے ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ اہلِ سنت و جماعت کے جید عالمِ دین، خلیفۂ حضور تاج الشریعہ، دارالعلوم محبوبِ سبحانی، کرلا ممبئی کے صدر حضرت علامہ سید محمد اکرام الحق صاحب قادری مصباحی کی تازہ ترین تصنیف”افکارِ امامِ اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ”علمی، تحقیقی اور فکری دنیا میں ایک نہایت وقیع، مستند اور قیمتی اضافہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب اس دورِ فتن میں سطحی مطالعہ اور غیر مستند مواد کا غلبہ بڑھتا جا رہا ہے، ایسے وقت میں 546صفحات پر مشتمل یہ ضخیم تصنیف سنجیدہ علمی مزاج رکھنے والوں کے لیے تازہ ہوا کا جھونکا ہے۔ یہ کتاب محض ایک عام تالیف نہیں بلکہ امامِ اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فکری بصیرت، اصولی منہج، اجتہادی شعور، فقہی حکمت اور اعتدالِ فکر کا ایک جامع اور روشن آئینہ ہے۔
مولانا نوری مصباحی نے کہا کہ اس کتاب کی ایک بڑی امتیازی شان یہ ہے کہ اس میں امامِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عظیم الشان قصیدے "قصیدۂ نعمانیہ” کو بنیاد بنا کر عقائد، عبادات، معاملات اور اصولِ فقہ جیسے اہم علمی مباحث کو نہایت محققانہ، مدلل اور مربوط انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ قصیدے کے اشعار سے مستنبط فقہی، کلامی اور فکری نکات نہ صرف امامِ اعظم کی علمی عظمت کو نمایاں کرتے ہیں بلکہ فقہِ اسلامی کی مضبوط علمی بنیادوں کو بھی پوری وضاحت کے ساتھ سامنے لاتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ کتاب کے چند صفحات کے مطالعے اور اس کی تقدیم و تقاریظ سے ہی اس کی علمی اہمیت آشکار ہو جاتی ہے، اور یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ مصنف نے اس کی ترتیب و تدوین میں غیر معمولی محنت، عمیق مطالعہ اور گہری تحقیقی بصیرت سے کام لیا ہے۔ خاص طور پر قصیدۂ نعمانیہ پر کی گئی بحث زبان و بیان کی لطافت، علمی وقار، مضبوط استدلال اور مسلکِ حق اہلِ سنت و جماعت المعروف فی زماننا "مسلکِ اعلیٰ حضرت” کی نہایت متوازن اور مؤثر ترجمانی کا حسین نمونہ ہے۔
مولانا محمد شمیم احمد نوری مصباحی نے اس امر کی بھی تحسین کی کہ کتاب میں امامِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے متعلق پیدا کیے گئے بعض اعتراضات اور شبہات کا نہایت سنجیدہ، علمی اور محققانہ جواب پیش کیا گیا ہے، جو قاری کے ذہن کو علمی اطمینان اور فکری استحکام عطا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس تصنیف کی علمی وقعت اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب اس پر جلیل القدر اہلِ علم کی بصیرت افروز آرا سامنے آتی ہیں۔ بالخصوص
ادیبِ اہلِ سنت،ماہر علوم وفنون حضرت علامہ نفیس احمد صاحب مصباحی شیخُ الادب الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور کی گراں قدر تقریظ،ماہرِ درسیات حضرت علامہ مفتی ساجد علی صاحب مصباحی استاذ و مفتی الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور،
اور شہزادۂ حضور فقیہِ ملت حضرت علامہ مفتی ازہار احمد صاحب مصباحی ازہری صدرُ المدرسین مرکزِ تربیتِ افتاء، اوجھاگنج، بستی کے بصیرت افروز تاثرات نے اس کتاب کو مزید استنادی وزن اور علمی وقار عطا کیا ہے۔
مولانا نوری مصباحی نے کہا کہ حضرت علامہ سید محمد اکرام الحق صاحب قادری مصباحی کی خدماتِ تدریس، تحقیق، تقریر اور تصنیف اہلِ علم سے مخفی نہیں۔ “افکارِ امامِ اعظم” بالخصوص قصیدۂ نعمانیہ پر کی گئی عالمانہ و متوازن بحث ان کے علمی تبحر، مسلکی استقامت اور عشقِ امامِ اعظم کا درخشاں مظہر ہے، جو یقیناً آنے والی نسلوں کے لیے ایک بیش بہا اور قابلِ اعتماد علمی سرمایہ ثابت ہوگی۔
آخر میں انہوں نے بارگاہِ الٰہی میں دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو قبولِ عام عطا فرمائے، مصنفِ کتاب حضرت علامہ سید محمد اکرام الحق صاحب قادری مصباحی کو صحت، عافیت اور درازیٔ عمر نصیب فرمائے، اور ان کے قلم کو مزید روانی عطا کرے تاکہ وہ اسی طرح علمِ دین کی بے لوث خدمت کرتے رہیں۔ آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین الکریم [ﷺ]

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے