ڈاکٹر ماجد داغی، اشوک گروجی اور امر پریہ ہیرے مٹھ کا خطاب

      کلبرگی 12/ جنوری (محمدیوسف رحیم بیدری):  لوک ساہتیہ منچ اپنے دستور و نصب العین کے تحت ہندوستانی تہذیب کی رنگارنگی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے ذریعہ ہمہ لسانی تخلیقِ ادب کو فروغ دینے اور تمام مذاہب کے ماننے والوں میں بھائی چارہ، قومی یکجہتی اور اخوت کو فروغ دینے گزشتہ 28 برسوں سے سرگرمِ عمل ہے ان خیالات کا اظہار بانی معتمد و موجودہ صدر لوک ساہتیہ منچ گلبرگہ ڈاکٹر ماجد داغی نے اپنے صدارتی خطاب میں کیا انہوں نے کہا کہ لوک ساہتیہ منچ کا قیام 3 / مئی 1997ء کو ایک تاریخی اجلاس میں لیا گیا جس میں اردو کے شیدائی شری وشواناتھ ریڈی مدنال سابق ریاستی وزیر ، ڈاکٹر وہاب عندلیب سابق صدرنشین کرناٹک اردواکیڈمی اور ممتاز شاعر محب کوثر کے بشمول مختلف زبانوں سے تعلق رکھنے والے ادباء، شعراء، دانشوروں، صحافیوں اور فنکاروں کی کثیر تعداد موجود تھی. اس اجلاس میں اتفاق رائے سے شری ودیا دھر گروجی کو صدر، ڈاکٹر سید مجیب الرحمن کو جنرل سیکرٹری اور ڈاکٹر ماجد داغی کو سیکریٹری منتخب کیا گیا تھا .
                انہوں نے لوک ساہتیہ منچ کے پریمبل پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس کا پریمبل دو بڑے مذاہب کی مقدس کتابوں سے ماخوذ  ہے جس میں عظیم ہندوستان کی تاریخ و ثقافت کو بنیادی درجہ دیا گیا ہے کہ  اے انسانو ہم نے تم کو ایک مرد و عورت سے پیدا کیا اور تمہیں مختلف قوموں اور قبیلوں میں پھیلادیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو اللہ کی نگاہ میں عزت والا وہی ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہو اور اسی طرح سچائی اچھائی اورحسن ہی میں فن کا کمال ہے ، سارے دھرموں کا احترام مساویانہ طور پر کیا جائے ، ساری دھرتی ایک خاندان ہے اور کائنات کی ساری مخلوق کے ساتھ انصاف ہو جیسے احکامات شامل ہیں ۔ مسٹر اشوک گروجی صدر کرناٹک ہندی پرچار سبھا نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں موجودہ رساکشی اور منافرت کا ماحول ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم ہندوستانی تہذیب کی اعلی قدروں کو پامال ہونے سے محفوظ رکھیں اور گنگا جمنی تہذیب و ثقافت کو مستحکم کرنے تمام زبانوں، مذاہب اور علاقوں میں کسی امتیاز کے بغیر لوک ساہتیہ منچ سے استوار ہوکر اپنے اپنے فن اور تخلیقات کے ذریعے مل جل کر رہنے کے پیغام کو عام کریں تاکہ ہماری یکجہتی ہمیشہ مضبوط و پائدار رہے اور لوک ساہتیہ منچ کا عین مقصد بھی یہی ہے کہ ہندوستان کی حقیقی روح کو محفوظ رکھتے ہوئے معاشرے کو خوشحال اور ترقی یافتہ بنائیں ۔ انہوں نے کہا کہ لوک ساہتیہ منچ کے اجلاس سے ہمیشہ ادبی محفلوں اور مشاعروں کا انعقاد عمل میں لایا جاتا ہے جس میں ہندی ، کنڑا ، اردو ، مراٹھی ، تلگو ، سنسکرت اور انگریزی زبانوں کے قلم کار اپنے اپنے افسانے ، مضامین ، شاعری اور ڈرامے وغیرہ پیش کرتے ہیں.  اجلاس کا آغاز کماری میگھنا ہیرے مٹھ کی دیش بھکتی گیت سے ہوا اور مہمانِ خصوصی ممتاز شاعر و گلوکار پروفیسر امر پریہ ہیرے مٹھ نے ساز پر اپنا کلام پیش کر کے سَماں باندھ دیا اور خوب داد و تحسین حاصل کی بعد ازاں ، شریمتی منگلا کپرے ، شریمتی ششی کلا جی، شریمتی بھاگیہ لتا ریڈی جی ، شریمتی ساویتری جی ، شریمتی نیلّما ہیرے مٹھ جی شاعرات کے علاوہ شری نرسنگ راؤ اور شری بھیم راؤ بینور نے بھی اپنا کلام پیش کیا شریمتی شیاملا کلکرنی سیکریٹری لوک ساہتیہ منچ نے بحسن خوبی نظامت کے فرائض انجام دیں  ۔ خصوصی مدعوین میں سینئر صحافی جناب مبین احمد زخم اور جناب حیدر علی باغبان رکن وقف مشاورتی کمیٹی گلبرگہ بھی شریکِ اجلاس تھے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے