حیدر آباد 12/ جنوری (مشرقی آوازجدید): حضرت مولانا شاہ سید احسان الدین صاحب مدظلہ صدر جمعیة علماء تلنگانہ اور محترم حافظ پیر خلیق احمد صابر صاحب نے کہا کہ آج صبح کی اولین ساعتوں میں یہ نہایت المناک خبر سنے کو ملی کہ ہزاروں علماء کرام کے شفیق استاد امیر شریعت وشیخ الحدیث دار العلوم سبیل الرشاد بنگلور صو بہ کرنا ایک حضرت مولانا صغیر احمد خان صاحب رشادی صاحب ایک طویل علالت کے بعد اپنا سفر زندگی مکمل کر کے عالم عقبی کے سفر پر روانہ ہو گئے ۔ انا للہ دنا الیہ راجعون ۔ حضرت والا نے علوم اسلامیہ کی بڑی قابل قدر خدمت کو انجام دیا، علم حدیث ان کا خاص موضوع تھا حضرت کی وفات ملت اسلامیہ کیلئے اور میرے لئے ایک نہایت تکلیف دہ واقعہ ہے۔ آپ طلباء عزیز کیلئے بڑے ہی مشفق اور مہربان تھے۔ آپ دار العلوم سبیل الرشاد کے ایک عظیم محدث تھے مسند حدیث پر آپ کا انوکھا انداز تھا۔ آپ کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا وہ اپنے کردار میں اسلاف کی جیتی جاگتی تصویر تھے۔ آپ کی وفات علم و عرفان کی موت ہے آپ کا سانحہ موت العالم موت العالم کی مصداق انسانیت کا نقصان ہے آپ کی وفات سے جہاں اہل علم کے حلقے ایک محدث محقق اور قادر الکلام خطیب سے محروم ہو گئے وہاں قلوب عظیم روحانی پیشوا سے بھی محروم ہو گئے ۔ آپ حضرت مفتی اشرف علی باقوی صاحب کے حقیقی جانشین اور حساب بزرگ تھے اپنی پوری زندگی درس وتدرس اور واعظ ونصیحت میں گزاری علم دین کی اشاعت اور اس کی ترویج آپ کی زندگی کا اوڑھنا اور بچھونا تھا۔ حضرت کی زندگی سادگی، تقوی ، اخلاص، مسلکی استقامت اور اکابر سے گہری وابستگی کا عملی نمونہ تھی ۔ بلاشبہ حضرت کا انتقال علمی و دینی دنیا کے لیے ایک عظیم خلا ہے، جس کا پُر ہونا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ حضرت مولانا شاہ احسان الدین صاحب قاسمی صدر جمعیت علماء تنگانہ اور محترم حافظ پیر خلیق احمد صابر صاحب خادم جمعیت علماء تلنگانہ نے اپنے گہرے رنج و دکھ کا اظہار کیا۔ اور ان کے اہل خانہ کی خدمت میں تعزیت مسنونہ پیش کیا اور کہا کہ ہم اللہ رب العزت سے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ حضرت کی مغفرت فرمائے ، ان کے درجات کو بلند فرمائے ، اور ان قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنائے ، اور پسماندگان، متعلقین ، شاگردوں اور تمام اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔ آمین یا رب العالمین ۔ اسی طرح صدر محترم نے جمعیت علماء تلنگانہ کے ضلعی صد رو نظمائے اعلی اور کارکنان جمعیہ سے ایصال ثواب کی درخواست کی ہے۔۔۔
