(فخرالدین ریاضی ناظم جمیعت اہل حدیث حلقہ اٹوا بازار سدھارتھنگر یوپی)

قبر کی تیاری اور آخرت کی کامیابی پر مدلل اور اثر انگیز خطاب

تحریر: صفی الرحمن فرقانوی

بتاریخ: 23 جنوری 2026 بروز: جمعہ

مقام: جامع مسجد اہلِ حدیث، اتحاد ملت اٹوا بازار، ضلع سدھارتھ نگر، اتر پردیش

جامع مسجد اہلِ حدیث، اتحاد ملت اٹوا بازار میں نمازِ جمعہ کے موقع پر ایک نہایت ایمان افروز، دلوں کو جھنجھوڑ دینے والا اور فکرِ آخرت کو بیدار کرنے والا خطبہ ارشاد فرمایا گیا، جس میں قبر کی تیاری اور آخرت کی کامیابی جیسے نہایت اہم اور بنیادی موضوع پر جامع گفتگو کی گئی۔ اس روح پرور اجتماع سے مسجد کا ہر گوشہ خشیتِ الٰہی اور نورِ نصیحت سے منور ہو گیا۔ خطبہ فضیلۃ الشیخ فخرالدین ریاضی حفظہ اللہ، ناظم جمعیت اہلِ حدیث حلقہ اٹوا بازار نے ارشاد فرمایا۔

خطبے کے آغاز میں اللہ ربّ العالمین کی کبریائی، عظمت اور حمد و ثنا بیان کی گئی اور اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی گئی کہ ایمان، صحت، تندرستی اور زندگی جیسی عظیم نعمتیں اللہ تعالیٰ ہی کی عطا کردہ ہیں، اور اسی کا شکر ادا کرنا ہر بندے پر لازم ہے۔ تمام انبیائے کرام علیہم السلام خصوصاً خاتم النبیین حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر درود و سلام پیش کیا گیا، جنہیں اللہ تعالیٰ نے پوری انسانیت کے لیے کامل اسوہ اور رہبر بنا کر بھیجا۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ شریعتِ محمدی ﷺ پر عمل میں ہی دنیا و آخرت کی کامیابی پوشیدہ ہے، جبکہ اس سے روگردانی خسارے کا سبب بنتی ہے۔

شیخ محترم نے واضح فرمایا کہ مسلمان اس عقیدے پر یقین رکھتے ہیں کہ یہ دنیا دارالعمل ہے اور آخرت دارالجزاء۔ انسان کو محض کھیل تماشے کے لیے نہیں بلکہ عبادت اور اطاعت کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں قرآنِ مجید کی آیت تلاوت کی گئی: وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاریات: 56)

اسی طرح یہ آیت بھی بیان کی گئی:

الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا (الملک: 2) جس سے واضح ہوتا ہے کہ زندگی اور موت کا مقصد انسان کے اعمال کا امتحان ہے۔

خطبے میں اس حقیقت کی یاد دہانی کرائی گئی کہ ہر انسان کو ایک دن موت کا ذائقہ چکھنا ہے، جیسا کہ قرآن میں فرمایا گیا: كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ (آل عمران: 185)

موت کے بعد انسانی زندگی ختم نہیں ہوتی بلکہ برزخ کی زندگی شروع ہو جاتی ہے جسے قبر کی زندگی کہا جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے فرمان کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ قبر یا تو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا۔

شیخ محترم نے قبر میں ہونے والے سوالات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ منکر و نکیر انسان سے تین بنیادی سوال کریں گے: تیرا رب کون ہے؟ تیرا دین کیا ہے؟ تیرے نبی کون ہیں؟ اگر بندہ دنیا میں ایمان اور عملِ صالح کے ساتھ زندگی گزارتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے صحیح جواب کی توفیق عطا فرماتا ہے، جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہے: يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ (ابراہیم: 27)

خطبے میں عذابِ قبر کی حقانیت کو بھی واضح کیا گیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت بیان کی گئی کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: نَعَمْ، عَذَابُ الْقَبْرِ حَقٌّ (بخاری) اور یہ بھی بتایا گیا کہ رسول اللہ ﷺ خود عذابِ قبر سے پناہ مانگا کرتے تھے۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا واقعہ سنایا گیا کہ وہ قبر کو دیکھ کر بہت زیادہ روتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ قبر آخرت کی پہلی منزل ہے۔

شیخ محترم نے نہایت درد بھرے انداز میں فرمایا کہ آج انسان دنیاوی امتحانات کے لیے تو بھرپور محنت کرتا ہے مگر قبر اور آخرت کے یقینی امتحان کی تیاری سے غافل ہے، حالانکہ اس کے سوالات پہلے ہی واضح کر دیے گئے ہیں۔ کھلے گناہوں سے بچنے کی سخت تاکید کرتے ہوئے حدیث پیش کی گئی: كُلُّ أُمَّتِي مُعَافًى إِلَّا الْمُجَاهِرِينَ (بخاری)

خطبے میں یہ بھی بیان کیا گیا کہ قبر کا مرحلہ انتہائی سخت ہے۔ جانور قبر کے عذاب کو محسوس کرتے ہیں لیکن انسانوں پر اللہ تعالیٰ نے پردہ رکھا ہے تاکہ دنیا کا نظام قائم رہ سکے۔ اگر انسان قبر کے مناظر کو دیکھ لے تو کسی کو دفن کرنے کی ہمت نہ ہو۔

مزید فرمایا گیا کہ جو شخص ایمان، تقویٰ، نماز کی پابندی، حقوق العباد کی ادائیگی اور سنتِ رسول ﷺ پر مضبوطی سے قائم رہتا ہے، اس کے لیے قبر رحمت کا گہوارہ بن جاتی ہے اور جنت کی خوشخبری نصیب ہوتی ہے۔

آخر میں فضیلۃ الشیخ فخرالدین ریاضی حفظہ اللہ نے نہایت رقت آمیز دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو قبر کے عذاب سے محفوظ رکھے، ہمارے لیے قبر اور حشر کے مراحل آسان فرمائے، ہمیں اخلاص کے ساتھ عمل کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں جنت الفردوس کا وارث بنائے۔ آمین۔

یہ ایمان افروز خطبہ علم، نصیحت، عبرت اور اصلاح کا حسین مجموعہ ثابت ہوا جس نے حاضرین کے دلوں میں آخرت کی فکر تازہ کر دی۔ اللہ تعالیٰ خطیب محترم کی دینی خدمات کو قبول فرمائے اور ہم سب کو اس نصیحت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے