بیدر۔ 24؍جنوری ۔(محمدیوسف رحیم بیدری): فیڈریشن آف مینارٹیز ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنس (فیمی) کرناٹک چاپٹر نے الہ آباد ہائی کورٹ (لکھنؤ بنچ) کے 16؍ جنوری 2026 کو سنائے گئے حالیہ فیصلے کاخیرمقدم کیاہے جس میں اقلیتی تعلیمی اداروں کے آئینی حقوق کی توثیق کی گئی ہے اور اترپردیش میں غیرمنظور شدہ (غیرتسلیم شدہ) مدارس کے کام کاج سے متعلق قانونی صورت ِ حال کو واضح کیاگیاہے۔ اس فیصلے پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے جناب محمد آصف الدین جنرل سکریڑی فیمی کرناٹکا چاپٹر نے کہاکہ ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ اقلیتی تعلیم کے حوالے سے دور رس اور طویل مدتی اثرات کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ آئین ہند کے آرٹیکل 30 کی روح کو مضبوطی ملتی ہے، جو مذہبی اور لسانی اقلیتوں کو اپنے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور ان کا نظم و نسق چلانے کا حق دیتا ہے۔ انہوں نے ملک بھر کے مدارس کے منتظمین کے لئے نیک تمناؤں کا بھی اظہار کیا۔معزز عدالت نے ایک ایسے سرکاری حکم کو منسوخ کر دیا، جس کے تحت ایک غیر منظور شدہ مدرسے کو بند اور سیل کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ عدالت نے واضح کیا کہ محض عدم منظوری کی بنیاد پر کسی مدرسے کو بند کرنے کا اختیار متعلقہ حکام کو دینے والی کوئی قانونی شق موجود نہیں ہے۔ عدالت نے دوٹوک انداز میں کہا کہ وہ اقلیتی تعلیمی ادارے جو سرکاری امداد یا رسمی منظوری کے خواہاں نہیں ہیں، آئین کے آرٹیکل 30(1) کے تحت تحفظ کے حق دار ہیں۔تاہم عدالت نے یہ بھی وضاحت کی کہ غیر منظور شدہ ادارے سرکاری گرانٹس کے حقدار نہیں ہوتے اور ایسے اداروں میں زیرِ تعلیم طلبہ اس وقت تک بورڈ کے امتحانات یا دیگر سرکاری سہولتوں کے اہل نہیں ہوسکتے، جب تک ادارہ باقاعدہ منظوری حاصل نہ کر لے۔یہ فیصلہ آئینی تحفظات اور ضابطہ جاتی تقاضوں کے درمیان ایک متوازن نقطہ ء نظر پیش کرتا ہے۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی تعلیمی ادارے کو بند کرنے جیسا انتہائی اقدام بغیر کسی واضح قانونی اختیار کے جائز نہیں ہو سکتا۔ البتہ تسلیم شدہ اداروں کے لئے معیارات برقرار رکھنے میں ریاست کے جائز مفادات کو بھی تسلیم کیا گیا ہے۔فیمی کے مطابق یہ فیصلہ آئینی بالادستی کی ایک اہم توثیق ہے اور اقلیتی حقوق اور تعلیمی نظم و نسق سے متعلق جاری مباحث کے درمیان نہایت ضروری وضاحت فراہم کرتا ہے۔ یہ فیصلہ ایک مرتبہ پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ عدلیہ اقلیتی برادریوں کے آئینی حقوق کے تحفظ کے ساتھ ساتھ قانونی فریم ورک کی پاسداری کو یقینی بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔جناب محمد آصف الدین نے کہاکہ اس موقع پر ہم مدارس کے طلباء جو دسویں اور بارہویں کے امتحانات اسٹیٹ بورڈ یا National Institute of Open Schooling (NIOS)کے ذریعہ امتحانات دینا چاہتے ہیں ، انہیں فیمی کے توسط سے سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ ا س سلسلہ میں سید علی سر کے فون نمبر 8951598889 پررابطہ کیاجاسکتاہے۔
