جمعیت اہل حدیث حلقہ اٹوا سدھارتھنگر یوپی کے نائب امیر ابومعاذ عبدالعلیم محمدتفسیر کا خطاب عام

اٹوا(سدھارتھ نگر): 26 جنوری یوم جمہوریہ کے موقع پر مدرسہ مصباح العلوم رسول پور ڈومریا گنج سدھارتھ نگر میں پرچم کشائی اور بچوں کے دیگر دلکش پروگرام پیش کئے جانے کے بعد جمعیت اہل حدیث حلقہ اٹوا سدھارتھ نگر کے نائب امیر جناب مولانا ابومعاذ عبدالعلیم محمدتفسیر کا خصوصی خطاب بھی ہوا جس میں انھوں نے فرمایا: صدر مجلس اساتذہ کرام و دیگر حاضرین عظام عزیز طلبہ و طالبات السلام علیکم رحمۃ اللہ وبرکاتہ محترم حضرات! آج آپ لوگوں کے سامنے 26 جنوری یوم جمہوریہ کے بارے میں چند منٹ روشنی ڈالوں گا، اس تاریخ اور دن یعنی یوم جمہوریہ کے بارے میں دو باتیں بتلانا چاہتا ہوں پہلی بات یہ ہے کہ ہمارے ملک ہندوستان میں آج کے دن جھنڈا پھرایا جاتا ہے۔ یہ جھنڈا ملک کی عظمت و وقار کی شناخت ہے، پرانے زمانے میں قوم کی شناخت کے لیے یہی طریقہ رائج تھا، ہر قوم اپنی شناخت کے لیے کسی جھنڈے کا انتخاب کرتی تھی تاکہ دوسروں اور غیروں کے مقابلے میں اپنی انفرادیت اور یکسانیت کو باقی رکھ سکیں، ہمارے ملک ہندوستان کو سن 1947عیسوی کی آزادی کے بعد ایک جھنڈے کی ضرورت تھی اس ضرورت کے تحت 23 جون سن 1947عیسوی کو ملک کے رہنما لوگوں کی ایک کمیٹی بنی جس میں امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ، راجیندر پرساد، کے،این پارٹی کر سروجنی نائڈو گوپال آچاریہ جیسی شخصیات شامل تھیں۔ اور یہ بات بھی بتائی ہوئی کی جھنڈے کا رنگ مختلف مذاہب کا عکس ہو جسے اخری شکل دے کر 16 اگست سن 1947 عیسوی کو بوقت شام 10 بج کر 40 منٹ پر پارلیمنٹ ہاؤس میں لایا گیا۔ ہمارے دیش آزاد ہندوستان میں پہلا ترنگا 15 اگست سن1947عیسوی صبح ساڑھے اٹھ بجے دہلی لال قلعہ پر لہرایا گیا۔ اس موقع پر جواہل لال نہرو نے اتحاد و اتفاق کی ضرورت کے موضوع پر پرجوش تقریر کی تھی۔ یہ جھنڈا قربانی، امن و شانتی، خوشحالی اور فارغ البانی کا سندیش دیتا ہے۔ دوسری بات یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارے ملک ہندوستان میں دستوری اور قانونی بورڈ بنایا گیا، جس میں مختلف حضرات شامل رہے البتہ اس کے سرخیل اور میرکارواں ڈاکٹر امبیڈکر جی تھے، ان کی سرکردگی اور رہنمائی میں دستور سازی کی گئی جس کا نفاذ 26 جنوری سن 1952 عیسوی میں ہوا۔ یہ دستور ہمارے ملک ہندوستان کے باشندوں کو تعلیمی معاشی سیاسی اور مذہبی حقوق دیتا ہے۔ اس لۓ کہ 15 اگست کی طرح 26 جنوری کو بھی ہرسال بطور خوشی ترنگا جھنڈا پھرایا جاتا ہے۔ اس کا اصل مظاہرہ ہمارے ملک ہندوستان کی راجدھانی دہلی میں ہوتا ہے۔ کہنے کو تو ہمارا ملک جمہوری ہے، اس پر جتنا خوشی کا اظہار کیا جاۓ کم ہے کیوں کہ دستوری طور پر ہر مذہب کے ماننے کو یکساں ترقی کرنے اور اپنے مذہب پر عمل کرنے کا حق حاصل ہے مگر افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ بعض عناصر اس دستور کی دھجیاں اڑانے پر لگے ہوۓ ہیں ہمیں چاہیۓ کہ ایسے افراد جو ملک کو برباد کرنا چاہتے ہیں ان کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جاۓ تاکہ ہمارے ملک ہندوستان میں ترقی کی رکاوٹ نہ ہو اب انہیں باتوں پر اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمیں اور ہمارے ملک ہندوستان کی ہرطرح سے حفاظت فرماۓ آمین۔۔۔۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے