اظفر منصور 

لکھنؤ یونیورسٹی کے کیمپس میں ایک 200 سالہ قدیم بوسیدہ و لڑکھڑاتی سرخ عمارت بنام لال بارہ دری کے ایک حصے میں 1820ء سے ایک مسجد کھڑی ہے، طرزِ تعمیر ایسا کہ گویا امام باڑہ ہو، مگر شنید ہے کہ رمضان کے مبارک ماہ میں عدم توجہی کی شکار یہ بوسیدہ مسجد 22 فروری بروز اتوار طلباء کے لئے بند کر دی گئی، نفرت کی ہوائیں سیاست کی گلیاروں سے نکل کر تجارت کے بازاروں سے ہوتے ہوئے تعلیم گاہوں میں داخل ہو چکی ہیں، ورنہ یونیورسٹی کے ذمہ داروں کو یہ جرأت نہیں ہوتی کہ وہ اپنی یونیورسٹی کے ایسے پارٹ کو بند کرنے کا فرمان جاری کریں جو خود ان کے وجود کی گواہی دے رہا ہے۔
لکھنؤ یونیورسٹی نے عذر یہ بتایا کہ عمارت مخدوش ہو گئی ہے، ہاں واقعی یہ عمارت خستہ تر ہے، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ انتظامیہ نے اپنے جانبدار فیصلہ پر خستہ حالی کا غلاف چڑھایا ہے، ورنہ 1820 سے جس مسجد میں نماز ہو رہی ہو، جس نے ہندوستان کے پیچ و خم، نشیب و فراز کی صبح و شام دیکھی ہو وہ بغیر کسی پیشگی اطلاع کے بند نہیں کر دی جاتی۔
یونیورسٹی کو احساس ہونا چاہیے کہ اس کا وجود جس کے تن بدن پر کھڑا ہے اسے ہی ہم مسجد جانے سے روک رہے ہیں۔ لکھنؤ یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ کے یونیورسٹی کی تاریخ کے سیشن میں یہ اعتراف واضح لفظوں میں درج ہے کہ اس یونیورسٹی کا سب سے پہلا تخیل و آئیڈیا راجہ سر محمد علی محمد خان، خان بہادر، کے․سی․آئی․ای (محمود آباد) نے اخبار “دی پائنیر” میں ایک مضمون لکھ کر پیش کیا تھا۔ بعد ازیں انہیں کی مکمل کوشش و توجہ نیز اپنے دیگر راجا دوستوں کی مالی تائیدی مدد سے یونیورسٹی کا خواب شرمندہ تعبیر کیا۔ یونیورسٹی نے اپنی سائٹ پر ایک حقیقت ان الفاظ میں لکھی ہے "To this, the generous taluqdars of Oudh added an endowment of nearly Rupees thirty lakhs” اس میں اودھ کے کون لوگ اس قدر خطیر تعاون کر سکتے تھے، اسے دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس لئے یونیورسٹی انتظامیہ کو اپنے جبری فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہیے، انہیں دیکھنا چاہئے کہ ہم کس قوم کے جذبات کو کچل کر اپنی نفرت و انا کی تسکین کا سامان کر رہے ہیں۔ کیمپس میں احتجاج کر رہے طلباء وہاں پڑھنے گئے ہیں، مگر انہیں سراپا احتجاج بنا دیا گیا ہے۔ اس احتجاج سے ایک اچھی تصویر یہ سامنے آئی کہ اس اقدام کے خلاف تمام قوم کے طلباء مسلم طلباء کے سپورٹ میں آ گئے ہیں۔ حتیٰ کہ ہندو برادران نے انسانی زنجیر بنا کر مسجد کے باہر نماز پڑھ رہے طلباء کی حفاظت کی ذمہ داری بھی اٹھا لی ہے۔
ہمیں امید ہے یونیورسٹی کے بیشمار مسلم و غیر مسلم اساتذہ کرام سے کہ وہ ہوا کے رخ پر چلنے کے بجائے اپنے علم و تحقیق پر اعتماد کرتے ہوئے تعلیم یافتہ فرد ہونے کا ثبوت دیں گے۔ ان شاءاللہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے