محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک
۱۔ پرند ہ جال
جب تک کہ سسٹم کھول کر اس پر افسانچے لکھتا، آئے ہوئے خیال پرندے اُڑاُڑ گئے ۔اورجو باقی خیال ملے وہ زمین پر رینگ رہے تھے۔ پریشان ہوگیاکہپرندے کہاں گئے ؟ سمجھ میں آگیا’’ پرندہ جال کے بغیر پرندوں کاپکڑنا آسان نہیں ہوتا۔سیکنڈوں میں خیال پرندے پھر سے اڑجاتے ہیں ‘‘
۲۔ عفریتی مستقبل
آپ اگر اس دنیا میں رہتے ہیں تو پتہ ہوگاکہ دنیا حالت ِ جنگ میں ہے۔ ہاہاکار مچاہواہے۔ دونے مل کر سوچ سمجھ کر پوری منصوبہ بندی اور چالاکی سے ایک پربات چیت کے مرحلے میں ہی حملہ کردیاہے۔ دونوں حملہ آوروں کے حلیف بہت سے ہیں لیکن سامنے کوئی نہیں آیا۔ ایک اکیلا کہلانے والا’’ تنہا ‘‘کے بھی حلیف ہیں ، وہ حلیف بھی خم ٹھونک کراپنے بحری بیڑوں کے ساتھ سامنے نہیں آئے ۔ عام آدمی کی حیثیت سے فرخ سوچ رہاہے کہ۔۔۔۔’’۔حلیف مددکو آئیں گے تو حریفان جان وایمان کی شیطانیت بڑھ جائے گی ۔شاید مجھے یہ منظر بھی دیکھنا اور اخبار وسوشیل میڈیا پرپڑھنا ہی ہے‘‘۔جنگ کی حالت میں فروخت کی جانے والی مہنگی ترکاری خریدتے ہوئے فرخ یہ بھی سوچ رہاتھاکہ’’ میں ایک پڑھا لکھاشخص ہوں ۔ پڑھ ہی سکتاہوں، مجھ میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ دنیا کی جیب ، اس کے دماغ اور آنے والی نسل کے مستقبل پر ہونے والے اِن میزائل حملوں کو روک سکوں ، بہت سے لوگ اس جنگ سے حظ اٹھارہے ہیں ، میں ہوں کہ آنے والے ایک بھیانک عفریتی مستقبل سے تھرتھر کانپ رہاہوں ‘‘فرخ نے ترکاری کی رقم الیکٹرانک ہندسوںسے ادا کی اور واپس گھر جاتے ہوئے سوچنے لگاکہ ’’سناہے، مستقبل کی قائد نسل جنگ کی اس حالت میں بھی کالجوں اور یونیورسٹیز میں پڑھ رہی ہے، اپنے اپنے خوفناک مستقبل کے قبل ازوقت امتحان سے بے خبریہ مصنوعی معصوم موجودہ امتحان لکھ رہے ہیں۔ ان مصنوعی معصوموں سے کہاگیاہے کہ کالج اور یونیورسٹی کیمپس میں جنگ کے خلاف احتجاج بلند نہ کریں ۔ایسا ہواتو ہمارے ملک کا مستقبل موت کے سوداگر دو ضدی تباہ کرسکتے ہیں ‘‘۔صحافی اور کیمرے کی آنکھ (دونوں باخبر) سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔ اور اس کے بارے میں ابھی سے کچھ لکھنا یا صورتحال کو عام کرنا نہیں چاہتے کہ آرٹی فیشنل انٹلی جنسی رکھنے والی آج کی دنیا نہایت ہی بزدل اور تماشائی ہے ،وہ دو منہ زور حماقت زدہ طاقت وروں کی کلائی پکڑ کر موڑنے اور اس کا بھرکس نکالنے کیلئے اس پر ہاتھ ڈالنے کی اخلاقیات سے بے بہرہ ہوچکی ہے۔
۳۔ دودشمن
فون پر بات ہورہی تھی ، اچانک ہونے والے یہودونصاریٰ کے مشترکہ حملے زیر بحث تھے ’’رسول اللہ ﷺکے ابتدائی اور ازلی دشمنوں نے مسیح ابن مریم ؑ کی وارث ہونے کادعویٰ کرنے والی قوم کے ساتھ مل کر آل ِ رسول کہلانے والی قوم پر دھوکے سے حملہ کرتے ہوئے انہیں نیست ونابودکرنے کابیڑا اٹھالیاہے اورتم کیاکررہے ہو؟ یہ لوگ توانسانیت کے بھی دشمن ہیں، دجال کی وارث اولادیں ہیں۔ کیوں کہ دجال کے وارث پہلے پیدا ہوتے ہیں پھر دجال نکل آنا ہے تاکہ وہ مارا جاسکے ‘‘کہاگیا’’ہم کعبہ کی حفاظت میں لگے ہوئے ہیں،اس سے ہٹ کر کچھ سننا نہیں چاہتے‘‘ جواب دیاگیا، جواب میں غصہ تھا’’تمہارے آباء تو ابرہاکے حملے کے وقت اسی کعبہ کو کعبہ والے کے حوالے کرکے چھوڑ بھاگے تھے ۔ تم کیاخاک کعبہ کی حفاظت کروگے ،سنو! دجال کے وارث کعبہ تک پہنچ نہیں سکتے کیوں کہ خود دجال وہاں تک نہیں پہنچ پاتاہے، یہ سب باتیں کتابوں میںدرج ہیں‘‘کہنے لگے ’’ہمیں نہیں پتہ کہ کعبہ تک دجال نہیں پہنچے گالیکن ہم کعبہ کی حفاظت پر مامور ہیں ۔ اس ون پوائنٹ پروگرام سے ہٹ کر کچھ سننانہیں چاہتے ‘‘
فون پر آخری کوشش کرتے ہوئے کہاگیاکہ ’’کعبہ کو بچانے کی فکر میں آل ِ رسول ہونے کے دعوے داروں کے ازلی دشمنوں کاساتھ نہ دو،یہ وہ دودشمن ِ ایمان ہیں جو آخر کار تمہاری جانوں کو بھی نہیں بخشیں گے ‘‘اُدھرسے آخرتک کعبہ کی حفاظت کی دہائی ملتی رہی اور مثالیں پیش کی جاتی رہیں۔ تھک ہارکر فون رکھ دیاگیا۔ بات سمجھ میں آگئی تھی کہ دراصل خرابی صرف علم میں نہیں ہے بلکہ دماغ صحیح فیصلہ لینے سے قاصر ہے۔ کوئی کیاکرسکتاہے ؟اگرکچھ کرسکتاہے تو ضرور کرے اور وقت رہتے کرے۔ فوراً کرے ۔
