Ramzan Specail By Abdul Mubeen Mansoori Siddharth Nagar

*مسجد کی تعظیم و تکریم میں ذرہ برابر بھی کوتاہی یا غفلت نہیں برتنی چاہیے*

*رمضان المبارک کا یہ بابرکت مہینہ مسلمانوں کے لیے ایک تربیتی یعنی ٹریننگ کیمپ کے مہینہ جیسا ہوتا ہے*

(رمضان المبارک ا سپیشل)

(عبدالمبین منصوری)
سدھارتھ نگر:
رمضان المبارک کا مقدس مہینہ شروع ہوتے ہی مسجدوں کی رونق میں اضافہ ہو جاتا ہے اور نمازیوں کی کثیر تعداددیکھنے کو ملتی ہے۔جن میں بچے ، بزرگ اور نوجوان سب یکساں طور پر نماز پڑھتے ہیں۔ تاہم جیسے جیسے رمضان المبارک کا مہینہ گزرتا جاتا ہے او رعید کے قریب آتے ہی نمازیوں کی تعداد کم ہونا شروع ہو جاتی ہے۔
مسجدوں میں نمازیوں کی تعداد کم ہونے لگتی ہے۔اس حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں حافظ و قاری محمد شاکر حسین نوری مصباحی نے تفصیل سے بتایا کہ رمضان المبارک کے آغاز کے ساتھ ہی بڑے سے بڑے شیطان بھی قید کر دیےجاتے ہیں لیکن سب سے بڑا شیطان انسان کا نفس ہوتا ہے۔ اگر انسان اپنے نفس کو قابو میں کر لے تو وہ سب سے زیادہ متقی اور پرہیزگار بن جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مسلمانوں کو پورے سال پانچ وقت کی نماز کی پابندی کرنی چاہیے۔ رمضان المبارک کا یہ بابرکت مہینہ ہمیں یہ درس اور سبق دیتا ہے کہ ہمیں صرف رمضان میں ہی نہیں بلکہ پوری زندگی جھوٹ نہیں بولنا چاہیے اور ہمیں ہر وقت چھوٹے، بڑے گناہوں سے پاک و صاف رہنا چاہیے۔ ہمیں ہمیشہ غریبوں، یتیموں، لاچاروں، بے سہاراوں اور بیواؤں کی مدد کرنی چاہیے۔
حافظ محمد شفیق رضوی نے بتایا کہ رمضان المبارک کا یہ بابرکت مہینہ مسلمانوں کے لیے ایک تربیتی یعنی ٹریننگ کیمپ کے مہینہ جیسا ہوتا ہےجس میں مسلمان اسلام کے تمام قوانین پرعمل پیرا ہونے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔
اسی تناظر میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر حافظ توصیف احمد علوی نے کہا کہ مسجد میں ہونے والی نماز تراویح میں بزرگوں اور بچوں کے ساتھ ۔ساتھ لاغر اور بیمار لوگوں کا بھی خاص خیال رکھتے ہوئے حفاظ کرام کو زیادہ لمبی رکعتیں نہیں پڑھانی چاہئے
انہوں نےمزید کہا کہ کچھ لوگ قرآن پاک مکمل ہوتے ہی نماز تراویح پڑھنا چھوڑ دیتے ہیں۔وہ سوچتے ہیں کہ تراویح ختم ہو گئی جبکہ قرآن مکمل ہوتا ہے۔رمضان المبارک کےپورے مہینے میں نماز تراویح پڑھنا سنت ہے۔مگر کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنے محلے کی مسجد میں نماز تراویح پڑھنے کے بجائے اپنے گھروں میں ایک حافظ سے 8، 10 دنوں میں قرآن پاک مکمل کرواتے ہیں۔ جس کے جواب میں ان کا مؤقف ہوتا ہے کہ کچھ ایسے کاروباری لوگ ہوتے ہیں جو 8 سے 10 دن میں نماز تراویح میں قرآن پاک مکمل سن لیتے ہیں اس کے بعدوہ پھر کہیں بھی سورۃتراویح پڑھ سکتے ہیں لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہوتاہے۔ 8 سے 10 دن تک نماز تراویح پڑھنے والوں کو کہیں بھی متواتر نماز تراویح پڑھتے نہیں دیکھا جاتا ہے۔
مولانا ارشاد احمد نظامی نے ایک گفتگو کے دوران کہا کہ مسجدوں میں بعض بزرگ مستقل نمازی ماہ رمضان میں آنے والے دیگر نمازیوں کوایسے ترچھی نظروں سے دیکھتے ہیں جیسے وہ لوگ ان کی نیکیاں بانٹ لیںگے ۔اتنا ہی نہیں کچھ لوگ بچوں کے شور و غل پراپنا آپا بھی کھو بیٹھتے ہیں اور انہیں جھڑک دیا کرتے ہیں جس سے ان کے معصوم ذہن پر منفی اثرات پڑنے اوران کا احساس مجروح ہونے کا خطرہ ہو تا ہے۔ جب کہ بچوں کو پیار سے بھی سمجھایا بھی جا سکتا ہے۔ ہاں نابالغ  یعنی بہت چھوٹے بچوں کو ضرور مسجد میں داخل ہونے سے روکا جانا چاہیےمگر جو بچے صفائی اور پاکیزگی کا شعور رکھتے ہیں انہیں مسجدوں سے دور نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہی بچے قوم کے مستقبل ہوتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مسجد کے وضو خانوں میں کچھ لوگ وضو کرتے ہوئے اتنا کھو، کھکھار کرتے ہیں کہ دوسرے نمازیوں کو ان کے اس عمل سے کراہیت ہونے لگتی ہے یہاں تک کہ وضو کے چھینٹے ایک دوسرے پر پڑتے ہیں۔ جس کے بارے میں ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر سے وضو کرکے جانے والوں کا مرتبہ بلند و بالا قرار دیتے ہوئے افضلیت کے درجے سے سرفراز فرمایا ہے۔
لہٰذا مسجد کے ادب و احترام میں ذرہ برابر بھی غفلت یا کوتاہی نہیں برتنی چاہیے ورنہ ساری عبادت ضائع ہونے کا خطرہ لاحق ہوتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے