ممبئی: ماہِ رمضان المبارک صرف عبادت، روزہ اور روحانی تربیت کا مہینہ ہی نہیں بلکہ یہ انسان کو اپنی زندگی، معاشرے اور ترجیحات پر غور کرنے کا بھی موقع فراہم کرتا ہے۔ اسی تناظر میں مہاراشٹر ساہتیہ اردو اکیڈمی کے کارگزار صدر حسین اختر سے ایک خصوصی گفتگو کی گئی۔ حسین اختر گزشتہ چھ مہینوں سے اس ذمہ داری پر فائز ہیں اور مختلف سماجی، ادبی اور تعلیمی اداروں سے طویل عرصے سے وابستہ رہے ہیں۔ وہ ملت کے مسائل پر گہری نظر رکھتے ہیں اور معاشرے میں تعلیمی بیداری کے داعی ہیں۔رمضان المبارک کے روحانی ماحول، بچپن کی یادوں، مسلم معاشرے میں گزشتہ دو دہائیوں میں آنے والی تبدیلیوں اور خاص طور پر تعلیم کے حوالے سے اپنی حسین اختر کی بھرپوررائے ۔

رمضان اور بدلتا ہوا معمولِ زندگی

حسین اختر کہتے ہیں کہ رمضان المبارک انسان کی زندگی کے معمولات کو یکسر بدل دیتا ہے۔ عام دنوں میں جو روزمرہ کا شیڈول ہوتا ہے وہ اس مقدس مہینے میں عبادت اور روحانیت کے رنگ میں ڈھل جاتا ہے۔

ان کے بقول:

“رمضان آتے ہی انسان کی زندگی کا پورا نظام بدل جاتا ہے۔ گیارہ مہینوں میں جو روٹین ہوتا ہے وہ رمضان میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ افطار کا وقت قریب آتا ہے تو پورا ماحول عبادت اور انتظار کی کیفیت میں ڈوب جاتا ہے۔ افطار کے بعد نماز، تلاوتِ قرآن اور دیگر عبادات کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ یوں پورا مہینہ انسان کو روحانی تربیت اور ضبطِ نفس کا درس دیتا ہے۔”

وہ مزید کہتے ہیں کہ رمضان انسان کو اپنے وقت کے بہتر استعمال کی بھی تعلیم دیتا ہے۔ اس مہینے میں عبادت کے ساتھ ساتھ انسان کو یہ بھی سوچنے کا موقع ملتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کو کس طرح زیادہ بامقصد بنا سکتا ہے۔

بچپن کی سادہ مگر یادگار افطاریں

رمضان کے حوالے سے جب ان سے بچپن کی یادوں کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کے چہرے پر ایک خاص مسکراہٹ آ گئی۔ انہوں نے بتایا کہ اس زمانے میں افطار کا ماحول بہت سادہ مگر انتہائی محبت اور خلوص سے بھرپور ہوتا تھا۔

وہ یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں:

“ہمارے بچپن میں آج کی طرح افطار پارٹیوں یا بڑے بڑے انتظامات کا رواج نہیں تھا۔ لوگ سادگی کے ساتھ مسجد میں جمع ہو کر افطار کرتے تھے۔ گھروں سے سالن اور روٹیاں لے کر آتے تھے اور سب مل بیٹھ کر روزہ افطار کرتے تھے۔”

انہوں نے ایک دلچسپ یاد بھی بیان کی۔

“اس وقت ہم مٹی کے چھوٹے برتنوں میں کھانا لاتے تھے۔ ہماری زبان میں انہیں ‘کھونڈے’ یا کٹوریاں کہا جاتا تھا۔ ان برتنوں میں کھانا لا کر مسجد میں رکھا جاتا تھا اور سب لوگ مل کر کھاتے تھے۔ وہ منظر آج بھی ذہن میں تازہ ہے۔ اس میں سادگی بھی تھی اور ایک خاص روحانیت بھی۔”

حسین اختر کے مطابق اس دور میں وسائل کم تھے لیکن دلوں میں اخلاص اور محبت زیادہ تھی۔ لوگ ایک دوسرے کے ساتھ مل بیٹھ کر افطار کرتے تھے اور یہی چیز معاشرتی ہم آہنگی کو مضبوط بناتی تھی۔

سماجی تبدیلیاں اور بدلتا ہوا منظرنامہ

گزشتہ بیس پچیس برسوں میں مسلم معاشرے میں آنے والی تبدیلیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے حسین اختر کہتے ہیں کہ معاشی اور سماجی حالات میں کئی طرح کی تبدیلیاں آئی ہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ جس علاقے میں وہ پلے بڑھے وہاں کبھی شدید غربت تھی۔

“ہمارے علاقے میں پہلے زیادہ تر لوگ غریب تھے۔ مکانات کچے ہوتے تھے، لکڑی اور ٹین سے بنے ہوئے۔ لیکن آج اگر آپ اسی علاقے کو دیکھیں تو بڑی بڑی عمارتیں کھڑی نظر آتی ہیں۔ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ معاشی حالات میں کچھ بہتری آئی ہے۔”

تاہم وہ اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ صرف عمارتوں کی بلندی کو ترقی کا معیار نہیں سمجھا جا سکتا۔ ان کے مطابق اصل ترقی تعلیم اور شعور سے آتی ہے۔ اگر معاشرہ تعلیم میں آگے نہ بڑھے تو ظاہری ترقی دیرپا ثابت نہیں ہوتی۔

تعلیم کا بڑھتا ہوا رجحان

تعلیم کے میدان میں مسلمانوں کی صورتحال کے بارے میں حسین اختر کا کہنا ہے کہ گزشتہ برسوں میں اس حوالے سے کچھ مثبت تبدیلیاں ضرور دیکھنے کو ملی ہیں۔

وہ کہتے ہیں:

“اب والدین میں یہ شعور پیدا ہوا ہے کہ بچوں کو تعلیم دلانا ضروری ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ پرائمری، ہائی اسکول اور جونیئر کالج کی سطح پر تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی تعداد پہلے کے مقابلے میں زیادہ ہو گئی ہے۔”

لیکن وہ اس بات پر تشویش بھی ظاہر کرتے ہیں کہ اعلیٰ تعلیم کے مرحلے پر بہت سے طلبہ تعلیم چھوڑ دیتے ہیں۔

ان کے مطابق:

“اصل مسئلہ یہ ہے کہ سینئر کالج یا گریجویشن کی سطح پر پہنچتے پہنچتے کئی طلبہ تعلیم سے دور ہو جاتے ہیں۔ ڈراپ آؤٹ کا مسئلہ اب بھی موجود ہے۔ ہمیں اس پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ اگر نوجوان گریجویشن اور اس سے آگے کی تعلیم حاصل کریں تو یقیناً معاشرے کی حالت میں بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔”

ریزرویشن اور نئی نسل کے مواقع

حسین اختر کا کہنا ہے کہ بعض طبقات کو ریزرویشن کی پالیسی سے فائدہ بھی ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ او بی سی زمرے میں آنے والی بعض برادریوں کے نوجوان آج انجینئر اور ڈاکٹر بن رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جب مناسب مواقع اور سہولتیں فراہم کی جائیں تو ہماری نئی نسل بھی ہر میدان میں کامیابی حاصل کر سکتی ہے۔

ان کے مطابق:

“یہ خوش آئند بات ہے کہ اب مختلف برادریوں کے نوجوان اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور پیشہ ورانہ میدانوں میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ یہ سلسلہ مزید مضبوط ہونا چاہیے۔”

قوم کا اصل ایجنڈا: تعلیم

مسلم معاشرے کے مستقبل کے بارے میں بات کرتے ہوئے حسین اختر واضح الفاظ میں کہتے ہیں کہ قوم کا سب سے بڑا ایجنڈا تعلیم ہونا چاہیے۔

وہ کہتے ہیں:

“اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری قوم ترقی کرے تو ہمیں تعلیم کو اپنی پہلی ترجیح بنانا ہوگا۔ تعلیم کے بغیر نہ معاشی ترقی ممکن ہے اور نہ ہی سماجی استحکام۔”

ان کے مطابق والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دیں اور انہیں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب دیں۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے قوم کا مستقبل روشن ہو سکتا ہے۔

فضول خرچی سے اجتناب کی ضرورت

تعلیم کے ساتھ ساتھ حسین اختر ایک اور اہم مسئلے کی طرف بھی توجہ دلاتے ہیں، اور وہ ہے غیر ضروری اخراجات۔

وہ کہتے ہیں کہ خاص طور پر شادی بیاہ کے مواقع پر فضول خرچی بہت زیادہ ہو گئی ہے۔

“ہمیں اس رجحان پر قابو پانا ہوگا۔ شادیوں میں جو بے جا اخراجات ہوتے ہیں اگر انہیں کم کر دیا جائے تو وہی وسائل تعلیم اور سماجی ترقی کے کاموں میں استعمال ہو سکتے ہیں۔”

ان کے مطابق سادگی اختیار کرنا نہ صرف دینی تعلیمات کے مطابق ہے بلکہ معاشی طور پر بھی فائدہ مند ہے۔

رمضان کا اصل پیغام یہ ہونا چاہئیے کہ 

“رمضان ہمیں صبر، برداشت اور دوسروں کی مدد کا درس دیتا ہے۔ اس مہینے میں ہمیں صرف عبادت ہی نہیں بلکہ معاشرے کی بہتری کے بارے میں بھی سوچنا چاہیے۔ اگر ہم رمضان کے پیغام کو اپنی زندگی میں شامل کر لیں تو یقیناً ہمارے معاشرے میں مثبت تبدیلی آ سکتی ہے۔”

حسین اختر نے کہا:

“میرا پیغام یہی ہے کہ ہم اپنی ترجیحات درست کریں۔ بچوں کی تعلیم پر توجہ دیں، فضول خرچی سے بچیں اور اپنی توانائی کو تعمیری کاموں میں لگائیں۔ اگر ہم نے تعلیم کو اپنی زندگی کا مرکز بنا لیا تو آنے والے برسوں میں ہماری نئی نسل ہر میدان میں کامیابی حاصل کر سکتی ہے۔”

گفتگو کے اختتام پر حسین اختر نے اس بات پر زور دیا کہ رمضان المبارک صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ یہ انسان کی پوری زندگی کی اصلاح کا پیغام دیتا ہے۔ ان کے مطابق اگر اس مہینے کی روح کو سمجھ لیا جائے تو یہ فرد اور معاشرہ دونوں کو مثبت سمت میں آگے بڑھانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج مسلم معاشرے کو سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ اپنی ترجیحات کو درست کرے۔ تعلیم کو زندگی کا بنیادی مقصد بنایا جائے اور نئی نسل کو ایسے مواقع فراہم کیے جائیں کہ وہ علم، ہنر اور کردار کے میدان میں آگے بڑھ سکے۔ ان کے بقول قوم کی حقیقی طاقت نہ دولت میں ہے اور نہ ہی ظاہری نمود و نمائش میں، بلکہ اس کی اصل قوت علم، شعور اور اخلاقی تربیت میں پوشیدہ ہے۔

حسین اختر نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ معاشرے میں بعض مواقع پر غیر ضروری اخراجات اور دکھاوے کی روایت بڑھتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہی وسائل تعلیم، فلاحی سرگرمیوں اور سماجی ترقی کے منصوبوں پر خرچ کیے جائیں تو اس کے دور رس مثبت نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق سادگی، اعتدال اور شعور ہی وہ اقدار ہیں جو ایک مضبوط اور باوقار معاشرے کی بنیاد بن سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ رمضان ہمیں صبر، برداشت، بھائی چارے اور ایثار کا درس دیتا ہے۔ یہی وہ اوصاف ہیں جو کسی بھی معاشرے کو ترقی اور استحکام کی طرف لے جاتے ہیں۔ اگر مسلمان اس مہینے کے پیغام کو اپنی عملی زندگی میں شامل کر لیں تو یقیناً معاشرے میں مثبت تبدیلی کی ایک نئی فضا پیدا ہو سکتی ہے۔

اپنی گفتگو کے آخر میں حسین اختر نے امید ظاہر کی کہ نئی نسل تعلیم اور شعور کے میدان میں آگے بڑھے گی اور ملت کے بہتر مستقبل کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرے گی۔ ان کے مطابق وقت کا تقاضا یہی ہے کہ مسلمان تعلیم، اتحاد اور مثبت سماجی کردار کو اپنی ترجیح بنائیں۔

بلاشبہ رمضان المبارک کا پیغام بھی یہی ہے کہ انسان اپنے اندر اصلاح پیدا کرے، معاشرے میں خیر و بھلائی کو فروغ دے اور آنے والی نسلوں کے لیے علم و شعور کی ایسی بنیاد قائم کرے جو انہیں ترقی اور کامیابی کی راہوں پر گامزن کر سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے