✍️(حافظ)افتخاراحمدقادری 

رمضان المبارک کی روحانیت، تقدس اور عبادتوں سے لبریز فضا میں جب ایک مسلمان روزہ دار دن بھر کی پیاس اور بھوک کے بعد افطار کے لمحے کا انتظار کرتا ہے تو اس کے دل میں شکر گزاری، عاجزی اور بندگی کے جذبات موجزن ہوتے ہیں۔ افطار صرف پیٹ بھرنے کا عمل نہیں بلکہ یہ ایک عبادت، سنت اور روحانی لمحہ ہے جس میں بندہ اپنے رب کی عطا کردہ نعمتوں پر سر بسجود ہو کر شکر ادا کرتا ہے۔ اسلام نے افطار کو سادگی، وقار اور اعتدال کے ساتھ ادا کرنے کی تعلیم دی ہے تاکہ روزے کی روح برقرار رہے اور بندہ عبادت کی اصل غرض و غایت سے غافل نہ ہو۔ مگر افسوس کہ بعض اوقات ہماری قوم کے بعض افراد ایسی حرکات کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں جو نہ صرف عقل و فہم کے تقاضوں کے منافی ہوتی ہیں بلکہ پوری ملت کے لیے شرمندگی اور بدنامی کا باعث بھی بن جاتی ہیں۔ حال ہی میں پیش آنے والا واقعہ اسی قسم کی ایک افسوسناک مثال ہے جس میں چند مسلمانوں نے محض نام نہاد ثواب کے حصول کے لیے ایک ایسا اقدام کیا جو سراسر حماقت، نادانی اور بے بصیرتی کی علامت بن کر سامنے آیا۔ افطار جیسی مبارک عبادت کو انہوں نے ایک غیر ضروری نمائش اور عجیب و غریب انداز میں ادا کرنے کی کوشش کی اور دریائے گنگا کے بیچ جا کر افطار کرنے کا تکلف اختیار کیا۔ یہ عمل نہ صرف غیر معمولی اور غیر معقول تھا بلکہ اس میں وہ سنجیدگی اور وقار بھی مفقود تھا جو ایک مسلمان کے طرز عمل کا حصہ ہونا چاہیے۔ چکن بریانی کے دسترخوان سجا کر دریا کے بیچ افطار کرنے کا منظر گویا کسی عبادت کا نہیں بلکہ ایک غیر سنجیدہ تفریح کا نمونہ معلوم ہوتا تھا۔ یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ معاشرہ اس وقت ایک نازک اور حساس فضا سے گزر رہا ہے جہاں معمولی سی لغزش بھی شرپسند عناصر کے لیے ایک ہتھیار بن جاتی ہے۔ ایسے حالات میں مسلمانوں کو نہایت حکمت، تدبر اور بصیرت کے ساتھ اپنے ہر قدم کا تعین کرنا چاہیے تاکہ ان کے کسی عمل سے دین اسلام یا پوری ملت کی ساکھ کو نقصان نہ پہنچے۔ لیکن افسوس کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو جذباتی جوش، بے جا نمائش یا سطحی سوچ کے تحت ایسے اقدامات کر بیٹھتے ہیں جو بعد میں پشیمانی اور شرمندگی کا سبب بنتے ہیں۔ دریائے گنگا میں افطار کرنے کا یہ واقعہ بھی اسی نوعیت کا تھا جس نے نہ صرف مقامی سطح پر ہنگامہ کھڑا کر دیا بلکہ مخالفین کو ایک سنہری موقع فراہم کر دیا کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف زہر اگلیں۔ افواہیں پھیلائی گئیں کہ مسلمانوں نے گنگا کو ناپاک کر دیا ہے حالانکہ حقیقت اس سے کہیں مختلف تھی۔ مگر معاشرتی نفسیات کا المیہ یہی ہے کہ جب کسی کو کسی کے خلاف بولنے کا موقع مل جائے تو وہ حقیقت اور انصاف کو پس پشت ڈال کر صرف الزام تراشی میں مصروف ہو جاتا ہے۔ پولیس نے بھی موقع پر پہنچ کر ان افراد کو گرفتار کر لیا اور یوں وہ لوگ جو چند لمحوں کے لیے نام نہاد ثواب حاصل کرنے نکلے تھے انہیں ایک ایسا سبق ملا جو شاید وہ مدتوں یاد رکھیں گے۔ طنز و مزاح کے انداز میں لوگ یہ کہنے لگے کہ انہیں پولیس نے ایسی تراویح پڑھا دی جو شاید انہوں نے اپنی زندگی میں کبھی نہ پڑھی ہو۔ یہ صورت حال بظاہر ایک واقعہ ہے مگر درحقیقت یہ ہماری اجتماعی ذہنی کمزوریوں اور سماجی بے بصیرتی کا آئینہ دار ہے۔

   آخر ایسی حرکتوں کی ضرورت ہی کیا تھی؟ کیا افطار کے لیے اپنے گھر کی چار دیواری کم تھی؟ کیا محلے کی مسجد کا پر سکون ماحول ناکافی تھا؟ کیا اسلامی تعلیمات میں کہیں یہ لکھا ہے کہ افطار کے لیے دریا کے بیچ جا کر بیٹھنا زیادہ ثواب کا باعث ہے؟ اسلام تو سادگی، اعتدال اور وقار کا دین ہے۔ اس نے عبادت کو نمود و نمائش اور عجیب و غریب رسومات سے پاک رکھنے کی تعلیم دی ہے۔ مگر جب عقل و فہم پر جذبات کا غلبہ ہو جائے اور شعور کی جگہ سطحی سوچ لے لے تو پھر ایسے ہی مضحکہ خیز اور نقصان دہ واقعات جنم لیتے ہیں۔ اس واقعے کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس کے نتیجے میں نہ صرف چند افراد ذلیل و خوار ہوئے بلکہ پوری قوم کی ساکھ کو بھی ٹھیس پہنچی۔ اسلام دشمن عناصر نے اسے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا اور مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز پروپیگنڈا شروع کر دیا۔ حالانکہ اسلام کی اصل تعلیمات اس قسم کی بے وقوفانہ حرکتوں سے بالکل پاک ہیں۔ مگر دنیا کسی قوم کو اس کے بہترین افراد سے نہیں بلکہ اکثر اس کے بدترین نمائندوں سے پہچانتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چند نادان لوگوں کی غلطی کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑتا ہے۔ قوم کو سمجھنا ہوگا کہ موجودہ حالات میں ہر قدم نہایت سوچ سمجھ کر اٹھانے کی ضرورت ہے۔ ایک مسلمان صرف اپنی ذات کا نمائندہ نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنے دین اور اپنی پوری ملت کا نمائندہ بھی ہوتا ہے۔ اس کا ہر عمل دوسروں کے لیے اسلام کی تصویر پیش کرتا ہے۔ اگر وہ حکمت، وقار اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرے گا تو اسلام کی عزت میں اضافہ ہوگا اور اگر وہ حماقت، بے تدبیری اور غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرے گا تو اس کا نقصان صرف اس کی ذات تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پوری ملت کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ لہٰذا! ہم اپنی اجتماعی سوچ میں سنجیدگی پیدا کریں، دین کی اصل روح کو سمجھیں اور ایسی حرکتوں سے مکمل اجتناب کریں جو ہماری عزت و وقار کو مجروح کرتی ہوں۔ افطار کی برکتیں حاصل کرنے کے لیے نہ کسی دریا کے بیچ جانے کی ضرورت ہے اور نہ کسی عجیب و غریب مظاہرے کی۔ الله تعالیٰ کے نزدیک اصل قدر اخلاص، تقویٰ اور سادگی کی ہے۔ اگر ہم اپنے گھروں اور مساجد میں عاجزی اور شکر کے ساتھ افطار کریں تو یقیناً وہی ہمارے لیے زیادہ باعثِ اجر و ثواب ہوگا۔ اگر ہم نے اب بھی عقل و شعور سے کام نہ لیا اور اسی طرح کی غیر ذمہ دارانہ حرکتوں میں مبتلا رہے تو پھر واقعی یہ کہنا پڑے گا کہ اس قوم کا خدا ہی حافظ ہے، کیونکہ جو قوم اپنی عزت اور وقار کی حفاظت خود نہ کرے اسے دنیا میں کوئی بھی عزت نہیں دے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے