گیس کی قلت سے ابھی بھی عوام کو کوئی خاص راحت ملتی نہیں دکھ رہی ہے۔

(عبدالمبین منصوری)
سدھارتھ نگر
  گیس کی قلت سے گزشتہ کئی ہفتوں سے ایجنسیوں کی من مانی اور بددیانتی سے جہاں عام لوگ مایوسی کا شکار ہو رہے ہیں وہیں کچھ  گیس ایجنسیاںحکومت اور انتظامیہ کے حکم کی عدولی کر رہی ہیں اتنا ہی نہیں عوام کے مفاد کے حق میں تمام قانون اور ضوابط کی کھلی خلاف ورزی بھی ایجنسیاں کر رہی ہیں۔
لوگوں کو کئی کئی دن ایجنسی کا چکر کاٹنا پڑ رہا ہے تب بھی گیس سلنڈر ملنا محال ہو رہا ہے۔ جب کہ گیس انجیسیاں ہوم ڈلیوری کی بات کر رہی ہیں مگر عوام کا کہنا ہے کہ اس میں گیس ایجنسی کے ہاکر زائد رقم دینے والوں کو ہی گیس سلنڈر دے رہے ہیں۔صرف دکھاوے کی خاطر کچھ گیس لدی گاڑیاں جگہ بہ جگہ خاص مقام پرکہیں سڑک کنارے کھڑی کر ہاکر کے ذریعےفون کر لوگوں کو بلایا جاتا ہے کہیں کسی کے گھر پر ہوم ڈلیوری کے نام پر گیس سلنڈرکی سپلائی نہیںکی جا رہی ہے۔جبکہ شادیوں کا سیژن چل رہا ہے اور لوگوں کو گیس سلنڈر کی اشد ضرورت ہے۔جس کا فائدہ اٹھا کر گیس ایجنسیاں بلیک مارکٹنگ کرنے  سے بھی با ز نہیں آ رہی ہیں۔جس سے گیس ایجنسیاں ناجائز رقم کی وصولی میں ملوث ہیں۔
ٓٓٓآخر گیس ایجنسیاں اس طرح کی کب تک من مانی کرتی رہیں گی اور ایجنسی اور ہاکر مل کر حکومتی اور انتظامی احکامات کی کھلی خلاف ورزی کب تک کرتے رہیں گےا س کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے۔
آر ٹی آئی کارکن اور ایڈوکیٹ شیراز احمد گیس ایجنسی کےان اقدامات اور سرگرمیوں سےکافی ناراض ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایجنسی کا من مانی اور غیر فیصلہ کن رویہ نہیں بدلا تو وہ حکومت، انتظامیہ اور اعلیٰ حکام کو شکایتی خطوط لکھ کر ایجنسیوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کریں گے۔
شہر کے سینئر میڈیکل پروفیشنل اور صحافی ڈاکٹر جاوید کمال نے بھی گیس ایجنسی پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ انہوں نے یہاں تک کہاکہ گیس سلنڈر کی تقسیم میں ڈاکٹروں اور صحافیوں کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ اگر وہ بھی گیس کے حصول کے لیے گھنٹوں گھنٹوں لائن میں انتظار کرنے پر مجبور ہوں گے تو عوام کو طبی امداد فراہم کرنا اور عوام کو درپیش سنگین اور اہم مسائل پر خبریں اکٹھی کرنا صحافیوں کا انتہائی مشکل کام ہو جائے گا۔
اس حوالے سے گیس ایجنسیوں کے مالک سے بات کرنے کی کوشش کی گئی تو کوئی بات کرنے کو تیار نہیں ہوئے اور نہ ہی ڈسٹرکٹ سپلائی آفیسر سےہی رابطہ ہو سکا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے