ممبئی: فریضۂ حج کی ادائیگی کے لیے ہندوستانی عازمینِ کرام کے روح پرور سفر کا باضابطہ آغاز 18 اپریل 2026 بروز ہفتہ سے ہو رہا ہے۔ ممبئی سمیت ملک کے دیگر اہم امبارکیشن پوائنٹس سے پہلی حج پروازیں اڑان بھریں گی، جس کے ساتھ ہی حج سیزن 2026 کا باقاعدہ آغاز ہو جائے گا۔
یہ مقدس سفر ہر سال کی طرح اس بار بھی لاکھوں مسلمانوں کے لیے عقیدت، محبت اور روحانی وابستگی کا مظہر بن کر سامنے آ رہا ہے۔
ممبئی کو تاریخی طور پر ہندوستان میں حج کا مرکزی درجہ حاصل رہا ہے۔ ایک دور تھا جب یہاں سے عازمینِ حج بحری جہازوں کے ذریعے ہفتوں پر محیط سفر کرتے ہوئے حجاز مقدس پہنچتے تھے۔ یہ سفر نہ صرف طویل بلکہ صبر آزما بھی ہوتا تھا، مگر اس میں روحانیت، اجتماعی عبادت اور اخوت کا ایک منفرد رنگ پایا جاتا تھا۔ 1996 میں حکومت ہند نے باضابطہ طور پر بحری جہازوں کے ذریعے حج سفر کو بند کر دیا، جس کے بعد سے مکمل طور پر فضائی سفر ہی کو اختیار کیا گیا۔ اس تبدیلی سے اگرچہ وقت کی بچت اور سہولت میں اضافہ ہوا، لیکن پرانے عازمین آج بھی بحری سفر کی یادوں کو ایک خاص جذباتی وابستگی کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔
حج 2026 کے لیے ممبئی امبارکیشن پوائنٹ سے تقریباً 90 پروازوں کا شیڈول تیار کیا گیا ہے، جن کے ذریعے ہزاروں عازمین کو مرحلہ وار سعودی عرب روانہ کیا جائے گا۔ حج کمیٹی آف انڈیا کے مطابق اس سال بھارت کا مجموعی حج کوٹہ تقریباً ایک لاکھ 22 ہزار 500 مقرر کیا گیا ہے، جبکہ درخواستوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ رہی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ فریضۂ حج کے لیے عوام میں کس قدر جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ اس بڑے آپریشن کے لیے سعودی ایئر لائن، فلائی ڈیل اور اکاسا ایئر سمیت مختلف فضائی کمپنیوں کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔
18 اپریل کو ممبئی سے دو خصوصی پروازیں روانہ ہوں گی، جن میں سینکڑوں عازمین سوار ہوں گے۔ اسی روز دہلی، سری نگر، گوہاٹی، کولکاتا اور وجے واڑہ سے بھی حج پروازوں کا آغاز ہوگا۔ اطلاعات کے مطابق دہلی سے دو، سری نگر سے تین جبکہ دیگر مراکز سے ایک ایک پرواز روانہ کی جائے گی۔ اس طرح پہلے ہی دن ملک بھر سے بڑی تعداد میں عازمین حرمین شریفین کے مقدس سفر پر روانہ ہوں گے۔
حج آپریشن کو دو مرحلوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے کے تحت 18 اپریل سے 3 مئی تک عازمین کو مدینہ منورہ پہنچایا جائے گا، جہاں وہ روضۂ رسول ﷺ پر حاضری اور مسجد نبویؐ میں عبادت کی سعادت حاصل کریں گے۔ دوسرے مرحلے کا آغاز 5 مئی سے ہوگا، جس میں عازمین کی پروازیں جدہ کے لیے روانہ ہوں گی، جہاں سے وہ مکہ مکرمہ جا کر مناسکِ حج ادا کریں گے اور بعد ازاں مدینہ منورہ کی زیارت کریں گے۔ ممبئی سے آخری حج پرواز 20 مئی 2026 کو روانہ ہوگی، جو ملک بھر سے روانہ ہونے والی آخری پرواز بھی ہوگی۔
حج حکام کے مطابق اس سال انتظامات کو مزید بہتر اور منظم بنایا گیا ہے۔ عازمین کو پیشگی اطلاع فراہم کر دی گئی ہے اور امیگریشن، سیکیورٹی، طبی سہولیات اور رہائش کے مکمل انتظامات کیے گئے ہیں۔ حج کمیٹی آف انڈیا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر شاہنواز سی نے کہا ہے کہ انتظامیہ کی اولین ترجیح عازمین کو سہل اور محفوظ سفر فراہم کرنا ہے۔
عازمین کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی پرواز کی تصدیق “حج سہولت” ایپ یا سرکاری پورٹل پر کریں اور دستخط شدہ رسید ساتھ رکھیں۔ امبارکیشن پوائنٹ پر کم از کم 24 گھنٹے قبل رپورٹ کرنا لازمی ہوگا، جبکہ براہِ راست ایئرپورٹ جانے والوں کو 6 گھنٹے پہلے پہنچنا ہوگا۔ پاسپورٹ، ہیلتھ سرٹیفکیٹ، ادائیگی کی رسید اور دیگر ضروری دستاویزات ساتھ رکھنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
مرد و خواتین کے قیام میں اہم تبدیلی حج 2026 میں ایک نمایاں تبدیلی مرد و خواتین عازمین کے قیام کے حوالے سے کی گئی ہے۔ اس سال مردوں اور خواتین کے کمروں کو مکمل طور پر الگ رکھا جائے گا، حتیٰ کہ میاں بیوی یا محرم کے ساتھ سفر کرنے والوں کے لیے بھی علیحدہ کمروں کا انتظام ہوگا۔ انتظامیہ کے مطابق یہ قدم نظم و ضبط اور سہولت کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے، تاہم بعض حلقوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس سے خصوصاً معمر عازمین کو دشواری ہو سکتی ہے۔
اسمارٹ واچ اور جدید سہولیات اس سال عازمین کو اسمارٹ واچ بھی فراہم کی جا رہی ہے تاکہ ہجوم میں ان کی نگرانی کی جا سکے اور گمشدگی کے مسائل پر قابو پایا جا سکے۔ تاہم اس سہولت کے استعمال کے لیے مناسب تربیت نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں، کیونکہ دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے کئی عازمین جدید ٹیکنالوجی سے پوری طرح واقف نہیں ہوتے۔
خلیجی حالات کے ممکنہ اثرات رواں سال حج سیزن ایسے وقت میں شروع ہو رہا ہے جب خلیجی خطے میں جاری حالیہ کشیدگی اور جغرافیائی سیاسی صورتحال پر عالمی سطح پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ اگرچہ فی الحال حج پروازوں کے شیڈول یا عازمین کی روانگی پر کسی بڑے اثر کی اطلاع نہیں ہے، تاہم ماہرین کے مطابق فضائی حدود، سیکیورٹی انتظامات اور سفری روٹس میں ممکنہ تبدیلیوں کے امکانات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس تناظر میں حج حکام اور فضائی کمپنیوں نے متبادل انتظامات اور ہنگامی منصوبہ بندی کو بھی تیار رکھا ہے تاکہ کسی بھی غیر متوقع صورتحال سے نمٹا جا سکے اور عازمین کو کسی قسم کی پریشانی نہ ہو۔
حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ عازمین کو افواہوں پر کان نہ دھریں اور صرف سرکاری ہدایات پر عمل کریں۔ حکومت ہند اور سعودی حکام کے درمیان مسلسل رابطہ قائم ہے تاکہ حج آپریشن کو ہر حال میں کامیاب اور محفوظ بنایا جا سکے۔
واضح رہے کہ حج اسلام کا پانچواں بنیادی رکن ہے، جو ہر صاحبِ استطاعت مسلمان پر زندگی میں ایک بار فرض ہے۔ یہ عظیم عبادت ذوالحجہ کے مہینے میں مکہ مکرمہ، منیٰ، عرفات اور مزدلفہ میں ادا کی جاتی ہے، جہاں دنیا بھر کے مسلمان ایک ہی لباسِ احرام میں جمع ہو کر اتحاد و مساوات کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں۔
حج نہ صرف ایک مذہبی فریضہ بلکہ ایک ہمہ گیر روحانی تربیت ہے، جو انسان کو صبر، قربانی، ایثار اور اللہ تعالیٰ کی کامل اطاعت کا درس دیتی ہے۔
اللہ تعالیٰ تمام عازمینِ حج کے اس بابرکت سفر کو آسان فرمائے، ان کی عبادات کو قبول فرمائے اور انہیں بخیر و عافیت اپنے وطن واپس لوٹائے۔ آمین۔

