تحریر ۔۔۔۔۔۔۔۔ احمد رضا سہارنپور

مہاراشٹرا کے علاقہ ناسک میں واقع ٹی سی ایس آفس میں ہندو شدت پسند تنظیموں اورنام نہاد نیشنل میڈیا نے سازش کے تحت مسلم افراد کو جیل بھیج کر انکو نوکری سے برطرف کرایا گہرائی سے مطالعہ کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ یہ ملک کے تعلیم یافتہ مسلم افراد کے خلاف بڑی گھنونی اور گہری سازش کا نتیجہ ہے کوئی مسلم ٹی سی ایس آفس میں لو جہاد یا تبدیلی مذہب کے لئے زمہ دار نہی یہ بجرنگ دل اور ہندو شدت پسند تنظیموں اور نیشنل میڈیا کا ایک نفرت آمیز فرضی پروپگنڈ ہ  بھر ہے  جو مسلم طبقہ کے خلاف نفرت کو بڑھاوا دینے کے لئے تیار کیا گیا ہےحیرت کی بات تو یہ ہے کہ مہاراشٹرا سرکار اور پولیس نے بغیر جانچ پڑتال کئے مسلم افراد کو چند لمحات میں ہی جیل بھیج دیا اوراس فرضی سانحہ کو بڑا المیہ ثابت کرنے کے لئے طرح طرح سے فرضی خبریں چلائی گئی دن رات ٹی وی چینلوں پر یہی لو جہاد اور تبلغ جہاد کا چرچہ کیا گیا ہندو مذہب کے کچھ افراد کے سامنے آنے کے بعد یہ بات درست ثابت ہوئی کہ ٹی سی ایس کا ہیڈ ہندو ہے مسلم افراد وہاں سروس کرتے ہیں اس محکمہ کے افسران ہندو ہیں مسلم افراد کو افسر بتانے والے بیانات بعد میں یہ صرف افواہ ثابت ہوئےبلاوجہ کی گرفتاری اور مارپیٹ سے تعلیم یافتہ مسلم افراد کو جو زبردست صدمہ اور آبرو کا نقصان پہنچا ہے اس کے لئے کون زمہ دار ہوگا آخر مسلم افراد کو اس طرح کب تک تباہ اور برباد کیا جاتا رہیگا ؟ آپ غور کریں کہ یہ ملک کے مسلم عوام کو ذلیل وخوار اور بنیادی طور سے معز ور بناکر 130 سال قبل ہندو راشٹر کے قیام کا خواب دیکھنے والے اور ہندوستان کو ہندو راشٹر میں تبدیل کرنے والے اداروں اور افراد کا  پلان ہے جو وقفہ در وقفہ جاری رکھا جا تا ہے اس طرح کی گھنونی سوچ کے لوگوں نے 12 سال قبل جب ملک کے اقتدار پر قبضہ کیا تو وہ مار ے خوشی کے اچھل کود کرنے لگے اور ایک گھنونی اور گہری پلاننگ کے تحت مسلم آبادی پر زندگی تنگ کرنے لگے  تاکہ سرکار کے تعاون سے پولیس کی حمایت حاصل کر کے  130 قبل کے خواب کو شازش کے تحت مکمل کیا جا سکے بس اسی کو مکمل کرنے کے لئے گذشتہ 12 برسوں سے ہندو شدت پسند افراد کے ذریعے ملک بھر میں مسلم آبادی کو نشانہ بنا کر جس بے دردی کے ساتھ مارا پیٹا اور جھوٹے الزامات عائد کرکے جیلوں میں ڈالا گیا وہ اس صدی کا کالا باب ہے جو اہل ایمان کو ہمیشہ یاد رہیگا ، پولیس اہلکاروں اور سرکاری مشینری کے استعمال سے جمہوریت اور جمہوری نظام والے ملک کے مقدس آئین کو پاؤں تلے روندا گیا ہزاروں مرتبہ اعلانیہ دستورِ ہند اور جمہوریت کی دھجیاں اڑائی گئی یہ تمام شرمناک حرکتیں صرف اور صرف مسلم افراد کو جانی مالی نقصان پہنچانے کے لئے ہی انجام دی گئی ہجومی تشدد ، فرضی مقدمات ،فرضی انکاونٹر ، بلڈوزر ایکشن اور اقتصادی طور پر مسلم آبادی پر  حملے عام بات ہو کر رہ گئے ہیں مسلم افراد کی تباہی اور پستی کا تماشا پورا کا پورا ملک کھلی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے ملک کا کل سسٹم خاموش تماشائی بنا ہوا ہے  سلسلے وار ہونے والے حملوں سے ایسا  محسوس ہورہاہے کہ اس ملک میں جمہوریت اب شجر ممنوعہ بن چکی ہے، اور جمہوریت کسی نامعلوم پرندے کا نام  بن کر رہ گئی ہے ان شرمناک واقعات سے اس ملک کی حکومت خوب واقف ہے،اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف جس طریقے سے ملک کی مختلف ریاستوں میں کریک ڈاؤن اور طوفان بدتمیزی ہو رہا ہے یہ بلاشبہ جمہوری ملک کے چہرے پر ایک بدنما داغ ہے   دنوں مسلمانوں کی مساجد اور دیگر مذہبی عبادت گاہیں نشانے پر ہیں اور انھیں شہید کرنے کا سلسلہ جاری ہے،اتر پردیش میں یوگی حکومت کے تحت مسلم عبادت گاہوں کی منظم تباہی بلا روک ٹوک جاری ہے،سپریم کورٹ نے عبادت گاہوں کے انہدام پر عدالتی پابندی کے باوجود ریاست کے علاقہ کشی نگر میں ایک مسجد کے انہدام پر انتظامیہ کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا ہے، کشی نگر ضلع کی نوری مسجد کی مسماری پر سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ مسجد کا انہدام عدالت کی سنگین توہین ہے،لہذا انتظامیہ کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا جاتا ہے،جس کا جواب دو ہفتے میں دینا ہوگا،درخواست گزار عظمت النساء کا کہنا ہے کہ مسجد کی تعمیر کے لئے اراضی انہوں نے ہی وقفے کی تھی،ان کے مطابق جانچ کے دوران یہ سامنے آیا تھا کہ مسجد کی تعمیر منظور شدہ نقشے کے مطابق ہے،البتہ جو حصہ نقشے کے مطابق نہیں تھا،اسے درخواست گزارنے خود ہی منہدم کر دیا تھا،اس کے باوجود درخواست گزار کے مطابق انتظامیہ نے کشی نگر کے مقام ہا ٹا میں واقع مدنی مسجد کے بیرونی حصے کو منہدم کر دیا،ان کے بقول انتظامیہ نے انہدام سے قبل انہیں اپنا موقف پیش کرنے کا موقع بھی نہیں دیا،اس سے قبل عدالت نے مسجد کے انہدام پر 8 فروری تک حکم امتناعی جاری کیا تھا،جس کا وقت ختم ہوتے ہی یوگی حکومت کے عہدے داروں نے انہدامی کاروائی شروع کر دی،قابل غور بات یہ ہے کہ ہندو تنظیموں نے اس مسجد کے بارے میں شکایت کی تھی کہ اس کی شکل مسجد کی طرح نہیں ہے، کیونکہ اس میں کوئی گنبد نہیں ہے ان کا دعویٰ تھا کہ اس عمارت کو ہندوؤں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے،آپ کو یاد ہوگا کہ حال ہی میں مسلم تجارتی اداروں اور ہوٹلوں کا بائیکاٹ،مسلمانوں کو کرائے پر مکان دینے سے انکار،مسلمان گھروں پر بڑے پیمانے پر بلڈوزر چلانے کے بعد،ہندو شدت پسند گروپوں کی جانب سے اب نئے نئے دعوے سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں،جگہ جگہ قدیم ہندو مندروں کی موجودگی ثابت کرنے کے لئے قدیم زمانے کی تمام مساجد اور درگاہوں پر آثار قدیمہ کے سروے کرانے کی درخواستوں پر عدالتی پابندی کے بعد ایسی عبادت گاہوں کا پتہ لگا کر جن کی تعمیر میں تجاوزات کی گئی ہیں،انھیں نشانہ بنایا جا رہا ہے اور شہید کیا جا رہا ہے!  غور طلب بات یہ بھی ہے کہ ان دنوں پورے ملک میں مسلمانوں کے مکانات ، د کانا ت ، تعلیمی اداروں ، مزارات ، مساجد اور دیگر مذہبی عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ہندو شدت پسند افراد ایک فرضی شکایت پولیس یا ایس ڈی ایم کو  پیش کرتے ہیں اسی وقت انتظامیہ کے لوگ موقعے پر پہنچ کر پیمائش شروع کر دیتے ہیں اور کچھ گھنٹے بعد معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسجد ، مزار ، مدرسہ ، قبرستان یا گھر سرکاری زمین پر قبضہ کرکے بنایا گیا ہے اگلے روز وہ مقام بلڈوزر چلا کر زمین میں ملادیا جاتا ہے کوئی سنوائی نہی کوئی عدالتی حکم نہی صرف بھگوا نفرت اور بھگوا گروہ کی دہشت گرد ی پولیس اہلکاروں اور افسران کے لئے مقدم ہیں سچ پوچھو تو آجکل عدالتیں بھی مسلم طبقہ کے لوگوں کو وقت ضرورت مناسب انصاف دینے میں قاصر ہیں جس وجہ سے عوامی سطح پر مسلم کمزور اور مجبورِ بن کر رہ گیا ہے اگر مسلمان اس پولیس اور انتظامیہ کے ظلم و جبر کے خلاف آوز اٹھاتا ہے تو اسکو سرکاری مشینری کے کام میں دخل مان کر مسلم افراد کو جیل میں ٹھونس دیا جاتا ہے مہینہ بھر ظمانت نہی ہو تی کل ملاکر اس اپنے ہی وطن میں ہم مسلم طبقہ کو پولیس ، گولی باری ، لاٹھی ، فرضی مقدمات ،بلڈوزر اور سالوں جیل میں قید رکھے جانے کا ڈر دکھا دکھا کر کمزور سے کمزور تر کر دیا گیا ہے ہم حق کے لئے آواز بلند کرنے سے پہلے اپنی جاں اور مال کی فکر میں مبتلا ہو کر رہ جاتے ہیں اور پھر لگاتار ظلم سے تڈ پتے رہتے ہیں 12 سالوں سے اس جمہوری اور آئینی نظام والے ملک میں مسجدوں ، مزاروں اور مسلم گھروں پر بلڈوزر چلنے کا سلسلہ جاری ہے اتراکھنڈ، ہریانہ، دہلی، آسام، مدھیہ پردیش ، بہار اور اتر پردیش میں حکومت کے اشارہ پر مسلم عبادت گاہوں کی منظم تباہی بلا روک ٹوک جاری ہے،سپریم کورٹ نے عبادت گاہوں کے انہدام پر عدالتی پابندی کے باوجود ریاست کے علاقہ کشی نگر میں ایک مسجد کے انہدام پر انتظامیہ کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا ہے، کشی نگر ضلع کی نوری مسجد کی مسماری پر سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ مسجد کا انہدام عدالت کی سنگین توہین ہے،لہذا انتظامیہ کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا جاتا ہے،جس کا جواب دو ہفتے میں دینا ہوگا،درخواست گزار عظمت النساء کا کہنا ہے کہ مسجد کی تعمیر کے لئے اراضی انہوں نے ہی وقفے کی تھی،ان کے مطابق جانچ کے دوران یہ سامنے آیا تھا کہ مسجد کی تعمیر منظور شدہ نقشے کے مطابق ہے،البتہ جو حصہ نقشے کے مطابق نہیں تھا،اسے درخواست گزارنے خود ہی منہدم کر دیا تھا،اس کے باوجود درخواست گزار کے مطابق انتظامیہ نے کشی نگر کے مقام ہا ٹا میں واقع مدنی مسجد کے بیرونی حصے کو منہدم کر دیا،ان کے بقول انتظامیہ نے انہدام سے قبل انہیں اپنا موقف پیش کرنے کا موقع بھی نہیں دیا،اس سے قبل عدالت نے مسجد کے انہدام پر 8 فروری تک حکم امتناعی جاری کیا تھا،جس کا وقت ختم ہوتے ہی یوگی حکومت کے عہدے داروں نے انہدامی کاروائی شروع کر دی،قابل غور بات یہ ہے کہ ہندو تنظیموں نے اس مسجد کے بارے میں شکایت کی تھی کہ اس کی شکل مسجد کی طرح نہیں ہے، کیونکہ اس میں کوئی گنبد نہیں ہے ان کا دعویٰ تھا کہ اس عمارت کو ہندوؤں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے،آپ کو یاد ہوگا کہ حال ہی میں مسلم تجارتی اداروں اور ہوٹلوں کا بائیکاٹ،مسلمانوں کو کرائے پر مکان دینے سے انکار،مسلمان گھروں پر بڑے پیمانے پر بلڈوزر چلانے کے بعد،ہندو شدت پسند گروپوں کی جانب سے اب نئے نئے دعوے سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں،جگہ جگہ قدیم ہندو مندروں کی موجودگی ثابت کرنے کے لئے قدیم زمانے کی تمام مساجد اور درگاہوں پر آثار قدیمہ کے سروے کرانے کی درخواستوں پر عدالتی پابندی کے بعد ایسی عبادت گاہوں کا پتہ لگا کر جن کی تعمیر میں تجاوزات کی گئی ہیں،انھیں نشانہ بنایا جا رہا ہے اور شہید کیا جا رہا ہے!
اتر پردیش کے ضلع بلند شہر میں واقع امر گڑھ گاؤں میں اکثریتی طبقہ کے کچھ لوگوں کو وہاں تعمیر ہو رہے مسجد کے مینار پر اعتراض ہے،وہ لوگ مینار کی اونچائی کم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں،ہندو اکثریتی طبقے کے لوگوں کا مطالبہ ہے کہ یا تو مینار کو گرا دیا جائے یا پھر اونچائی آدھی کردی جائے،امر گڑھ گاؤں کے پردھان اوم پر کاش شرما کے مطابق جب وہ مسجد تعمیر ہو رہی تھی تو کسی مقامی شخص کو کوئی اعتراض نہیں تھا لیکن اب ہندو طبقے کا کہنا ہے کہ مینار کی اونچائی سے ان کی زندگی کو خطرہ ہے کیونکہ اس کا غلط استعمال کیا جا سکتا ہے،اتر پردیش ہی کے گورکھپور ضلع کے گھوش کمپنی چوراہے کی مسجد کو گورکھپور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (جی ڈی اے) نے مبینہ طور پر غیر قانونی تعمیر کا حوالہ دیتے ہوئے منہدم کرنے کا حکم دیاہے،جبکہ اس دعوے کو وہاں کے مسلمانوں نے خارج کر دیا،جی ڈی اے کا یہ الزام ہے کہ نگر نگم کی طرف سے مختص زمین پر گز شتہ سال تعمیر کی گئی  یعنی کہ یہ مسجد عمارت کسی بھی منصوبہ کی مناسب منظو ری کے بغیر تعمیر کی گئی ہے ،مسجد کے نگراں شعیب احمد کو جاری کردہ نوٹس میں ہدایت دی گئی ہے کہ 15 دن کے اندر مسجد گرا دی جائے،نوٹس میں خبردار کیا گیا ہے کہ تعمیل کرنے میں ناکامی کے نتیجے میں عہدے دار اس مسجد کو خود منہدم کر دیں گے اور انہدام کے اخراجات بھی وصول کریں گے؟ آخراس ملک کی سرکاری مشینری اور بھگوا گروہ کو ہو کیا گیا ہے مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان شدت پسند اورمسلم دشمن عناصر کا مقصد صرفِ اور صرف یہ ہے کہ اس ملک پرقبضہ کر نے کے لئے اگر خانہ جنگی تک جانا پڑے توانملک اورمسلم دشمنوں کوکچھ بھی دکھ نہ ہوگا موقع ہے کہ وطن عزیز کی اپوزیشن جماعتیں ا س ملک کو بچانے کے لئے سڑکوں پر نکلیں اورملک کے دستور اور جمہوری نظم و نسق کی حفاظت کریں یہ قدم ہم سبھی کے لئے بہت بہتر ہوگا!  ،ایک اور  دردناک واقعے کے مطابق میرٹھ کی 160 سال پرانی مسجد کو متنازع ریپڈ ریل منصوبے (آرآر ٹی ایس) کی راہ میں رکاوٹ قرار دے کر منہدم کر دیا گیا،تا ہم متعدد رپورٹس میں دعوی کیا گیا ہے کہ یہ مسجد رضاکارانہ طور پر منہدم کی گئی ہے،یہ مسجد دہلی روڈ پر واقع تھی اور عہدے داروں کا کہنا ہے کہ اس کی مسماری منصوبے کی تکمیل کےلئے ضروری تھی، یہ انہدام گذشتہ جمعہ کو سخت پولیس کی نگرانی میں ہوا،جہاں مسجد کا مرکزی دروازہ توڑ دیا گیا اور بجلی کا کنکشن بھی کاٹ دیا گیا،اتر پردیش اورملک کے مختلف ریاستوں میں مذہبی عدم برداشت کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش بڑھتی چلی جا رہی ہے، خاص طور پر یوگی حکومت کی قیادت میں حکومت کے اقدامات سے مسلمانوں میں خوف اور بے یقینی پائی جا رہی ہے،اس طرح کے اقدامات سے مسلمانوں میں خوف اور بے یقینی پائی جا رہی ہے،ان کا خیال ہے کہ اگر اس طرح کے اقدامات جاری رہیں گے تو مسلمانوں کے لئے مزید مشکلات پیدا ہوں گی،سوال یہ ہے کہ اس طرح کے حالات پیدا کرنے کا ذمہ دار کون ہے؟ آخر ہم مسلمانوں کو ملک کا دشمن کیوں سمجھا اور مانا جا رہا ہے یاد رہے یہ ملک آپکا نہی اس ملک کے وجود کو قائم و دائم رکھنے اس ملک کو سنوارنے سجانے اور انگریزوں کے چنگل سے آزاد کرانے میں ہمارے لاکھوں اکابرین علمائے کرام اور بزرگوں کا خون شامل ہے آج جو صاحب مسند ہیں انکا ملک کی آزادی اور ترقی میں رتّی برابر بھی جانی اور مالی تعاون کہیں بھی ثابت نہی جبکہ برٹش سرکار اور انڈیا گیٹ پر ہمارے بزرگوں کی تاریخ سنہرے حروف میں کندہ ہے مٹ گئے ہماری تاریخ کو مٹانے والے!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے