ڈاکٹر عبید الرحمن ندوی
استاد دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالی ہی کائنات کا اور تمام مخلوقات کا پیدا کرنے والا ہے ۔ رب کریم نے تمام مخلوقات میں انسان کو اشرف المخلوقات کے خطاب سے نواز ا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ انسان کو اس دنیا میں خلیفہ بنا کر مبعوث کیا ہے۔ اللہ تعالی نے انسان کو ایک دوسرے سے جڑنے اور خوشی وغم میں شریک ہونے کے لئے ایک Medium یعنی رابطہ اور ذریعہ بنایا ہے، جس کو انسان تین طریقے سے استعمال کر سکتا ہے: ایک زبان کا ذریعہ، دوسرا قلم کا ذریعہ اور تیسرا اشارے کا ذریعہ ۔ مؤخر الذکر کا تعلق چند مخصوص افراد سے ہے اور ثانی الذکر کا اثر اول الذکر سے کافی مؤثر اور دیر پا ہوتا ہے۔ قلم کی اہمیت اور افادیت کا اندازہ ہم یوں بھی لگا سکتے ہیں کہ رب جلیل نے قلم کا ذکر قرآن کریم کی سب سے پہلی وحی میں کیا ہے ۔ اس کے بعد باقاعدہ قرآن کریم کی ایک سورہ اسی نام سے یعنی سورۃ القلم سے موسوم ہے۔ اس طرح لفظ قلم قرآن میں چار مرتبہ آیا ہے۔ دو مرتبہ صیغہ واحد کے ساتھ جیسے الذي علم بالقلم ” ( سورہ العلق : (۴) اور دوسری جگہ جیسے ن والقلم وما يسطرون“ (سورہ القلم : 1) اور دو مرتبہ جمع کے صیغے کے ساتھ آیا ہے جیسے "وما كنت لديهم اذ يلقون أقلامهم أيهم يكفل مریم (سوره آل عمران (۴۴) اور دوسری جگہ ” ولو أنما في الأرض من شجرة أقلام والبحر يمده من “ (سوره لقمان : ۲۷)
ایک قلم کار رقم طراز ہیں: ” قلم کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی کہ تاریخ انسانی ؛ بلکہ اس کا سراغ اس سے بھی پہلے ملتا ہے اس لئے کہ أَوَّلَ مَنْ خَلَقَ اللَّهُ الْقَلَمْ “خدا نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا۔ "جف القلم “ جیسی روایات سے بھی قلم کی تاریخی حیثیت اور اس کی اولیت کا پتہ چلتا ہے۔ جہاں تک قلم کی اہمیت وفضیلت کی بات ہے تو اس کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ خدائے پاک نے اپنی مبارک و عظیم کتاب میں چار اہم مقامات پر اس کا تذکرہ کیا ہے۔ اللہ ایسا ہے جس نے قلم کے ذریعے انسان کو علم سے آراستہ کیا۔حصول علم کے خارجی ذرائع میں سب سے اہم ترین ذریعہ قلم ہے۔ اسی طرح علم کو تو اللہ کا نور کہا گیا ہے اور ذات حکیم و خبیر نے انسان کے لئے جس چیز کو آلہ علم بنایا اس کی اہمیت کا کیا ٹھکانہ اور یہی نہیں؛ بلکہ خدائے علیم نے تو اپنی دائمی کتاب ” قرآن میں قلم نام کی ایک مکمل سورہ نازل فرما کر قلم کو فضیلتوں کا تاج پہنا دیا ہے۔
قلم کے ساتھ ساتھ قرطاس اور سیاہی کا ذکر بھی ضروری ہے؛ اس لئے کہ بادشاہت ملک ( سرزمین ) اور ذارئع کے بغیر کیسے چل سکتی ہے۔ کاغذ و دوات کی بھی ایک تاریخ ہے- ابتدائی دور میں ریت ، پتھروں اور موم کی تختیوں پر نوکدار قلم سے کھود کر لکھنے کا کام ہوتا تھا، خود عہد رسالت میں ہڈیوں، پتوں اور چمڑوں پر لکھنے کا رواج تھا- لیکن بعد کے زمانے نے ترقیات کی بڑی بڑی منازل طے کیں ؛ بطور خاص اسلامی عہد میں قلم کو بڑا عروج ملا، بڑی وسعتیں پیدا ہوئیں اور لکھائی کے نت نئے طریقے ایجاد ہوئے۔
عہد وسطی کے اوائل میں پرندوں کے پروں سے قلم کا کام لینے کا آغاز ہوا۔ قلم کی موجودہ شکل کی ابتدا رومن عہد ہی میں ہو چکی تھی لیکن اس کی عمومیت انیسویں صدی میں ہوئی ، بڑے پیمانے پر قلم کا کارخانہ ۱۸۲۸ء میں برمنگھم (انگلینڈ) میں قائم ہوا، تجارتی طور پر فاؤنٹن بین کی شروعات ۱۸۸۰ءمیں ہوئی اور بال پین کا رواج ۱۹۴۴ء سے عام ہوا۔
رہی قلم کی ضرورت کی بات تو ظاہر ہے کہ آج بڑی بڑی لائبریریوں میں مختلف علوم و فنون پر مشتمل کروڑوں کتابیں قلم ہی کی تو دین ہیں جن کے ذریعے انسان اپنے آپ کو علوم وفنون کے زیور سے آراستہ کرتا ہے اور اپنی نظر وفکر میں وسعت پیدا کرتا ہے۔ آج اگر چہ خطوط کا رواج انحطاط پذیر ہوتا جا رہا ہے اور اس کی جگہ انٹرنیٹ، ای میل اور موبائل نے لے لی اور لوگ قلم سے سبکدوش ہونا چاہتے ہیں ، لیکن اس کے باوجود قلم کی اپنی ایک حیثیت باقی ہے اور رہے گی ؛ اس لئے کہ کچھ چیزیں ایسی ہیں کہ ان کے لئے صرف قلم ہی ہے جس کی سب سے بڑی مثال دستخط ہے۔ ایسے ہی اگر کسی کی جیب میں قلم نہیں ہے تو معاشرہ میں اسے جاہل تصور کیا جاتا ہے، باالفاظ دیگر قلم کا نہ ہونا ان پڑھ ہونے کی علامت ہے، معلوم ہوا کہ پڑھے لکھے اور بے پڑھے میں امتیاز پیدا کرنے والی چیز قلم ہے-

صفحہ کاغذ پہ جب موتی لٹاتا ہے قلم
ندرت افکار کے جوہر دکھاتا ہے قلم
اہل علم، اہل سخن، اہل نظر، اہل وفا
ان کے خد وخال کا نقشہ جماتا ہے قلم
( شورش کا شمیری مرحوم )

قابل ذکر بات یہ ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالی نے بنی نوع انسان کی فلاح و بہبود اور اس کی رشد و ہدایت کے لئے وقتاً فوقتا انبیاء ورسولوں کو مبعوث کیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ان میں سے بعض کو صحیفے اور بعض کو کتا بیں بھی عطا کی ہیں۔ اس طرح یہ سلسلہ آدم علیہ السلام سے لے کر آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہوتا ہے۔ آپ کے بعد نہ کوئی نبی آئے گا اور نہ ہی کوئی آسمانی کتاب نازل ہوگی۔ قرآن کریم ہی آخری آسمانی کتاب ہے۔ آپ ﷺ کے حکم سے قرآن کریم کو لکھ کر محفوظ کیا گیا ہے جو آج تک من و عن اسی طرح موجود ہے۔ جس میں نہ تو تبدیلی ہوئی نہ ہو گی ان شاء اللہ ۔ اسی طرح حضور اکرم ﷺ کے تمام ذخائر حدیث کتابی شکل میں موجود ہیں۔ بلاشبہ یہ قلم کا ہی معجزہ ہے۔
ندوۃ العلماء کے ہونہار فرزند، بلند پایہ ادیب اور انشا پرداز، سابق ناظر عام ندوۃ العلماء حضرت مولانا محمد جعفر مسعود حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ "ذرا سوچئے قلم کا ذکر کب ہوا ؟ اس وقت جب پہلی وحی کا نزول ہوا، جب آسمان سے زمین کو ایک پیغام ملا ، جب فخر کائنات ﷺ کو پروردگار عالم کی جانب سے یہ حکم ہوا اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ * اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ لا عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَم (العلق ۱ ،۵) پڑھیے ! اپنے پروردگار کے نام کے ساتھ جس نے تخلیق فرمائی ، انسان کو منجمد خون سے پیدا کیا، پڑھیے اور آپ کا رب (کریم) خوب نواز نے والا ، اور کرم فرمانے والا ہے، جس نے قلم کو ذریعہ تعلیم بنایا، اور انسان کو ان ( تمام ) چیزوں کا علم عطا کیا جن سے وہ واقف نہیں تھا ۔“
افسوس کہ قلم کی اس اہمیت کو ہم نے نظر انداز کر دیا اور اپنے کو صرف درس و تدریس اور وعظ و تقریر کے دائرہ میں محدود کر دیا ، کمرہ سے ہال اور ہال سے پنڈال ، بس اس کو ہم نے اپنی دنیا سمجھ لیا، اس طرح ہتھیار رکھتے ہوئے بھی ہم بے ہتھیار ہو گئے ، اور ہمارے ہی ہتھیار کو ہمارے ہی دشمن نے ہمارے ہی خلاف بڑی ذہانت، بڑی خوبصورتی ، اور بڑی منصوبہ بندی سے استعمال کیا۔
اپنی ساری فوجی طاقت کے باوجود جب دشمن ہم کو زیر نہ کر سکا ، جسمانی طور پر ہم کو مغلوب نہ کر سکا ، وقتی فتوحات اور زمین کے کسی ایک چھوٹے ٹکڑے پر عارضی قبضہ کے علاوہ اسے کچھ ہاتھ نہ لگا تو اس نے کمال ہوشیاری سے وہ ہتھیار استعمال کیا جس نے ہمیشہ اس کا سر ہمارے آگے جھکایا تھا، اور ہمارے سامنے زانوئے تلمذ تہ کرنے پر اس کو مجبور کیا تھا، پھر کیا تھا وہ ہماری صفوں کو چیرتا ، ہمارے عقائد کو ڈگمگاتا اور ہمارے خیالات کو روندتا ہوا آگے بڑھتا ہی چلا گیا۔
ہوش ہمیں اس وقت آیا جب بہت کچھ ہمارے ہاتھ سے نکل چکا تھا ، اور ترقی پسند ادب کے پجاریوں ، لا دینی ادب کے علمبرداروں ، جنسی ادب کے پروردہ لوگوں اور مغربی تہذیب کے حامل نام نہاد مسلم دانشوروں کی پوری ایک ٹیم تیار ہو چکی تھی ۔اب ہماری اولا د ہی ہمارے خلاف کھڑی تھی، گھر کی اینٹ سے اینٹ بجانے کو تیار تھی ، اس کے اندر بغاوت تھی سرکشی تھی، آنکھوں میں بے اطمینانی، اور دلوں میں بے یقینی تھی ، اس کو شک تھا اپنی روایات پر ، اس کو شبہ تھا اپنی قدروں پر، اس کو شرم آتی تھی اپنی تہذیب و ثقافت پر ، اس کے نزدیک فرسودہ ہو چکی تھیں وہ سب باتیں جو منبر ومحراب سے کی جاتی ہیں، اور آؤٹ آف ڈیٹ ہو چکی تھیں وہ صدائیں جو مدرسوں اور خانقاہوں سے لگائی جاتی ہیں۔
یہ تھا نتیجہ قلم سے بے اعتنائی کا ، خدا کی دی ہوئی ایک بڑی نعمت کی ناقدری کا، قلم تو ہمارے ہاتھ سے گیا ہی لیکن وہ اپنے ساتھ ہماری دنیا بھی لے گیا اور ہماری آخرت بھی ، وہ ہمارے نوجوانوں کو لے گیا جو ہمارے دست و باز و تھے، وہ دماغ لے گیا جو ہم کو ترقی کے بام عروج تک پہنچا سکتے تھے، وہ با صلاحیت افراد لے گیا جو اس وقت کی متمدن اور ترقی یافتہ قوموں کی حاشیہ برداری سے ہمیں آزاد کرا سکتے تھے، وہ تعلیم یافتہ اولاد لے گیا جو ہمارے لیے صدقہ جاریہ بن کر قبر کی تاریکیوں میں اپنے نیک عمل سے اجالا کر سکتی تھی، ہم نے اپنے دشمن کو صرف قلم ہی نہیں دیا بلکہ اپنا سارا سرمایہ دشمن کے حوالہ کر دیا ، ہم نے اس کو دل بھی دیا اور دماغ بھی ، اب جسم تو ہمارا ہے لیکن دل و دماغ اس کا ، اور یہی کہا تھا ایک مغربی مفکر نے کہ ہم اپنی تحریروں سے مسلمانوں کی ایک ایسی نسل تیار کر دیں گے جن کے جسم تو ضرور ان کے ہوں گے لیکن دل و دماغ ہمارے ہوں گے”۔( دعوت فکر و عمل از جعفر مسعود حسنی ندوی ،ص،6-7)

یہ دور "الغزو الفکری کا دور ہے۔ لہذا وقت کی ضرورت ہے کہ ہم اپنے قلم کا صحیح استعمال کر کے اسلام کے سچے اور آفاقی پیغامات کو دوسروں تک پہنچائیں تاکہ مستشرقین اور دوسرے نام نہاد اسکالرز کی طرف سے جو طرح طرح کی چہ مگوئیاں اور بے بنیاد الزامات اسلام کے خلاف لگائے جا رہے ہیں اس کا سد باب کیا جا سکے۔ اس لئے کہ دین اسلام کا مقصد اصلی ہی دنیا میں امن و شانتی قائم کرتا ہے۔ آج دین اسلام کے ہوتے ہوئے بھی اگر کہیں امن و شانتی نہیں ہے تو یہ قصور اسلام کا نہیں بلکہ یہ قصور ہمارا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے