بیدر۔ 21/اپریل (راست): دکنی زبان کے شاعر اورافسانچہ نگار محمدیوسف رحیم میرؔبیدری نے آج 21/اپریل کو ایک پریس نوٹ جاری کرکے ہندوستان کی قدیم زبان ”دکنی“ بولنے والوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ”یوم ِدکنی“ منائیں۔ دکنی زبان کی قدامت خود اس کے مضبوط ومستحکم اور ایک تاریخی پس منظر کی گواہی ہے۔ میرؔبیدری نے بتایاکہ دکنی زبان کاآغاز دکن کے مختلف شہروں جیسے گلبرگہ، بیدر، حیدرآباد، یہاں تک کہ ٹمل ناڈو میں ہوا۔ جس کسی کو دکن اور دکنی زبان کی تاریخ سے دلچسپی ہو وہ اس کامطالعہ کرسکتاہے۔ دکنی زبان اردو سے بھی قدیم زبان ہے۔ اور آج بھی یہ زبان تلنگانہ، کرناٹک، آندھراپردیش،ٹمل ناڈو، مہاراشٹرکے علاوہ دیگر ریاستوں کے چند ایک سرحدی اضلاع میں بولی جاتی ہے۔یہ علیحدہ بات ہے کہ اس کی تعلیمی، تدریسی اور ادبی سمت کوسنوارنے کی جانب ہماری کوئی توجہ نہیں ہے۔میرؔبیدری نے بتایاکہ دکنی ایک نہایت ہی فطری اور سادہ زبان ہے۔جس کی دہقانیت نے لاکھوں لوگوں کادل موہ لیاہے۔
میرؔبیدری نے توجہ دلائی کہ پچھلے ہفتہ حیدرآباد میں دکنی شاعر سلیمان خطیب کی شاعری پر انتہائی منظم اورایک عظیم الشان ثقافتی تقریب منعقد کی گئی تھی جس میں ڈرامہ اور کل ہند مشاعرہ کااہتمام کیاگیاتھا۔ بتایاجاتاہے کہ اس ثقافتی تقریب کے لئے رقمی ٹکٹ بھی رہے۔ جس کی تشہیر سوشیل میڈیا پر زوروشور سے کی گئی۔ دکنی زبان کے کلاسیک شاعرجناب سلیمان خطیب کے گھرانے نے اس کااہتمام کیا، جس پر ہمیں ان کاشکرگذار ہونا چاہیے۔ یہ اہتمام تقاضہ کرتاہے کہ دکنی زبان کے تحفظ کے لئے آئندہ بھی مزید قدم اٹھائے جائیں۔ لہٰذامیری دکنی بولنے والوں سے گزارش ہے کہ وہ ”یوم ِ دکنی“ منائیں۔
مذکورہ ریاستوں کے علاوہ اس ریاست کے وہ افراد دنیا کے جس کونے میں بھی ہوں چاہے گلف میں ہوں، یوکے میں ہوں یاامریکہ میں، یاجاپان، آسٹریلیا، کینیڈا وغیرہ میں ہوں، اپنے اپنے مقام پر ”یوم ِ دکنی“ منائیں۔ زبان سے انسانی محبت فطری ہے اور اس کا اظہا رایک اہم انسانی ضرورت کا اظہار ہے۔ آئیے انسانوں کی لسانی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے ”یوم ِ دکنی“ مناتے ہیں۔

