رِشڑا (صدام حسن): مغربی بنگال کی ادبی تنظیم ’قوسِ قزح ادبی فورم، رشڑا‘ کے زیرِ اہتمام گذشتہ شام ایک یادگار شعری و نثری نشست اور عید ملن پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ یہ نشست رِشڑا کے معروف سماجی کارکن محمد غلام مرتضٰی کے دولت کدے پر منعقد ہوئی، جس میں مقامی اور بیرونی شعراء کے علاوہ علمی و ادبی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

نشست کی صدارت معروف استاد شاعر فیروز اختر صاحب نے فرمائی، جبکہ نظامت کے فرائض نوجوان نعت گو شاعر غلام حسین نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیے۔ محفل کا آغاز صدام حسن کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد شمشیر ساحل اور غلام حسین صاحبان نے بارگاہِ رسالت ﷺ میں ہدیہ نعت پیش کر کے فضا کو منور کر دیا۔ اس موقع پر بلند اقبال (کانکی نارہ) نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی اور تنظیم کی ۲۵ ویں کامیاب نشست پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے اسے رِشڑا کی ادبی تاریخ کا ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔

مشاعرے میں شعراء نے اپنے منتخب کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔ منتخب اشعار ملاحظہ فرمائیں:

فیروز اختر:

میں ہوں حیران کہ چہرہ مرا بھیگا ہوا کیوں ہے

مرے آنسو کہاں گم تھے بھگونے سے ذرا پہلے

بلند اقبال:

تم نمازوں کی بات کرتے ہو

لوگ سنتے نہیں اذان تلک

شکیل رشڑوی:

ہندی ماتھے کی ایک بندیا ہے

اردو آنکھوں کا اک حسیں کاجل

شرر راستی:

کھل گیا سب بھرم حویلی کا

ایک دیوار ٹوٹ جانے سے

شارق ریاض:

بیٹھا ہوا میں ریل میں یہ سوچتا رہا

کیا میرے ساتھ ساتھ یہ رستہ سفر میں ہے

عمران رضا قادری:

پھولوں سے تری راہ سجاؤں میں کس طرح

گلدان تک بھرا نہیں فصلِ بہار میں

صدام حسنؔ اسمعیلی:

کیوں نعرۂ حق تم کو لگا تیر کے جیسا

سچ دار پہ کیوں میرا چڑھایا ہے بتاؤ

عارفہ پروین:

سوچا نہ تھا کہ ایسا بدل جائے گا نصیب

کب سے خیالِ یار کی میں دلدلوں میں ہوں

اس نشست میں گلناز شیخ نے اپنا افسانہ "اظہارِ محبت” پیش کیا جسے بے حد سراہا گیا۔ ان کے افسانے کا یہ شعر خاص طور پر پسند کیا گیا:

اشکوں سے بیاں کر ہی دیا رازِ محبت

ہم سوچ رہے تھے ابھی اظہار کی صورت

نشست کے دوران ادارے کی جانب سے صدرِ محفل فیروز اختر صاحب کو محمد غلام مرتضٰی صاحب کے ہاتھوں اعزازی سند و قلم پیش کی گئی۔ نیز، معروف شخصیت نسیم اشک نے ادارے کے ممبران کے لیے اپنی کتاب "بساطِ فن” کا تحفہ بذریعہ غلام حسین ارسال کیا، جس کا شکریہ بھی ادا کیا گیا۔

محفل کے آخر میں ادارے کے ایک فعال ممبر (میم عین لاڈلہ)، جو ان دنوں ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں، ان کی مکمل صحتیابی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔ اس نشست میں ادبی ذوق رکھنے والے حضرات بشمول یوسف رضا، شہنواز حسین اور وسیم اختر نے اول سے آخر تک شرکت کی اور شعراء کے کلام پر بھرپور داد و تحسین پیش کر کے محفل کی رونق میں اضافہ کیا۔ میزبانِ نشست کی جانب سے شرکاء کی تواضع روایتی سیویوں سے کی گئی اور اہل ذوق کی فرمائش پر آئندہ بھی ایسی نشستیں منعقد کرنے کا اعادہ کیا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے