سہارنپور (احمد رضا): ہم گہرائی سے جائزہ لیں تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ سیرت النبی صلی علیم اور اسوہ محمد صلی علی وسلّم ہی وہ واحد سر چشمہ ہے جس سے معاشرتی سعادت اور فلاح کے چشمے پھوٹتے ہیں غور کرنے والی بات یہ بھی ہے کہ آج مشرقی وسطی میں جو کچھ حالات نظر آ رہے ہیں وہ چودہ سو سال قبل اللہ تعالیٰ کے مقدس کلام قرآن مجید میں موجود ہیں مگر افسوس صد افسوس ملت اسلامیہ ابھی بھی دوسرے لوگوں اور حکومتوں کی چاپلوسی اور غلامی اختیار کئے ہوئے ہیں خدا کی تعلیمات اور سیرت النبی کے درس کو نظر انداز کرتے ہوئے بت پرستی ، خد پرستی ، فرعونیت یہودی ظلم اور ناانصافی کے دردناک واقعات پر چشم پوشی اختیار کئے ہوئے ہے سچائی لکھنے اور بولنے کے لئے کوئی ٹیار نہی ہے ظالموں اور جابروں کی تعریف میں مسلم آبادی سب سے آگے ہے بس یہی تباہی کا اصل سبب ہے لیکن یاد رکھو اللہ تعالیٰ کا فیصلہ عنقریب آئیگا اور تمام فرعونی قوتیں پہلے کی مانند ریزہ ریزہ ہو کر بکھر جائیں گی اللہ تعالیٰ کی حکمت اور بادشا ہت ہمیشہ قائم و دائم رہے گی!  پیارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا میں آمد ہم اہل ایمان پر اللہ کا احسان عظیم ہے پیارے رسول اللہ کی امت میں خد کو پاکر ہمکو اور ہماری نسلوں کو ہر وقت اللہ رب العزت کا شکر گزار ہونا چاہئے حضور اقدس نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں رحمتہ للعالمین بن کر تشریف لائے اور  حضرت عبد اللہ کے گھر سے طلوع ہونے والے اس آفتاب و ماہتاب کی روشنی سے روز اول سے پوری دنیا فیضیاب ہونے لگی ، آپ ﷺ کی آمد و تشریف آوری ایسی نعمت عظمی ہے کہ جس کو خدا تعالیٰ نے قرآن مجید میں مسلمانوں پر احسانِ عظیم سے تعبیر فرمایا ہے ۔ آپ کا سرا پارشد و ہدایت اور قیامت تک آنے والے لوگوں کے لئے کامل نمونہ ہیں اور آپ ﷺ کے اسوہ حسنہ میں دنیا و آخرت کی فلاح و کامیابی کو مضمر کر دیا گیا ہے ، آپ ای ابر رحمت بن کر انسانیت پر برسے اور ان کو کفر و شرک اور ضلالت و گمراہی کے گھٹا گھپ اندھیروں سے نکال کر تو حید ورسالت کی روشنی سے منور کیا محسن انسانیت ﷺ نے  ایک ایسی قوم میں مثالی پاکیزہ اور باکردار روشن زندگی گزاری کہ جن کی بداعمالیوں کی وجہ دنیا خوب واقف رہی حضور ﷺ نے ہمیں یہ بھی سبق / درس اور ہدایات فرمائی کہ ہمیشہ سچ بولا کرو، اپنا وعدہ پورا کیا کرو، حرام باتوں سے بچو خون ریزی اور یتیم کا مال کھانے سے دور رہو، کسی کا ناحق مال نہ کھاؤ، اسی طرح پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانے سے منع کیا اور ساتھ ہی نماز پڑھنے کا حکم دیا ، روزہ رکھنے اور زکوۃ ادا کرنے کی تاکید فرمائی، مہمان نوازی کا درس دیا۔ ہم سب ان پر ایمان لائے اور ان کی اتباع کرتے ہوئے ان پر دل و جان سے فدا ہوئے محسن انسانیت حضرت محمد نہ صرف مسلمانوں بلکہ تمام انسانیت کے لئے رحمت بن کر آئے ۔ آپ نے عرب و عجم کے سامنے ایسا ضابطہ اخلاق مکمل دستور العمل اور شاندار نظام حیات رکھا جو تنگ نظری سے پاک تھا۔ اقوام عالم کے لئے ایسا قابل تقلید اور آئیڈیل نظام جس میں نسلی امتیازات و قبائلی تفاخر کا خا تمہ، مجبوروں، محکموں، خواتین، بچوں اور پیسے ہوئے طبقات کے انسانی حقوق کی گارنٹی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غیر مسلم دانشور، محققین، فلاسفر اور مورخین بھی آپ کی انسانیت کے لئے خدمات کو خراج عقیدت پیش کئے بغیر نہ رہ سکے انگریزی زبان کے مشہور ڈرامہ نگار جارج برنارڈ شاہ Islam Genuine The میں رقمطراز ہیں کہ میں نے محمد ﷺ کے بارے میں بہت پڑھا اور میری ذاتی رائے میں ان کے جیسے شخصیت کوئی نہیں وہ انسانیت کی بقا کے ضامن ہیں اگر ان کی تعلیمات پر عمل کیا جائے تو دنیا کے مسائل حل کر کے اس عظیم الشان دنیا کو خوشیوں اور امن کا گہوارہ بنایا جا سکتا ہے۔ آپ کا حسن اخلاق اور صبر و استقامت ، صلہ رحمی، عفو و درگزر اور سادہ زندگی پوری انسانیت کے لئے بہترین نمونہ ہے۔معلم کائنات کی ذات وصفات اور سیرت مطہرہ ہر شعبہ ہائے زندگی سے منسلک افراد خواہ ان کا تعلق کا روبار سے ہو، خواہ قانون، عدالت، کار ہائے نظام مملکت سے ہو ہر معاملے میں کامل رہنمائی پائیں گے۔ حضور اکرم کے بنائے ہوئے قوانین قیامت تک ہر انسان، ہر نسل، ہر قوم ، ہر ملک ، ہر خطے کے لئے بلا امتیاز رنگ و نسل ہیں ان قوانین پر عمل سے معاشرے میں امن و سکون پیدا ہو گا ظلم وستم ، نا انصافی کا خاتمہ اور حقیقی معنوں میں مساوات انسانی پیدا ہوگی۔۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے