ریاض ( منصور قاسمی): ۳۰ ؍اپریل جمعہ کی شام میزبان ڈلائٹ حارہ ریاض میں گلوبل جھارکھنڈ ویلفیئر ایسوسی ایشن (GJWA) کے زیر اہتمام ” سعودی عرب میں نئی تجارت کی ابتدا کیسے کریں؟ مواقع اور امکانات ” ایک شاندار پروگرام ہوا جس میں بحیثیت مقرر معراج النبی سی ای او گلوبل ایج پروفیشنل اور ضیا النبی سی ای او ایم زیڈ این اینڈ ایسوسی ایٹس شریک ہوئے۔
کلمات استقبالیہ پیش کرتے ہوئے گجوا کی صدر شاہ زین ارم نے کہا : اس پروگرام کے انعقاد کا مقصد جھارکھنڈ کے لوگوں کو تجارتی طریقے اور راستے بتانے ہیں، تاکہ ترقیات کے منازل طے کرسکیں۔ مجھے امید ہے یہاں سے ہم کچھ سیکھ کر جائیں گے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ہماری تنظیم گاہے گاہے مختلف پروگرام پیش کرتی رہتی ہے۔ ڈاکٹر تنویر نائب صدر نے کہا : اس وقت ہم کو صحت ، تعلیم اور معاشی مضبوطی پر دھیان دینا چاہیے خاص پر تعلیم اور معیشت پر، اس لیے آپ لوگ آگے قدم بڑھائیں اللہ مددگار ہے ۔ تنظیم کے ایک اہم رکن سرفراز احمد نے بھی اپنے مختصر بیان میں سامعین کو مخاطب کرتے ہبوئے کہا : ریاض کی دیگر تنظیمیں اب تک جو کام نہیں کرسکیں وہ گلوبل جھارکھنڈ ویلفیئر ایسوسی ایشن نے کیا ۔ تجارت جیسے اہم موضوع پر بامقصد ورکشاپ کا اہتمام کرنا بہت خوش آئند کام ہے۔ امید ہے ہم سب اپنے دامن میں کچھ لے کر جائیں گے۔
مہمان مقرر ضیاء النبی نے اپنے خطاب میں تجارت کے حوالے سے مفید باتیں کہیں۔ انھوں نے بتایا کتنی آمدنی میں کتنے مہینے میں ریٹرن فائل ہوتا ہے ، ٹیکس کیسے ادا کریں گے ، ٹیکس کی عدم ادائیگی کی صورت میں جرمانے کی کیا شکل ہوتی ہے، آڈیٹ کب کرانا ہے ، زکو کا طریقہ کار کیا ہے؟ خصوصی مقرر معراج النبی نے کہا: سعودی عرب کرونا کے بعد بدل گیا ہے ، یہاں بہت سے مواقع کھل گئے ہیں اس سے ہم سب کو فایدہ اٹھانا چاہیے ، نوکری میں محدود آمدنی ہوتی ہے جبکہ تجارت سے ہم معاشی ترقی کر سکتے ہیں اور دیگر لوگوں کو نوکری دے سکتے ہیں۔
پروگرام کی ابتدا قاری عابد حسین کی تلاوت کلام اللہ سے ہوا جس کے بعد معزز مہمان کو گلدستہ پیش کیے گئے ،اختتام محفل سے پہلے مومنٹو بھی دیے گئے ۔ نظامت کے فرائض ضحٰی تنویر نے بہت خوبصورتی سے انجام دیے۔ تنظیم کے جنرل سکریٹری منصور قاسمی نے کلمات تشکر ادا کرنے کے بعد پروگرام کے اختتام کا اعلان کیا جس کے بہترین عشائیہ سے حاضرین لطف اندوز ہوئے۔ اس پروگرام میں سید آفتاب علی نظامی، محفوظ احمد، احسان احمد، باسط ابو معاذ، محمد اسد کے علاوہ دیگر بہت سی معزز شخصیات شریک ہوئیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے