بیدر کے ممتاز مؤرخ اورمؤظف مدرس جناب عبدالصمد بھارتی نے بیدر کی تاریخی عمارتوں اور خود تاریخ پر بے حد کام کیاہے بلکہ ساری زندگی اس فریضہ کی ادائیگی میں لگادی ۔ وہ بیدر کی تاریخ پر اتھارٹی مانے جاتے ہیں۔ ان کی اب تک 6کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ ان سے بیدرکی موجودہ تاریخی عمارتوں اور دیگر امور سے متعلق لیاگیاانٹرویو پیش خدمت ہے ۔ (انٹرویونگار۔ محمدیوسف رحیم بیدری) 
سوال:۔ آپ کی کتابوں کی تفصیل بتائیں۔
جواب:۔ ۱۔بیدر کی تاریخی عمارتیں (1983؁ء )۔۲۔ بیدر کے آثار قدیمہ (مختصر ایڈیشن ) ۔ ۳۔ بیدر آج تک (2009؁ء) ۔۴۔بیدر کے آثار قدیمہ (مفصل)2013؁ء ۔۵۔ بیدر ، ماضی اور حال کے آئینے میں ۔۶۔Bidar & Its Monuments(انگریزی میں ) ۔اس کے علاوہ دوتین کتابیں زیر طبع ہیں۔
سوال :۔ سناہے کوئی گائیڈ اورکسی کتاب کاآپ نے ترجمہ بھی کیاتھا ؟
جواب:۔ جی ہاں ، ڈی ایڈ والوں کے لئے Teaching in English For D.Edکتاب 80صفحات پرمشتمل ہے۔اس کتاب سے پہلے English for Tenth Students
نامی گائیڈ لکھی تھی ۔ اسی طرح 300سے زائد صفحات کی حبیب الدین احمد کی کتاب The Concept of Time & Space in Islamکا اردو ترجمہ 2023؁ء میں کرچکاہوں ۔ جو 358صفحات پرمشتمل ہے ۔
سوال :۔ مؤرخ کومعاشرے سے کتنی عزت ملتی ہے؟
جواب :۔ ایک مخصوص حلقہ ہوتاہے جہاں یہ سب ہوتاہے۔ جب کہ تاریخ سے دلچسپی کسی کو نہیں ہے۔ حتیٰ کہ میں نے ایک مختصر کتابچہ گذشتہ ایک سال کے دوران ترتیب دیا ۔ جس میں قریب قریب 100ایسے افراد کاذکر ہے ، جنہوں نے بیدر کو بنانے اس کو ترقی دینے میں اہم کردار اداکیاہے۔ میں جب ان کے اہل خانہ اور اہل خاندان سے رابطہ کیاتو ان کے بارے میں نہ تفصیلات بتائیں اور نہ تصویر فراہم کی الاماشاء اللہ ۔
سوال :۔ اگر آپ دہلی میں ہوتے تو ؟
جواب :۔ شاید وہاں کچھ عزت ملتی۔ لیکن کبھی خواہش پید انہیں ہوئی۔ بیدر چھوڑنے کو دل ہی نہیں کرتا (سوال :کیوں ؟) بیدر کے ماحول سے ذہنی مطابقت ہے۔ باہر اجنبیت محسوس ہوتی ہے۔ بلاری اور بنگلور البتہ پسند آئے۔ خصوصاً بلاری اس لئے پسند آیاکہ ترقی پذیر شہر ہے۔ لوگ اچھے ہیں۔ مدراس پریسیڈنسی کاعلاقہ ہے ۔انگریزوں کی چھاپ ہے۔ لوگوں میں فرقہ پرستی نہیں ہے۔ ٹیپوسلطان ؒکاقلعہ اور مسجد بھی بلاری میں ہیں۔
سوال :۔ بیدر اِن سالوں میں کتنا بدلہ ہے اور آیا یہاں کی تاریخی عمارتیں محفوظ ہیں ؟
جواب :۔ تاریخی شہر بیدر بہت بدل گیاہے۔ بیدر کے اطراف واکناف میں پر فضا میدان دیکھنے کوملتے تھے۔اب وہاں مکانات تعمیر ہوگئے ہیں۔ مزروعہ علاقے گھٹتے چلے جارہے ہیں۔ ہم نئی کمان کے پاس ٹہرکر دیکھتے تو ائرفورس تک کاعلاقہ خالی آنکھوں سے نظر آجاتاتھا۔ برید شاہی مقابر نظر آتے تھے ۔ اب سب کچھ مکانات اور فیکٹریوں سے اٹا ہواہے۔ محکمہ آثار قدیمہ اپنا فرض اتارنے کی جیسے تیسے کوشش کررہاہے۔ فصیلوں پر خود روپودے اگے ہوئے ہیں ۔ چند فصیلوں میں تناوردرخت بن چکے ہیں جن سے خطرہ ہے۔ ان کے قطع وبرید کاکام محکمہ آثار قدیمہ نہیں کرتا۔ قلعہ کی 2-3دیواریں منہدم ہوچکی ہیں۔ اس کی مرمت پر توجہ نہیں ہے۔ محمودگاوان کاتاریخی مدرسہ گود لیاگیا لیکن کوئی ترقی دیکھنے کونہیں مل رہی ہے۔ کلس گرنے کو ہے لیکن اس کواس کی جگہ پر مستحکم کرنے کاانتظام نہیں ہوا۔ مہاراشٹر ریاست کے اورنگ آباد
میں تاریخی عمارتوں پر توجہ دی جاتی ہے۔ان لوگوںنے اپنے شہر کے دروازوں کومحفوظ کررکھاہے۔ بیدر میں ایسا نہیں ہے۔دلہن دروازہ اور تلگھاٹ دروازہ کا برا حال ہے۔
سوال :۔ ایسے بیدری افراد جنہوں نے بیدر کی تاریخ پر کام کیاہو؟
جواب :۔ سید محمد مؤرخ بیدر ہی کے تھے ۔ انھوں نے کام کیا۔ حالیہ مؤرخین میں آنجہانی بی آر کونڈاکونام لیاجاسکتاہے۔ اسداللہ علوی مرحوم ، اور عبدالغفار ظفر کے نام سامنے آتے ہیں۔ ظفرصاحب مرحوم کو تاریخ سے خاص دلچسپی تھی ۔ ان کے کئی مضامین شائع ہوئے ہیں۔ محمد ظفراللہ خان مظاخ ؔ سے بھی بیدرکی مستند تاریخ معلوم کی جاسکتی ہے۔ مرزامحمودبیگ چشتی صابری نظامی کوتاریخ سے دلچسپی ہے لیکن ان کادائرہ علیحدہ ہے۔ دیووپتا ر نے محمودگاوان پر کام کیاہے۔ رشی کیش دیسائی نے بیدر سے متعلق کئی مضامین انگریزی میں لکھے ہیں۔ عبدالصمدمنجووالا کو بھی تاریخ سے دلچسپی ہے لیکن کوئی تحریر ان کی نہیں ہے۔ وہ اگر اس طرف توجہ دیں تو عین ممکن ہے کہ بیدر کی تاریخ کے کچھ گوشے محفوظ ہوجائیں۔ یوٹیوب پر بھی کچھ چیزیں کوئی صاحب تسلسل کے ساتھ پیش کررہے ہیں۔
سوال :۔بیدر کے تعلیمی اداروں کے بارے میں کیاکہتے ہیں ؟
جواب :۔ بیدر میں کئی ایک تعلیمی ادارے قائم ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان تعلیمی اداروں نے ڈاکٹر اورانجینئر س دئے ہیں۔ بیدر میں مسلم ڈاکٹر س قریب قریب نہیں تھے۔ اکادکا کوئی ڈاکٹر ہوتاتھا۔ اب مسلم ڈاکٹر س کا عمل دخل بڑھ گیاہے مگر ہر ایک ڈاکٹر کی نگاہ پیسہ بنانے پر ہے۔ کوئی مخلصانہ اور بے غرضانہ پیشہ چلارہاہو،ایسا دِکھائی نہیں دیتا۔
سوال :۔ بیدر کے حکیموں کے بارے میں کچھ بتائیں ؟
جواب :۔ خونی چبوترے کے سید احمد صاحب اور ڈاکٹر محمود بیگ محمودی رمزؔصاحب (محمد بیگ صاحب)، درگاہ پورہ کے ایک شاہی حکیم ہواکرتے تھے ، نام بھول رہاہوں ۔ محمودمحی الدین کنج نشین صاحب ۔ معین الدین حسینی مدرس تھے ، اور حکمت سے بھی واقف تھے چشتیہ پورہ والے ۔ اسی طرح قادریہ پورہ بیدر کے اِبّن باشاہ حکمت کیاکرتے تھے ۔ دعاؤں کے ذریعہ بھی علاج ہوتاتھا۔
سوال :۔ بیدر کے ادب کے بارے میں کیاکہنا چاہیں گے ؟
جواب :۔ بیدر کے ادب کی اپنی ایک انفرادیت ہے ۔ یہاں کی بولی ، یہاں کی زبان دانی ، تحریر وتقریر محفوظ ہے۔ جو دلی اورحیدرآبادکی زبان کی طرح محسوس ہوتی ہے۔
سوال :۔ بیدر کی خواتین کاذکرادب کے حوالے سے کس طرح کریں گے آپ ؟
جواب :۔ مولوی محمد حسین صاحب کی اہلیہ بیدر کی پہلی میٹرک پاس خاتون تھیں۔ یہ لوگ گلبرگہ والے تھے لیکن بیدر میں بس گئے تھے ۔ ان ہی کی پڑپوتی رخسانہ نازنین ہیں۔ مسیح الدین احمد پیروکار صاحب کی اہلیہ نکہت قریشیہ مضامین لکھاکرتی تھیں۔ نئی کمان کی زبیدہ بیگم صاحبہ محکمہ ء تعلیمات میں تھیں۔ اچھی زبان بولتی تھیں۔ شفیعہ اوررفیعہ قادری دوبہنیں تھیں اب کہاں ہیں پتہ نہیں چلتا۔ اسی طرح ریحانہ بیگم نے بھی ادب کے لئے کام کیا ۔ کورونا کے دوران اس جہان سے گزرگئیں۔
سوال :۔ شاعر حیات حضرت رشید احمدرشیدؔکی تاریخ پیدائش کے بارے میںکچھ بتلائیں ۔
جواب :۔ رشید صاحب کی تاریخ پیدائش کے بارے میں معلومات کے لئے مجھے توفیق احمد صاحب مرحوم نے مامور کیاتھا۔ تاکہ رشید صاحب کیلئے وظیفہ کی کارروائی کی جاسکے۔ MPHSCسے سر  ٹیفکیٹ کی ضرورت تھی ۔ جس کانام مدرسہ فوقانیہ عثمانیہ بیدر تھا۔ داخلہ اور خارجہ کے ریکارڈ میں تاریخ پیدائش وہی ہے جو میں نے رشید صاحب کی درج کی ہے یعنی 30؍جون 1913؁ء ۔ البتہ تاریخ وفات سے متعلق مجھ سے تسامح ہواہوگا۔
سوال :۔ کوئی ایساشعر جس نے آپ کی زندگی پر اثر چھوڑا ہو؟
جواب :۔ جوش ؔکا ایک شعر ہے جو میری زندگی پر اثر انداز ہوا۔ وہ شعر کچھ یوں ہے     ؎
بہار میں تو، زمیں یہ بہار اگلتی ہے
جو مرد ہوتو خزاں سے بہار پیدا کر
سوال :۔ موجودہ اور آنے والی نسل کو کوئی پیغام ؟
جواب :۔ آنے والی نسل کے لئے تعلیم بے حد ضروری ہے۔ اس کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ AIکی تعلیم کو لازمی قرار دیاجاسکتا ہے۔ ورنہ دیگر اقوام سے پیچھے رہ جانے کادھڑکا لگارہے گا۔ ایمان وعقیدے پر قائم رہنا اور خود انحصاری بھی ضروری ہے۔ لڑکیاں بھی تعلیم حاصل کریں لیکن ان کی تربیت بے حدضروری ہے۔ جس طرز کی ان کی معاشرت ہورہی ہے ،ا س سے اتفاق ممکن نہیں۔
٭٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے