محمدیوسف رحیم بیدری

        ڈیجیٹل ”کاکروچ جنتاپارٹی“(CJP)کا ہندوستان بھر میں سواگت کیاجارہاہے۔ اس پارٹی کوخوش آمدید اور ویلکم کیاجارہاہے۔ اور کہاجارہاہے کہ اس طر ح کی پارٹی کی فوری ضرورت ہے۔ بی جے پی، کانگریس، عام آدمی اور دیگر سیاسی پارٹیوں سے مقابلہ کرتے ہوئے سوشیل میڈیاسائٹس پر ووٹ بھی طلب کئے گئے اور کاکروچ جنتاپارٹی (سی جے پی) کو سب سے زیادہ ووٹ مل گئے۔ اور اب تازہ خبر یہ آرہی ہے کہ کاکروچ جنتاپارٹی کے ڈیجیٹل اکاؤنٹ کومعطل کردیاگیاہے جس کے پیچھے مرکزی حکومت کاہاتھ ہے۔ سی جے پی یعنی کاکروچ جنتاپارٹی سے بی جے پی کو خطرہ بتایاجارہاہے۔ اس کاکروچ جنتاپارٹی کی آندھی میں بی جے پی کو اڑ جانے کااندیشہ ہے۔اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کے بجائے صرف ہنساہی جاسکتاہے کہ کاکروچ سے بی جے پی کو ڈر لگ رہاہے۔ یہ کوئی بسنتی تو ہے نہیں کہ کاکروچ سے ڈرجائے۔
کاکروچ جنتاپارٹی:۔ ہم سے زیادہ نوجوان جانتے ہیں کہ سی جے پی(کاکروچ جنتاپارٹی) والوں نے AIٹولس کا استعمال کرتے ہوئے انسانی چہروں پر کاکروچ کے چہرے لگوارہے ہیں اور اس نئی ہیئت والے ویڈیوز سوشیل میڈیا پر اپلوڈ کرکے تفریح کے ساتھ ساتھ سیاسی تبدیلی کی طرف بھی نوجوانوں کو گامز ن کرنے کاخدشہ لاحق ہوگیاہے۔ معاملہ چیف جسٹس آف انڈیا (CJI)کے اس بیان سے شروع ہواجس میں انھوں نے مبینہ طورپر بے روزگارنوجوانوں کو کاکروچ اورپیاراسائٹ سے تشبیہ دیتے ہوئے کہاکہ  یہ بے روزگارنوجوان جن کے پاس جعلی ڈگری ہوتی ہے وہ اس کے ذریعہ جرنلزم میں داخل ہوجاتے ہیں۔ یاپھربے روزگاری کے سبب سوشیل میڈیاپر دن رات لگے رہتے ہیں۔ اسی توسط سے RTIاکٹوسٹ بھی بن جاتے ہیں۔ اور سسٹم (حکومت)پرحملہ کرتے ہیں۔ یہ دراصل دیمک ہیں۔ جیسے ہی یہ بیان سامنے آیا کئی طرح کی افواہیں پھیل گئیں اور دیکھتے ہی دیکھتے گذشتہ ایک ہفتہ کے دوران ہر طرف ”کاکروچوں“ کی باڑ آئی ہوئی ہے۔ دلی سے گلی تک کے ہر بچے بچے کو کاکروچ بننے کاجنون چڑھاہواہے۔ ویسے یہ آندھی ہے، جس کو قابو میں کرلیاجائے گا، آندھی اور تبدیلی میں بہت فرق ہوتاہے۔ آندھی کو تبدیلی کی طرف جانے ہی نہیں دیاجائے گا۔پھر بھی جن گلوں کوکھلنا ہے و ہ کھل کے رہتے ہیں۔
لیکن ہمارا موضوع ”اردو کے کروچ“ ہیں۔ جب ہر کوئی کاکروچ بنابیٹھاہے۔”آئی ایم کاکروچ“نامی ٹی شرٹ ہماری ریاست کرناٹک کے وزیراعلیٰ سدرامیالانچ کررہے ہیں اور ہرطرف جوش وجذبہ دیکھنے کو مل رہاہے، ایسے میں سوال پید اہوتاہے کہ ”اردو کاکروچ“ کہیں پر ہیں یا یہ کیڑے مکوڑے اب ختم ہوچکے ہیں۔ انسان جو اشرف المخلوقات ہے۔اس کو کاکروچ کہنے پر کاکروچ کی طرح پیش کرتے ہوئے مثبت کام انجام دیش کا نوجوان انجام دے رہاہے تو ایسے میں اردو کاکروچ کی تلاش بھی ضروری ہوجاتی ہے۔
آ ج پورے ملک میں صورتحال یہ ہے کہ اہل اردو، اپنی اردو زبان کی طرف متوجہ نہیں ہیں۔ ہر طرف انگریزی کابول بالاہے۔ گویا ہم انگریزی کو چاٹ رہے ہیں۔ختم کرنے کے لئے نہیں چاٹ رہے ہیں۔ بقول شخصے انگریزی کو گھی لگاہواہے اس لئے چاٹ رہے ہیں۔ کنڑی زبان کے بزرگ مصنف جناب دیشامس ہڈگی نے کبھی کہاتھا”انگریزی کو جب تک گولی نہیں ماری جائے گی، تمام زبانیں ترقی نہیں کریں گی“ دیشامس ہڈگی یہ کہہ کر دنیا سے چلے گئے لیکن انگریزی پڑھنے والی موجودہ نسل خصوصا ًاس نسل کی مائیں انگریزی سے بڑاپیار کرتی ہیں۔ انگریزی کو بھگوان کادرجہ دینے سے بھی چوکتی نہیں ہیں۔ کیوں کہ ان کے بچوں کوتعلیم حاصل کرنے کے بعد پیٹ پالناہے اور پیٹ پالنے کے لئے ان کے نزدیک انگریزی زبان سے بڑھ کر دوسری کوئی زبان نہیں ہے۔ کنڑا، تلگو، مراٹھی، گجراتی اور دیگر زبانیں انگریزی سے مات کھائی ہوئی ہیں جن میں اردو زبان بھی شامل ہے لیکن اردو والے تو انگریزی سے نہیں ایسالگتاہے ہر زبان اور ہر سرکاری فرمان سے ڈرتے ہیں۔ اپنی زبان کی بقا کے لئے جب کوئی قوم ڈٹ جاتی ہے تب ہی فتح اوراقبال مندی کے زینے اس کے حصے میں آتے ہیں لیکن یہاں اردو سے محبت دیکھنے کونہیں ملتی۔
اسکولوں میں داخلوں کا موسم ہواکرتاہے۔ اس موسم میں کوئی اردو کاکروچ یااردو شیر سامنے آکر یہ مہم نہیں چلاتاکہ اردو اسکولوں میں داخلہ لے کر اپنی زبان ہی نہیں اپنے تہذیب وتمدن کوبچائیں۔ گنگاجمنی تہذیب کی حفاظت کریں۔ کوئی اردو کا”کاکروچی مدرس“ کبھی غیرمسلم محلوں میں پہنچ کر یہ نہیں کہتاکہ قریب میں اردو کاسرکاری اسکول /خانگی اسکول ہے براہ کرم اپنے بچوں کااردو اسکول میں داخلہ کروائیں۔ زبانیں رابطہ کا ذریعہ ہوتی ہیں، وہ کسی کی خصوصی ملکیت نہیں ہوتیں۔لیکن ایسا بھی ہماری زبانوں کے ساتھ ہواکہ زبانیں دھرم،مذہب اور طبقات سے جوڑ دی گئیں۔ اور ذہن تنگ ہوکر رہ گئے۔
اردو کاکروچوں کی ضرورت:۔ کچھ تنظیمیں بلاشبہ اردو کی خدمت کررہی ہیں۔ لیکن آج کے صورتحال کو دیکھتے ہوئے اردو کاکروچ کی سخت ترین ضرورت ہے۔ ایسے اردو کاکروچ جو اپنی زبان کو ترقی دلاسکیں۔ ایسے کاکروچ جو اپنے بچوں اورچھوٹے بھائی بہنوں کواردو اسکولوں میں داخلہ دِلاسکیں۔ایسے کاکروچ جو اردو تعلیم کو پرائمری سے لے کر کالجس اور پی جی تک پہنچاسکیں۔ایسے کاکروچ جو اردو زبان کے ادب کو ترقی دلانے کے لئے خود مصنف بنیں۔ شاعر وادیب بنیں۔ لکھاری بنیں۔ اور اردو میں ہرقسم کے مضامین لکھ کر، سوشیل میڈیا پر ان مضامین اور کتابوں کی تشہیر کرتے ہوئے دنیا کو یہ بتادیں کہ اردو کاکروچ بلاشبہ یہ سمجھتے ہیں کہ اردو ایک بڑی زبان ہے۔ ہر طرح کے جذبات، احساسات، علمی، سائنسی، جغرافیائی اور سماجی مضامین کو بھی یہ زبان اپنے دائرہء اثر میں رکھتی ہے۔ ان مضامین کاحق اداکرنے کی اردو زبان میں صلاحیت ہے۔ اس طرح ہم اردوکاکروچ سمجھتے ہیں کہ اردو زبان دنیا کی ایک متمول زبان ہے۔ اردو کے کاکروچو، (طالبات اور خواتین کاکروچیو)سن لو، وقت کسی کے لئے نہیں رکتا۔ اس کو گزر نا ہے۔ وہ گزر جائے گا، ہم بھی یقینی طورپرگزرجائیں گے لیکن گزرنے سے پہلے اپنی زبان اردو کے لئے کچھ کرجائیں ورنہ اردو کے کاکروچ میں اور ایک گندے ماحول کے گندے کاکروچ میں کوئی فرق نہیں رہ جائے گا۔
اردو کے نوجوانوں سے اپیل:۔ آخر میں اردو سے تعلیم حاصل کرچکے نوجوان طلبہ وطالبات سے گزارش ہے کہ براہ کرم، اپنی زبان اردو کی قدر دانی کریں۔ اس کی اچھائی کو اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ سماج، ملک اور سوشیل میڈیاپر اردوکی اچھائی کو بیان کرنے کاسلسلہ شروع کریں۔اردو اسکولوں میں نئی نسل کاداخلہ کروائیں۔ اپنے شہر یا گاؤں کے اردو اسکول بچائیں۔ اردو صحافیوں سے ہرممکنہ تعاون کریں۔ اور ان سے اردو کی ترقی کے لئے تعاون لیں۔ اردو لیکچررس بننے کاجذبہ اپنے اندر رکھیں۔ سیاست دانوں سے اردو ز بان کے لئے نمائندگی کریں۔ اردو پڑھنے والے طلبہ وطالبات کی سماجی خدمت ضرور کریں۔جہاں کہیں اردو تنزلی کاشکار ہے وہاں اردو کے کاکروچوں اور کاکروچیوں کا ساتھ لازمی ہے۔ چوں کہ بات کاکروچوں کی نکلی ہے توآخر میں جاتے جاتے کاکروچ عنوان پر کچھ اشعار بھی سن لیں    ؎
کتاب زور سے پھینکی خدا کاشکرکیا
کہ کافکا کی جگہ کاکروچ ماراگیا
ادریس ابر
کرے گا کون محبت کی آروز کہ یہاں
ہرایک جسم سے لپٹے ہیں کاکروچ ابھی
آفتاب خان
سیاسی رام انہیں روزگار کب دیں گے؟
اور ان سے عشق کافنڈا ہیں، کاکرو چ نہیں
میرؔبیدری
 کاکروچوں،مکڑیوں کی فصل آکر تو بھی دیکھ
عمر بھر دیکھا جو میں نے وہ گھڑی بھر تو بھی دیکھ
عتیق اللہ
ڈرا،نہ ہوں مرا، میں کاکروچ ہوں
میں دیش کا یووا، میں کاکروچ ہوں
میرؔبیدری

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے