قرآن رشد و ہدایت کا منبع، نور ہدایت اور سراپا شفاء ہے: محبوب عالم سلفی

نوگڈھ(سدھارتھ نگر): آج بتاریخ 24 مئی 2026ء بروز اتوار بعد نمازِ مغرب مرکز آفاق لتحفیظ القرآن الکریم، مہدئیا، ضلع سدھارتھ نگر، یوپی میں تکمیلِ حفظِ قرآن کی سعادت حاصل کرنے والے خوش نصیب طلبۂ کرام کے اعزاز میں ایک نہایت ہی بابرکت اور پُروقار تقریب منعقد ہوئی۔ اس نورانی مجلس میں علمائے کرام، حفاظِ عظام، معززینِ علاقہ، طلبۂ کرام اور عوام الناس کی کثیر تعداد نے شرکت کرکے تقریب کو رونق بخشی۔ تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک، حمدِ باری تعالیٰ اور نعتِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا، جس سے پورا ماحول روحانیت اور نورانیت سے معطر ہوگیا۔

تقریب کی نظامت کے فرائض جناب مولانا حافظ خالد رشید سراجی حفظہ اللہ(نائب ناظم جمعیت اہلِ حدیث حلقہ بڑھنی) نے نہایت خوش اسلوبی، متانت اور بہترین انداز میں انجام دیا۔ اپنے شستہ لب و لہجے، عمدہ ربط اور دل نشیں طرزِ بیان کے ذریعے انھوں نے ابتدا سے اختتام تک پوری مجلس کو نہایت خوب صورتی کے ساتھ مربوط رکھا۔

افتتاحی خطاب کرتے ہوئے مولانا جمشید عالم عبد السلام سلفی حفظہ اللہ (ناظم جمعیت اہلِ حدیث حلقہ شہرت گڑھ) نے طلبۂ حفظ کو نہایت قیمتی اور فکر انگیز نصائح سے نوازا۔ انہوں نے فرمایا کہ قرآنِ کریم کا محض حفظ کر لینا ہی کافی نہیں بلکہ اس کے ساتھ فہمِ قرآن، تدبر فی القرآن اور عمل بالقرآن بھی بے حد ضروری ہے۔ انہوں نے حفاظِ کرام کو اخلاص، تقویٰ، حسنِ اخلاق اور قرآن کے تقاضوں کے مطابق زندگی گزارنے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ تکمیلِ حفظ اور دورہ کی تکمیل کے بعد شعبۂ عربی میں باقاعدہ تعلیم ضرور حاصل کرنی چاہیے تاکہ قرآنِ کریم کے معانی و مفاہیم، اس کے احکام اور اس کی حکمتوں سے صحیح طور پر واقفیت حاصل ہو سکے۔

بعد ازاں مہمانِ خصوصی الحاج جناب ممتاز احمد خاں صاحب (نیتا جی) نے مختصر مگر نہایت مؤثر اور سبق آموز خطاب فرمایا۔ انہوں نے طلبۂ کرام کو خوب محنت وجاں فشانی، مسلسل دہرائی، سبق کی مضبوطی اور یادداشت کو پختہ بنانے کی نصیحت کی۔ ساتھ ہی انہوں نے اس افسوس ناک اور قابلِ مذمت رویے پر سخت تنبیہ فرمائی کہ بعض مقامات پر محض حفظ کی تکمیل کا دعویٰ کرکے جماعت وجمعیت کے اہم ذمہ داران اور اکابر علمائے کرام کے ہاتھوں جھوٹی دستار بندی کروائی جاتی ہے اور شہادتِ زور کا سہارا لیا جاتا ہے، حالاں کہ یہ نہایت سنگین گناہ، کھلی بددیانتی اور قوم و ملت کے ساتھ بہت بڑا دھوکہ ہے۔ انہوں نے واضح فرمایا کہ محض قرآن مکمل کرلینا کافی نہیں، بلکہ تکمیلِ حفظ کے بعد دور، مراجعت اور مسلسل مشق کے مراحل سے گزر کر قرآنِ کریم کو مضبوط کرنا بے حد ضروری ہے، کیوں کہ بغیر پختگی کے سند اور دستار سے نواز دینا درحقیقت بچوں کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ اور امت کے حوالے خام اور کمزور حفاظ تیار کرنا ہے۔ انہوں نے ذمہ دارانِ مدارس، اساتذۂ کرام اور سرپرستوں کوخصوصیت کے ساتھ توجہ دلائی کہ وہ اس عظیم امانت کے معاملے میں سچائی، دیانت داری اور اخلاص کو اختیار کریں اور محض نام ونمود یا وقتی شہرت کے بجائے ایسے مضبوط اور باصلاحیت حفاظ تیار کرنے کی فکر کریں جو صحیح معنوں میں قرآن کریم کے محافظ، عامل اور داعی بن سکیں۔

اس کے بعد مولانا سعود اختر عبد المنان سلفی حفظہ اللہ(نائب ناظم ضلعی جمعیت اہلِ حدیث، سدھارتھ نگر) نے نہایت ولولہ انگیز اور ایمان افروز خطاب فرمایا۔ انہوں نے طلبۂ کرام کو علمِ قرآن کی رفعت وعظمت، حفظِ قرآن کی فضیلت، حاملِ قرآن کے مقام اور قرآن سے وابستگی کی بے شمار برکتوں سے آگاہ کیا۔ ان کے پُراثر اور درد بھرے اندازِ بیان نے حاضرین کے دلوں میں قرآنِ کریم کی محبت، دین کی خدمت اور کتابِ الٰہی سے مضبوط تعلق کا جذبہ تازہ کردیا۔

بعدہ مولانا غیاث الدین سلفی حفظہ اللہ(پرنسپل معہد الرشد، تتری بازار) نے اپنے خطاب میں قرآنِ کریم سے غفلت برتنے، اسے یاد نہ رکھنے اور اس کے حقوق ادا نہ کرنے پر وارد سخت وعیدوں کو تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا۔ انہوں نے کہا کہ قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کی عظیم ترین نعمت اور انسانیت کے لیے سرچشمۂ ہدایت ہے، اس لیے ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ قرآن سے مضبوط تعلق قائم کرے، اس کی تلاوت کرے، اس پر عمل کرے اور اپنی زندگی کو اس کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرے۔

اس کے بعد مولانا عبد الرشید سلفی حفظہ اللہ(نائب ناظم جمعیت اہلِ حدیث ،حلقہ شہرت گڑھ) نے طلبۂ کرام کو نہایت نصیحت آموز انداز میں خطاب کرتے ہوئے وقت کی قدر کرنے، اساتذۂ کرام کا ادب و احترام بجا لانے اور قرآنِ کریم کے ساتھ مضبوط تعلق قائم رکھنے کی تاکید فرمائی۔ انہوں نے فرمایا کہ حفاظِ کرام امت کا قیمتی سرمایہ اور معاشرے کی عظیم امانت ہیں، لہٰذا انہیں اپنے کردار، گفتار اور اعمال کے ذریعے قرآنِ کریم کا عملی نمونہ بننا چاہیے۔

تقریب کے صدارتی خطاب میں شیخ وصی اللہ عبد الحکیم مدنی حفظہ اللہ(ناظم ضلعی جمعیت اہل حدیث، سدھارتھ نگر) نے نزولِ قرآن کے عظیم مقاصد، اس کی ہدایت و رحمت اور امتِ مسلمہ کی ذمہ داریوں پر نہایت جامع اور بصیرت افروز گفتگو فرمائی۔ انہوں نے واضح کیا کہ قرآنِ کریم صرف تلاوت یا زبانی یاد کرنے کے لیے نازل نہیں کیا گیا بلکہ یہ پوری انسانیت کے لیے مکمل ضابطۂ حیات اور ہر شعبۂ زندگی میں رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔ انہوں نے طلبہ اور حاضرین کو قرآن کو سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور اس کے پیغام کو دوسروں تک پہنچانے کی خصوصی ترغیب دی۔

آخر میں مرکز آفاق کے منتظم و ذمہ دار مولانا رفیع احمد ندوی حفظہ اللہ نے نہایت دل سوز، فکر انگیز اور مؤثر خطاب فرمایا۔ انہوں نے مرکز کے اغراض و مقاصد، طلبہ کی شب و روز محنت، اساتذۂ کرام کی قربانیوں اور اہلِ خیر کے تعاون کا تذکرہ کرتے ہوئے حاضرین سے دعا اور تعاون کی اپیل کی۔ ان کے درد بھرے خطاب نے حاضرین کے دلوں کو گہرائی سے متاثر کیا۔ انہوں نے تمام مہمانانِ گرامی، معاونین، محبینِ ادارہ اور تقریب میں شرکت کرنے والے تمام افراد کا شکریہ ادا کیا۔

اسی کے ساتھ یہ بابرکت اور یادگار مجلس اپنے اختتام کو پہنچی۔ اس موقع پر درج ذیل خوش نصیب طلبۂ کرام کی تکمیلِ حفظِ قرآن پر ان کی حوصلہ افزائی اور تکریم کی گئی:

• حافظ محمد ارسلان ضمیر اللہ خاں

• حافظ محمد شمیم حقیق الدین خاں

اللہ تعالیٰ ان حفاظِ کرام کو قرآنِ مجید کا سچا خادم، دینِ اسلام کا مخلص داعی اور اپنے اساتذہ و والدین کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے، انہیں علمِ نافع، عملِ صالح، اخلاص اور استقامت کی دولت سے مالامال فرمائے اور ادارہ کے ذمہ داران، اساتذۂ کرام، معاونین اور تمام اہلِ خیر کی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے