حج: رنگ، نسل، زبان اور سرحدوں سے بالاتر توحید کا عالمگیر اعلان: مولانا رفیق احمد انواری صاحب
رحیم سینٹر کے ہال میں اسکول انتظامیہ کا ایک انتہائی اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں کتاب "حج مبارک ہو” کی رسم اجراء عمل میں آئی۔ یہ منفرد کتاب خاص طور پر ان خوش نصیب حجاجِ کرام کی خدمت میں پیش کرنے کے لیے مرتب کی گئی ہے جو فریضۂ حج کی سعادت حاصل کر کے لوٹے ہیں۔
کتاب کے اردو ایڈیشن کی رسمِ اجراء جامع مسجد اندرون قلعہ رائچورکے ممتاز امام و خطیب مولانا رفیق احمدانواری صاحب کے دستِ مبارکعمل میں آئی، جبکہ اس کے انگریزی ترجمے کی رسمِ اجراء معروف ڈاکٹر کلیم بہادر صاحب، اسوسی ایٹ پروفیسر،رمس، رائچورکے بدست عمل میں آئی۔
حج کے بعد یاد دہانی کی ضرورت: ڈاکٹر کلیم بہادر صاحب کا اظہارِ خیال
اس پروقار موقع پر حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر کلیم بہادر صاحب نے کتاب کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے مصنف کی کاوش کو سراہتے ہوئے کہا:حج کے بعد کی زندگی کو منظم کرنے کے لیے اس نوعیت کی کتاب کا تصور بے حد منفرد اور وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یہ کتاب حجاج کے لیے ایک بہترین اور مستقل یاد دہانی کا ذریعہ ثابت ہوگی۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ انسان روزمرہ کے مشاغل اور گزرتے وقت کے ساتھ حج کے دوران حاصل ہونے والی روحانی کیفیات کو فراموش کر بیٹھتا ہے۔ لیکن اس کتاب کا مطالعہ ایک حاجی کو مسلسل یہ یاد دلاتا رہے گا کہ وہ کتنے عظیم فریضے کی ادائیگی کر کے لوٹا ہے اور اب اسے معاشرے میں کس طرح کی مثالی اور پاکیزہ زندگی گزارنی چاہیے۔
حج کا اصل حاصل یہ ہے کہ ہر لمحہ توحیدِ باری تعالیٰ اور فکرِ آخرت یاد رہے: مولانا رفیق احمدانواری صاحب کا بصیرت افروز خطاب
محفل کے مہمانِ خصوصی مولانا رفیق احمد انواری صاحب نے اپنے مخصوص اور دلنشین انداز میں فریضۂ حج کی اہمیت اور اس کے فلسفے پر جامع روشنی ڈالی۔ انہوں نے فرمایا کہ حج اسلام کا ایک ایسا بنیادی اور اہم رکن ہے جس کی فرضیت کا انکار انسان کو کفر کی حدوں تک لے جاتا ہے اور صاحب استطاعت ہونے کے باوجود اس کی ادائیگی میں بلاوجہ تاخیر کرنا سخت گناہ کا باعث بنتاہے۔
مولانا نے بین الاقوامی تناظر میں حج کے اجتماع کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج پوری دنیا میں حج کا منظر نامہ ایک ناقابلِ تردید سچائی اور معجزہ بن چکا ہے۔ تاریخِ انسانی گواہ ہے کہ دنیا کی کوئی بھی طاقت یا تنظیم اتنے بڑے اجتماع کو اتنے شاندار حسنِ انتظام، نظم و ضبط اور امن و امان کے ساتھ منعقد کرانے سے قاصر ہے۔ حج کے مناسک کی پُر امن ادائیگی کو دیکھ کر پوری دنیا انگشت بدنداں اور حیرت زدہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ الگ الگ ملکوں، مختلف رنگوں اور زبانوں سے تعلق رکھنے والے لاکھوں انسان جب ایک ہی سفید لباس (احرام) میں ملبوس ہو کر لبیک کہتے ہیں، تو وہ زبان و مکان کی حدود سے بالاتر ہو کر عملاً توحید کا عالمگیر پیغام کا عملی نمونہ بن جاتے ہیں۔ اس موقع پر گویا ساری دنیا کی بولیاں ایک ہوجاتی ہیں اور سب کی آواز صرف ایک آفاقی تکبیر کے سانچے میں ڈھل جاتی ہے۔
حج مالداروں پر کیوں فرض ہے؟ ایک لطیف نکتہ
مولانا انواری صاحب نے دورانِ خطاب ایک انتہائی لطیف اور ایمان افروز نکتے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ حج کو صاحبِ ثروت اور مالدار لوگوں پر کیوں فرض کیا گیا؟ انہوں نے فرمایا:حج کے احکام میں غریبوں کا بہت بڑا حصہ اور سبق پوشیدہ ہے۔ اس کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ جب ایک مالدار شخص اپنے قیمتی لباس کو اتار کر ایک عام اور سادہ سے احرام میں آتا ہے، تو اسے سادگی اور غربت کا حقیقی احساس ہوتا ہے۔ وہ سب کے ساتھ مل کر غلامانہ انداز میں اللہ کے حضور خود کو جھکا دیتا ہے۔ اس عمل سے مالدار پر یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ دنیوی جاہ و حشم کے باوجود وہ حقیقت میں اپنے رب کا ایک عاجز غلام ہی ہے۔ جس طرح پرانے وقتوں میں غلام اپنے آقاؤں کے سامنے سر منڈوایا کرتے تھے، بالکل اسی عاجزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حاجی بھی اپنا سر منڈواتا ہے اور اپنی انا کو اللہ تعالی کے آگےسپرد کر دیتا ہے۔
حج کا اصل مقصد اور زندگی کی تبدیلی
مولانا نے حجاجِ کرام کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا کہ اگر حج کی ادائیگی کے بعد بھی انسان کی عملی زندگی میں کوئی مثبت تبدیلی پیدا نہ ہو، تو پھر حج کا اصل مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔ حج کا اصل حاصل یہ ہے کہ انسان کو ہر لمحہ توحیدِ باری تعالیٰ اور فکرِ آخرت یاد رہے۔حاجی کو وطن واپسی کے بعد بھی مسلسل یہ یاد کرنا چاہیے کہ:
- طوافِ کعبہ کے وقت اس پر کیا کیفیت طاری تھی؟
- صفا و مروہ کی سعی میں دل کا کیا عالم تھا؟
- مزدلفہ کے میدان میں کھلے آسمان تلے کنکریوں پر سونے کی رات کیسی زاہدانہ تھی؟
- جمرات میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا جذبہ کیا تھا؟
- اور بارگاہِ الٰہی میں قربانی دیتے وقت ایثار و قربانی کی کیا کیفیت تھی؟
ان تمام روحانی کیفیات کو یاد رکھتے ہوئے حجاجِ کرام کو اپنی بقیہ زندگی سراپا اطاعت و بندگی بنانے کی مخلصانہ کوشش کرنی چاہیے۔
ارضِ مقدس کے معجزات اور غیبی مدد کا تذکرہ
مولانا نے اپنے خطاب کا رخ ارضِ مقدس میں پیش آنے والے معجزات کی طرف کرتے ہوئے کہا کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے سفر کے دوران تقریباً ہر شخص کے ساتھ کوئی نہ کوئی غیر معمولی واقعہ یا معجزہ ضرور پیش آتا ہے۔ کوئی راستہ بھول جاتا ہے، کوئی اپنوں سے بچھڑ جاتا ہے، تو کسی کی رقم گم ہو جاتی ہے، لیکن ان تمام آزمائشوں کے دوران اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی نہ کسی صورت میں غیبی مدد حاصل ہو جاتی ہے۔ اس ضمن میں مولانا نے اپنے حیدرآباد کے زمانۂ طالب علمی کا ایک دلدوز اور سچا واقعہ بیان کیاکہ ایک بزرگ، جنہوں نے مدینہ منورہ میں بائیس (22) سال کا طویل عرصہ گزارا، وہ بیان کرتے ہیں کہ ارضِ مقدس میں ایک شخص کا گیارہ ہزار کا چیک باؤنس (خارج) ہو گیا اور وہ سخت پریشان ہو گیا۔ اس پریشانی کے عالم میں اس نے رو رو کر مدینہ منورہ میں دعا مانگی۔ اس کی اس دعا کو قریب ہی کھڑے ایک عرب شیخ نے سن لیا۔ اس شیخ نے آگے بڑھ کر اس پریشان حال شخص کی مدد کے لیے جو چیک اس کے ہاتھ میں تھمایا، وہ بھی معجزاتی طور پر پورے گیارہ ہزار ہی کا تھا۔
آپ نے زور دے کر کہا کہ حج کے سفر سے واپسی کے بعد حجاج کو صرف کھجور اور آبِ زمزم کی تقسیم پر ہی اکتفا نہیں کرنا چاہیے، بلکہ مناسکِ حج کی ان ایمان افروز کیفیات اور وہاں پیش آنے والے معجزات کا تذکرہ اپنے اہل و عیال اور دوستوں میں کرنا چاہیے تاکہ دوسروں میں بھی حج کا شوق پیدا ہو۔
مولانا رفیق احمد انواری صاحب نے ان تمام پہلوؤں کا احاطہ کرنے پر کتاب "حج مبارک ہو”کو قابلِ تحسین کوشش اور شہر ررائچور کے لیے ایک اعزاز قرار دیا۔ اس کے مصنف محمدعبد اللہ جاوید صاحبکو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ لکھنے لکھانے اور دین کی خدمت کی یہ صلاحیت خالصتاً منجانب اللہ ہوتی ہے، یہ کسی کے اپنے زورِ بازو کا کمال نہیں بلکہ خدا کا خاص فضل ہوتا ہے۔ مولانا نے تجویز پیش کی کہ اس کتاب کا مطالعہ ہر حاجی کے لیے ناگزیر ہونا چاہیے، بلکہ جیسے ہی حجاجِ کرام سرزمینِ ہند پر اپنا پہلا قدم رکھیں، انہیں یہ کتاب بطورِ تحفہ پیش کر دی جانی چاہیے تاکہ وہ شروع ہی سے اپنی زندگی کو بدلنے کا عزم کر لیں۔اجلاس کا آغاز سید نذیراحمد قادری صاحب کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔جبکہ سید آصف محی الدین صاحب نے افتتاحی کلمات اور اظہار تشکر پیش کیا۔
فریضۂ حج کی سعادت حاصل کرکے وطن واپس آنے والے حجاجِ کرام کے لیے ایک مفید تحفہ۔یہ کتاب مفت حاصل کرنے کے لیے رابطہ فرمائیں:(88676 68522)اور(99727 79770)۔
