اعداد: محمد وسیم راعین 

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفْضَلُ الصِّيَامِ، بَعْدَ رَمَضَانَ، شَهْرُ اللهِ الْمُحَرَّمُ، وَأَفْضَلُ الصَّلَاةِ، بَعْدَ الْفَرِيضَةِ، صَلَاةُ اللَّيْلِ»( صحيح مسلم: 1163)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:”رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے ہیں اور فرض نمازوں کے بعد بہترین نماز رات کی نماز ہے "۔

اسلام میں عبادات الگ الگ قسموں کی ہیں – یہ اللہ کا فضل اور اس کا رحم وکرم ہے کہ اس نے بندوں کے لئے ان کی سہولت کی خاطر مختلف قسم کی عبادتیں مشروع قرار دیا ہے – انہی عبادات میں سے ایک اہم عبادت اور اللہ کی قربت حاصل کرنے کا ایک بہت ہی اہم ذریعہ روزہ ہے ۔

 بحیثیت مسلمان رمضان المبارک کے روزے کے علاوہ اور کوئی روزہ ہم پر فرض نہیں ہے لیکن نفلی روزوں کی شریعت نے ایک لمبی فہرست بتائی ہے جیساکہ شوال کے چھے روزے ، ہر ماہ کے تین روزے ، پیروجمعرات کے روزے، ذی الحجہ کے ابتدائی نو دنوں کےروزے ، عاشورہ کا روزہ ، محرم کے مہینہ میں کثرت سے روزہ کا اہتمام ، صوم داود یعنی ایک دن چھوڑ کر ایک دن روزہ رکھنا ، عرفہ کا روزہ ، شعبان میں کثرت سے روزہ رکھنا۔

نفلی روزے کی یہ لمبی لسٹ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ عبادت اللہ کے نزدیک بڑا مقام رکھتی ہے یہی وجہ کہ روزہ کی احادیث میں بڑی فضلیت آئی ہے۔ جن میں سے کچھ یہ ہیں :

روزہ کی وجہ سے ہم بے حساب ثواب کا مستحق ہوتے ہیں ۔ (متفق عليه) اس سے ہمارے گناہ معاف ہوتے ہیں۔ (متفق علیہ) الله نے روزہ داروں کے لئے ایک خاص دروازہ تیار کیا ہے۔(صحيح بخاري)اللہ کی خاطر ایک روزہ رکھنے سے آپ جہنم سے ستر سال کی مسافت تک دور ہوجاتےہیں ۔ (متفق علیہ )

خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے روزے رکھا کرتے تھے جس کا اندازہ آپ اس حدیث سے لگا سکتے ہیں عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ: «هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ؟» فَقُلْنَا: لَا، قَالَ: «فَإِنِّي إِذَنْ صَائِمٌ» ثُمَّ أَتَانَا يَوْمًا آخَرَ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ فَقَالَ: «أَرِينِيهِ، فَلَقَدْ أَصْبَحْتُ صَائِمًا» فَأَكَلَ (صحيح مسلم:1154)

ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن میرے پاس آئے اور کہاکہ تمہارے پاس کھانے کے لئے کچھ ہے ہم نے نفی میں جواب دیا تو آپ نے کہا :” تب میں روزے سے ہوں ” پھر آپ کسی اور دن ہمارے گھر آئے تو ہم نے بتایا کہ ہدیہ میں حیس آیا ہوا ہے تو آپ نے فرمایا :” دکھاؤ میں نے روزے کی حالت میں صبح کی ہے ” تو آپ نے کھا لیا ۔(صحیح مسلم:۱۱۵۴)

محرم کے مہینے میں روزہ رکھنا افضل کیوں ہے ؟ امام قرطبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ محرم کے مہینے میں روزہ رکھنا افضل اس لئے ہے کہ اس ماہ کے ذریعے سال کا آغاز ہوتا ہے اور روزہ بہترین اعمال میں سے ہے – نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے روشنی کہا ہے لہذا جب روشنی والے عمل کے ذریعے سال کا آغاز ہوگا تو باقی سال اس کی روشی میں آسانی سے گزر جائے گا ۔

سال کے سارے مہینے اللہ ہی کے ہیں لیکن محرم کے مہینے کو ہی اللہ کا مہینہ کہنے کی وجہ یہ ہےکہ یہ مہینہ حرمت والے مہینوں میں سے ایک ہے جس میں جنگ کرنا حرام ہے – یہ سال کا پہلا مہینہ ہے تو اس مہینے کی خصوصیت بتلانے کی خاطر اسے اللہ کی طرف خاص کرکے منسوب کیا گیا ہے ورنہ اس ماہ کے علاوہ اور کسی ماہ کی اضافت اللہ کی طرف نہیں کی گئ ہے۔

احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے محرم کے مہینے میں نہیں بلکہ دیگر مہینوں میں کثرت سے روزے رکھا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہو سکتا ہے کہ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس ماہ میں روزہ رکھنے کی فضیلت کے بارے میں آپ کی زندگی کے آخری دنوں میں بتایا گیا ہو جس کی وجہ سے آپ اس ماہ میں کثرت سے روزے نہ رکھ پائے ہوں یا ہو سکتا ہےکہ اس ماہ میں خاص کرکے ایسے اسباب درپیش ہوگئے ہوں جس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس ماہ میں روزے نہیں رکھ پائے ہوں جس طرح آپ دگر مہینوں میں کثرت سے روزہ رکھے ہوں ۔ واللہ اعلم

  فوائد:

· اس حديث سے معلوم ہوا کہ محرم کے روزے کی بڑی فضیلت ہے ۔

· یہ بھی معلوم ہوا کہ رمضان کے بعد سب سے افضل روزہ محرم کے مہینے کا روزہ ہے ۔

· اس حدیث سے رات کی نماز یعنی تہجد کی فضیلت معلوم ہوئی ۔

· یہ بھی معلوم ہوا کہ نفل نمازوں میں رات کی نماز سب سے افضل نماز ہے۔

نوٹ: باب کی حدیث سے واضح ہے کہ محرم کے مہینے کے روزے کی نفل روزوں میں اونچا مقام ہے ، اس ماہ میں روزے رکھنا دیگر مہینوں کے روزوں کے مقابلے میں افضل ہے لہذا ہمیں اس ماہ میں کثرت سے روزے کا اہتمام کرنا چاہئے ۔ اللہ سبحانہ وتعالی ہمیں اس کی توفیق دے آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے