ہندوستان میں مساجد و مدارس اور درگاہوں کے انہدام کا بڑھتا سلسلہ اور اس کے دور رس اثرات
(حافظ)افتخاراحمدقادری
ہندوستان صدیوں سے مختلف مذاہب، تہذیبوں اور ثقافتوں کا حسین گہوارہ رہا ہے۔ اس سرزمین کی شناخت صرف اس کی جغرافیائی وسعت یا سیاسی تاریخ سے نہیں بلکہ اس کے اس تکثیری مزاج سے بھی ہے جس نے مختلف مذہبی اور ثقافتی اکائیوں کو اپنے اندر سمو رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستانی تہذیب کو اکثر گنگا جمنی تہذیب کے نام سے یاد کیا جاتا ہے جہاں مختلف عقائد کے ماننے والے ایک دوسرے کے ساتھ رہتے، جیتے اور اپنی مذہبی روایات کو محفوظ رکھتے آئے ہیں۔ تاہم گزشتہ چند برسوں سے ملک کے مختلف حصوں میں ایسے واقعات مسلسل سامنے آرہے ہیں جنہوں نے اس تاریخی ہم آہنگی اور مذہبی رواداری کے تصور کو شدید سوالات کی زد میں لا کھڑا کیا ہے۔
حالیہ دنوں میں ملک کے مختلف علاقوں میں مساجد، مدارس، عیدگاہوں اور درگاہوں کے خلاف ہونے والی انہدامی کارروائیوں نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ گزشتہ تقریباً پینتالیس دنوں کے دوران متعدد ریاستوں میں مسلم مذہبی مقامات کو بلڈوزروں کے ذریعے منہدم کیے جانے کی اطلاعات نے نہ صرف ملک کے اندر بلکہ عالمی سطح پر بھی تشویش پیدا کی ہے۔ ان واقعات نے یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ آخر ہندوستان میں مذہبی آزادی، اقلیتوں کے آئینی حقوق اور تاریخی ورثے کے تحفظ کی موجودہ صورتحال کیا ہے اور آیا یہ انہدامی مہم واقعی محض تجاوزات کے خاتمے کی کارروائیاں ہیں یا ان کے پس منظر میں کوئی وسیع تر سیاسی اور سماجی تناظر بھی موجود ہے۔ ان کارروائیوں کا سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ بتایا جا رہا ہے کہ کئی مقامات پر صدیوں پرانے مذہبی ڈھانچوں کو اس انداز میں منہدم کیا گیا کہ مقامی افراد کو اپنی قانونی پوزیشن واضح کرنے یا عدالت سے رجوع کرنے کا مناسب موقع تک نہیں دیا گیا۔ انسانی حقوق کے کارکنان اور سماجی تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ متعدد معاملات میں نہ تو مناسب نوٹس جاری کیے گئے اور نہ ہی قانونی تقاضوں کو مکمل طور پر پورا کیا گیا۔ اگر یہ دعوے درست ہیں تو یہ صرف ایک مذہبی مسئلہ نہیں بلکہ قانون کی حکمرانی اور شہری حقوق کا معاملہ بھی بن جاتا ہے۔
دہلی سے شروع ہونے والی یہ بحث اس وقت مزید شدت اختیار کر گئی جب منگول پوری کے علاقے میں واقع ایک قدیم درگاہ کے بڑے حصے کو منہدم کر دیا گیا۔ مقامی افراد کے مطابق یہ مقام کئی نسلوں سے عقیدت مندوں کا مرکز رہا تھا اور اس سے علاقے کی مذہبی و ثقافتی تاریخ وابستہ تھی۔ انہدام کے بعد نہ صرف مقامی آبادی میں بے چینی پیدا ہوئی بلکہ سوشل میڈیا اور مختلف سماجی حلقوں میں بھی اس واقعہ پر شدید ردعمل سامنے آیا۔ اسی دوران دہلی کے ہی ایک دوسرے علاقے میں زیر تعمیر مدرسے کی دیوار کو منہدم کیے جانے کی خبر نے اس بحث کو مزید وسعت دی۔ ہریانہ، مہاراشٹر، اتر پردیش، راجستھان اور گجرات جیسے صوبوں میں بھی یکے بعد دیگرے اسی نوعیت کے واقعات رونما ہوئے۔ ان میں بعض مقامات ایسے تھے جو کئی دہائیوں بلکہ بعض صورتوں میں صدیوں پر محیط تاریخ رکھتے تھے۔ جب کوئی عمارت صرف اینٹ اور پتھر کا مجموعہ نہ ہو بلکہ اس کے ساتھ کسی علاقے کی اجتماعی یادداشت، ثقافتی شناخت اور مذہبی وابستگی جڑی ہوئی ہو تو اس کا انہدام محض ایک تعمیراتی کارروائی نہیں رہتا بلکہ ایک جذباتی اور سماجی مسئلہ بن جاتا ہے۔ مساجد اور درگاہوں کے انہدام کے خلاف احتجاج کرنے والوں کا بنیادی استدلال یہ ہے کہ اگر کسی ڈھانچے کی قانونی حیثیت متنازع بھی ہو تو اس کا فیصلہ عدالتوں اور قانونی اداروں کے ذریعے ہونا چاہیے نہ کہ اچانک بلڈوزر کارروائیوں کے ذریعے۔ ان کے مطابق قانون کا تقاضا یہ ہے کہ ہر فریق کو اپنا موقف پیش کرنے اور اپنی ملکیت یا حق کے ثبوت فراہم کرنے کا موقع دیا جائے۔ اس کے برعکس انتظامیہ کا موقف اکثر یہ سامنے آتا ہے کہ کارروائیاں تجاوزات کے خاتمے یا عوامی منصوبوں کی تکمیل کے لیے ناگزیر تھیں۔ یہی اختلاف دراصل موجودہ تنازعے کا مرکزی نکتہ بن چکا ہے۔ ایک طرف حکومت اور متعلقہ ادارے ان اقدامات کو قانونی اور انتظامی ضرورت قرار دیتے ہیں جبکہ دوسری طرف متاثرہ افراد اور حقوق انسانی کی تنظیمیں انہیں امتیازی رویے کی مثال کے طور پر پیش کرتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر قانون سب کے لیے یکساں ہے تو پھر انہدامی کارروائیوں کے انتخاب کا معیار کیا ہے؟ یہی سوال عوامی مباحثوں، عدالتی مقدمات اور بین الاقوامی حلقوں میں بار بار اٹھایا جا رہا ہے۔
اترپردیش میں پیش آنے والے بعض واقعات نے اس بحث کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ صوبہ گزشتہ کئی برسوں سے ’’بلڈوزر سیاست‘‘ کی اصطلاح کے ساتھ جوڑا جاتا رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے اسے قانون شکن عناصر کے خلاف سخت کارروائی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ بعض مواقع پر اس کا استعمال سیاسی اور سماجی پیغام رسانی کے لیے بھی کیا جاتا ہے۔ جب مذہبی مقامات اس عمل کا حصہ بنتے ہیں تو مسئلہ اور زیادہ پیچیدہ ہو جاتا ہے کیونکہ اس میں عقیدے، شناخت اور جذبات کے عناصر شامل ہو جاتے ہیں۔ وارانسی میں ایک قدیم مسجد کے انہدام اور دوسری تاریخی مسجد کو نوٹس دیے جانے کے واقعات نے خاصی توجہ حاصل کی۔ وارانسی ہندوستان کے قدیم ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے اور اس کی تہذیبی شناخت مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے ملاپ سے بنی ہے۔ ایسے شہر میں کسی بھی تاریخی مذہبی عمارت کا مستقبل صرف مقامی معاملہ نہیں رہتا بلکہ قومی سطح کی بحث کا موضوع بن جاتا ہے۔
راجستھان میں ایک مسجد کے انہدام کے دوران سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات اور انٹرنیٹ خدمات کی معطلی نے بھی کئی سوالات کو جنم دیا۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ اگر کارروائی مکمل طور پر قانونی اور غیر متنازع تھی تو پھر اتنی وسیع انتظامی تیاریوں کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ دوسری جانب انتظامیہ کا موقف تھا کہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے یہ اقدامات ضروری تھے۔ حقیقت جو بھی ہو، اس نوعیت کے واقعات عوامی اعتماد کو متاثر کرتے ہیں اور مختلف طبقات کے درمیان فاصلوں کو بڑھا سکتے ہیں۔ مہاراشٹر اور گجرات میں درگاہوں اور قبرستانوں کے خلاف کارروائیوں نے بھی مذہبی حلقوں میں گہری بے چینی پیدا کی۔ درگاہیں برصغیر کی مشترکہ تہذیبی روایت کا اہم حصہ سمجھی جاتی ہیں۔ ان مقامات پر صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ مختلف مذاہب کے افراد بھی حاضری دیتے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کسی درگاہ کے انہدام کو محض ایک مذہبی مقام کے خاتمے کے طور پر نہیں دیکھا جاتا بلکہ اسے ایک ثقافتی علامت کے زوال کے طور پر بھی محسوس کیا جاتا ہے۔ اس معاملے کا ایک اہم پہلو عالمی ردعمل بھی ہے۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلسل ان واقعات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی جمہوری ملک کی اصل طاقت اس کی اکثریت نہیں بلکہ اس کے اقلیتوں کے ساتھ برتاؤ سے ظاہر ہوتی ہے۔ اگر کوئی اقلیتی طبقہ خود کو غیر محفوظ محسوس کرنے لگے تو یہ جمہوری نظام کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن جاتا ہے۔
واشنگٹن سمیت مختلف عالمی مراکز میں موجود انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان واقعات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے ہندوستانی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مذہبی مقامات کے خلاف کسی بھی کارروائی میں مکمل شفافیت، عدالتی نگرانی اور قانونی تقاضوں کی پابندی کو یقینی بنایا جائے۔ ان تنظیموں کا خیال ہے کہ قانون کی عملداری اور شہری حقوق کے احترام کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہر جمہوری حکومت کی ذمہ داری ہے۔ آئینی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو ہندوستان کا دستور ہر شہری کو مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔ آرٹیکل 25 ہر فرد کو اپنے مذہب پر عمل کرنے، اس کی تبلیغ کرنے اور مذہبی رسومات ادا کرنے کا حق دیتا ہے۔ اسی طرح آئین کا بنیادی ڈھانچہ مذہبی مساوات اور سیکولر اصولوں پر قائم ہے۔ اس لیے جب کسی مذہبی مقام کے انہدام کا معاملہ سامنے آتا ہے تو اس کی قانونی حیثیت کے ساتھ ساتھ اس کے آئینی مضمرات بھی زیر بحث آ جاتے ہیں۔ سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات کا سب سے گہرا اثر اقلیتی طبقے کے نفسیاتی احساسِ تحفظ پر پڑتا ہے۔ جب کسی کمیونٹی کو یہ محسوس ہونے لگے کہ اس کی مذہبی شناخت یا تاریخی وراثت خطرے میں ہے تو اس کے اندر بے اعتمادی اور خوف پیدا ہونا فطری امر ہے۔ یہ کیفیت نہ صرف سماجی ہم آہنگی کو متاثر کرتی ہے بلکہ قومی یکجہتی کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اس تناظر میں میڈیا کا کردار بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ میڈیا اگر متوازن، تحقیقی اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ کرے تو عوام کو حقیقت تک رسائی حاصل ہوتی ہے، لیکن اگر معاملات کو سیاسی یا مذہبی تعصب کے چشمے سے پیش کیا جائے تو کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ایسے حساس معاملات میں حقائق، شواہد اور قانونی نکات کو ترجیح دی جائے۔
یہ حقیقت ہے کہ ہندوستان کی تاریخ صرف اکثریت یا اقلیت کی تاریخ نہیں بلکہ مشترکہ وراثت کی تاریخ ہے۔ مساجد، مندروں، گرجا گھروں، گردواروں اور درگاہوں نے مل کر اس تہذیب کو تشکیل دیا ہے جس پر آج کا ہندوستان فخر کرتا ہے۔ اگر اس مشترکہ ورثے کے کسی حصے کو نقصان پہنچتا ہے تو درحقیقت پوری قومی تاریخ متاثر ہوتی ہے۔ موجودہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ حکومت، عدلیہ، سول سوسائٹی اور مذہبی قیادت مل بیٹھ کر ایسے معاملات کے حل کے لیے ایک واضح اور منصفانہ طریقۂ کار وضع کریں۔ قانونی تنازعات کا حل عدالتوں میں ہونا چاہیے، تاریخی ورثے کے تحفظ کو ترجیح دی جانی چاہیے اور کسی بھی مذہبی طبقے کو یہ احساس نہیں ہونا چاہیے کہ اسے الگ تھلگ یا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
جمہوریت کی اصل روح طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ انصاف کے قیام میں مضمر ہوتی ہے۔ ریاستیں بلڈوزروں سے عمارتیں تو گرا سکتی ہیں لیکن اعتماد، ہم آہنگی اور بھائی چارے کی تعمیر صرف انصاف، مساوات اور باہمی احترام کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ ہندوستان کی کامیابی بھی اسی میں ہے کہ وہ اپنی تکثیری شناخت، آئینی اقدار اور مشترکہ تہذیبی وراثت کو محفوظ رکھے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو نقصان صرف کسی ایک کمیونٹی کا نہیں بلکہ پورے ملک کے سماجی تانے بانے کا ہوگا۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام فریق جذبات کے بجائے قانون، انصاف اور مکالمے کی راہ اختیار کریں۔ مذہبی آزادی، تاریخی وراثت کے تحفظ اور آئینی مساوات کے اصولوں کو مضبوط بنانا ہی وہ راستہ ہے جو ہندوستان کو ایک مستحکم، پر امن اور ہم آہنگ مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔ یہی ایک جمہوری معاشرے کی پہچان بھی ہے اور اسی میں قوم کے روشن مستقبل کی ضمانت پوشیدہ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کریم گنج، پورن پور، پیلی بھیت یوپی
(مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں)
