میرؔبیدری، بیدر،کرناٹک

ہٹو خود میں وفا کو راستہ دو
ہے چاہت تو خدا کو راستہ دو

الٹتی زندگی سے یہ ہے کہنا
بقا تو ہے ، فنا کو راستہ دو

محبت میں گلا بھی بیٹھتا ہے
مگر چیخو صدا کو راستہ دو

کسی کے واسطے ،اپنے لئے بھی
ہاتھ اپنے ہوں ، دعا کوراستہ دو

یہاں تو اجتماعی خودکشی ہے
خدارا اب ، انا کو راستہ دو

یہ کیسی قید میں بیٹھے ہوگم صم
ذرا سا تم ، ہوا کو راستہ دو

مرے والے پہ سو درّے پڑیں گے
لہٰذا بس دُعا کو راستہ دو

مرے مرشِد کی لمبی عمر ہو میرؔ
کہیں گے وہ فنا کو راستہ دو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے