سہارنپور(احمد رضا): طب یونانی کے مشہور اسکالر اور دانشور حکیم سید محمد حسان نگرامی صاحب کا کل لکھنؤ کے ایک ہاسپٹل میں انتقال ہوگیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ تمام احباب سے دعا مغفرت کی درخواست ہے! عالمی سطح کے عظیم الشان شاعر انور جلال پور ی کے چشم وچراغ شاکر جلال پور ی نے اس حادثہ پر اپنے گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ مرحوم ایک سادہ لوح اور بے مثال خوبیوں کے مالک تھے آپ نے ہمیشہ اپنے قلم کا منصفانہ استعمال کر تے ہوئے سبھی فرقہ کے افراد کے لئے یکساں موقعے فراہم کئے۔ آپ نے اردو اخبارات کے لئے بھی بہت سے معیاری مضامین لکھے ہیں جو آپ کی اردو زبان سے محبت کی تصدیق کے لئے قابل احترام کارکردگی ہے۔
شاکر جلال پور ی نے بتایا کہ حسان نگرامی صاحب بہت مذہبی ادبی اور علمی شخصیت کے مالک تھے ،آپ نیشنل یونانی بورڈ کے ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے، یونانی میڈیکل پر آپ کی ریسرچ اور آپ کی تصانیف ایک درجن سے زیادہ ہیں ،آپ کی تصانیف سے بی یو ایم ایس کے طلباء فائدہ حاصل کرتے ہیں، آپ کو آپ کی طبّی خدمات کے لیے اُتر پردیش سرکار نے يش بھارتی اعزاز سے نوازہ تھا۔ آپ نے میرے والد پدم شری انور جلالپوری کے انتقال کے بعد اُن کی ادبی اور علمی خدمات پر دو بڑے پروگرام کا انعقاد کیا تھا۔
ان کے  والد  عبدالغفار بہُت بڑے عالمِ دین تھے۔ ان کے بیٹے ڈاکٹر محسن روف لکھنؤ کے لوہیا ریسرچ  انسٹیٹیوٹ میں ڈاکٹر ہیں جبکہ ان کے دوسرے بیٹے غیاث الدین ندوی بھی ڈاکٹر ہیں، ڈاکٹر حسان نگرامی صاحب کے طبّی علمی مذہبی اور ادبی مضامین ملک کے موقر اخبارات میں شائع ہوا کرتے تھے۔ آپ نے ملک کے مشہور و معروف مشہور ادب نواز اور  عالمی سطح کے شاعر پدم شری انور جلالپوری کی ادبی علمی خدمات پر ایک کتاب بھی لکھی تھی جس کی بھر پور سراہنا کی گئی۔ سہی معنوں میں آپ ملنسار اور نرم اخلاق کی زندہ جاوید مثال تھے، آپ کی محنت اور کوششوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے