مسلمان ہونے کے لیے جن باتوں پر ایمان لانا لازمی ہے ان میں صحابہ کا ذکر نہیں ہے
عبدالغفار صدیقی۔ بجنور
جس شخص نے حالت ایمان میں اللہ کے رسول ؐ سے ملاقات کی اور پھر اس کی وفات بھی حالت ایمان پر ہوئی ہو ،اس کو صحابی کہتے ہیں ،صحابی کی جمع صحابہ ہے ۔صحابی کے معنی ساتھی او ر دوست کے ہیں۔ جو دین ہم تک پہنچا ہے ،جس قرآن کی تلاوت ہم کرتے ہیں ،یہ دین اور قرآن ہم تک صحابہ ؓ کے واسطے سے پہنچا ہے ۔ انھوں نے نبی اکرم ﷺ سے قرآن کی آیات سنیں ، دین کی باتیں سیکھیںاور نبی ؐ کو عمل کرتے ہوئے دیکھا ۔اگر وہ ان باتوں کو محفوظ نہ رکھتے اور آگے نہ پہنچاتے تو ہم تک یہ دین کیسے پہنچتا؟دین کی اشاعت میں صحابہ کرام ؓ کی بے مثال قربانیاں ہیں ۔انھوں نے جتنی اذیتیں اور تکالیف برداشت کیں ان کا اندازہ بھی ہم نہیں لگاسکتے ۔اسلام قبول کرنے کے جرم میں انھیں طرح طرح ستایا گیا ،گھروں سے نکالا گیا ،ان کو قتل کیا گیا ،یہاں تک کہ ان سے جنگ کی گئی ۔ان سب کا ذکر خود قرآن میں اللہ تعالیٰ نے کیاہے۔ارشاد ربانی ہے :۔
’’اجازت دی گئی ہے ان لوگوں کو جن سے جنگ کی جارہی ہے، اس لیے کہ ان پر ظلم کیا گیا، اور اللہ ان کی مدد کرنے پر قادر ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ان کے گھروں سے ناحق نکالا گیا، صرف اس وجہ سے کہ وہ کہتے تھے: ہمارا رب اللہ ہے۔‘‘( الحج: 39-40)
’’یہ مال ان غریب مہاجرین کے لیے ہے، جنہیں ان کے گھروں اور اموال سے نکال دیا گیا، وہ اللہ کا فضل اور اس کی رضا چاہتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں، یہی سچے لوگ ہیں۔‘‘ َ ( الحشر: 8)
اللہ تبارک وتعالیٰ نے صحابہ کرام کی تعریف و توصیف فرمائی اور ان سے بڑے بڑے انعامات کے وعدے کیے اور ان کو گناہوں کی بخشش اور جنت کی بشارتیں بھی دیں ۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:۔
’’اور سب سے پہلے ایمان لانے والے مہاجر اور انصار اور وہ لوگ جو ان کے نقش قدم پر اچھے طریقے سے چلتے ہیں، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے، اور اس نے ان کے لیے ایسے باغ تیار کیے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، وہ ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں گے، یہی بڑی کامیابی ہے۔‘‘ ( التوبہ:100)
بیعتِ رضوان میں شامل صحابہ اکرام ؓ کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رضا کا پروانہ عطا فرمایا:۔
’’اللہ یقیناً مومنوں سے راضی ہوگیا جب وہ درخت کے نیچے آپ سے بیعت کر رہے تھے، تو اللہ نے ان کے دلوں کا حال جان لیا، پھر ان پر سکون اتارا اور انہیں قریب کی فتح عطا فرمائی۔‘‘(الفتح: 18)
مہاجرین اور انصار کے بارے میں باری تعالیٰ کا ارشاد ہے :۔
’’جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور جنہوں نے ان کی مہمان نوازی اور مدد کی، یہی لوگ حقیقی مومن ہیں۔ ان کے لیے بخشش اور عزت والی روزی ہے۔‘‘( الأنفال: 74)
انصار کے جذبہ ایثار کی تعریف اللہ تعالیٰ نے ان الفاط میں فرمائی:۔
’’اور وہ لوگ جو (انصار) پہلے ہی ایمان لاکر دار الہجرۃ میں مقیم تھے، وہ ان سے محبت کرتے ہیں جو ان کے پاس ہجرت کر کے آتے ہیں، اور جو کچھ انہیں دیا گیا اس پر اپنے دل میں کوئی تنگی نہیں پاتے بلکہ اپنی جانوں پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ خود ضرورت مند ہوں۔‘‘ (سورۃ الحشر:9)
سورہ فتح میں اصحاب نبی ؐ کی تعریف و توصیف کے ساتھ مغفرت اور اجرم عظیم کا وعدہ کیا گیا:۔
’’محمدؐ اللہ کے رسول ہیں، اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار پر سخت اور آپس میں رحیم ہیں تم جب دیکھو گے اُنہیں رکوع و سجود، اور اللہ کے فضل اور اس کی خوشنودی کی طلب میں مشغول پاؤ گے سجود کے اثرات ان کے چہروں پر موجود ہیں جن سے وہ الگ پہچانے جاتے ہیں۔‘‘(سورۃ الفتح:۔ 29)
قرآن کے علاوہ احادیث میں بھی صحابہ کرام ؓ کی تعریف کی گئی ہے ۔کچھ صحابہ کرامؓ کو آپ ؐنے دنیا ہی میں جنت کی بشارت دی۔جن کو ہم عشرہ مبشرہ کہتے ہیں۔بعض اصحاب کو آپؐ نے القاب و اعزازات سے بھی نوازا ہے ۔
فضائل صحابہ اور مناقب اصحاب رسول کے ذیل میں قرآن مجید کی درج بالا آیات اور کتب حدیث میں درج اقوال ختم المرسلین کی موجودگی میں ایک مسلمان کا عقیدہ یہی بنتا ہے کہ صحابہ کرام نیک ،سچے ،عادل اورمتقی تھے ۔لیکن جب وہ اسلام کی تاریخ کا مطالعہ کرتاہے تو حیران و ششدر رہ جاتاہے۔بعض ایسی باتیں سامنے آتی ہیں ،جن سے غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں،اس صورت میں ایک مسلمان کے سامنے بڑی مشکل صورت حال ہوتی ہے ۔ایک طرف صحابہ کے بارے میں وہ کلہم عدول(تمام صحابہ عادل اوردیانت دار ہیں)کا عقیدہ رکھتا ہے ۔دوسری طرف وہ حضرت علی ؓ اور اماں عائشہ ؓ کو میدان جنگ میں آمنے سامنے پاتا ہے ۔ایک طرف وہ حضرت امیر معاویہ ؓ کو شرف صحابیت کے عہدے پرسرفراز پاتا ہے تو دوسری طرف ان کے دور میں مسلمانوں کے خون سے زمین لالہ زاردیکھتا ہے ۔ایک طرف وہ اسلام کے لیے حضرت عثمان غنی ؓ ذوالنورین کی عظیم ترین ترین خدمات کا مطالعہ کرتا ہے تو دوسری طرف داماد رسول ؐ کے مظلومانہ قتل کی داستان پڑھتا ہے ۔جب وہ دور اول کی تاریخ کے اوراق پلٹتا ہے تو اسے بعض صفحات پر مسلمانوں کے خون کے دھبے دکھائی دیتے ہیں، ایک صفحہ پر وہ اس زہر کے اثرات دیکھتا ہے جو حضرت حسن ؓ کو دیا گیا تھا ،پھر ایک سفحہ پر حضرت ابو بکر صدیق ؓ کے صاحب زادے ،صحابی رسول ؐ حضرت محمد بن ابی بکر ؓ کا جسد خاکی خون آلود دکھائی دیتا ہے،کہیں وہ وہ پڑھتا ہے کہ صحابی رسول حضرت امیر معاویہ کے صاحب زادے اور ان کے نامزد امیر مملکت یزیدنے مدینہ کو اپنے فوجیوں پر تین دن تک حلال کردیا تھا،وہ کربلا میں حسینؓ و آل حسین ؓکے تڑپتے ہوئے لاشے دیکھتا ہے،کہیں اسے تاریخ بتاتی ہے کہ وصال نبوی کے محض پچیس تیس سال بعد ہی مسلمانوں کے ہاتھوں ساٹھ سے ستر ہزار مسلمان شہید ہوگئے تھے(تاریخ طبری) تو وہ اپنا سر پیٹ کر رہ جاتا ہے،گریبان نوچنے لگتا ہے،دانتوں میں انگلیاں دبا لیتا ہے ۔وہ انھیں صحابہ ؓ کے بارے میں جن کے تقدس کے بارے میں قرآن مجید کی گواہیاں پڑھ چکا تھا ،زبان رسول سے تعریفی و توصیفی کلمات سن چکا تھا ،جب ان میں سے کچھ کو آپس میں دست بگریباں دیکھتا ہے،اپنوں کے خلاف تلوار نکالتے ہوئے دیکھتا ہے ،سازشوں میں شریک پاتا ہے تو اسے اپنے ایمان کی نیا ڈولتی اور ڈوبتی نظر آتی ہے ۔
اب یہ تو کسی طرح ممکن نہیں کہ وہ تاریخ کے ان اوراق کو بھول جائے ،یا ان کو پڑھنے کے بعد حق و ناحق،صواب و خطا کا سوال نہ اٹھائے ،جب وہ سوال کرتا ہے تو صاحبان جبہ و دستار احترام اکابر کی آڑ میںاس کو چپ رہنے کا مشورہ دیتے ہیں ۔وہ جانتے ہیں کہ اگر سوال کا دروازہ کھل گیا تو وہ خود بھی سوالات کے دائرے میں آجائیں گے ۔اس لیے سوال کرنے کو ہی توہین اکابر اور منافی ایمان قرار دے دیا جائے ۔ورنہ ان سے بھی جمعیتوں کی تقسیم ،دارالعلوموں پر قبضوں کی داستان ،انویسٹ منٹ گھوٹالوں،زکوٰ ۃ کرپشن ،بابری مسجد کے انہدام،پرسنل لاء کے تحفظ میں ناکامی، پر سوال کیے جائیں گے ،اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ اپنے اسلاف کو بھی تقدس کا لبادہ اڑھا کر مافوق الفطری مخلوق ثابت کریں،ان پر انگلی اٹھانے کو ایمان کے منافی اور خداکے غضب کا موجب قرار دیں اور خود کوبھی اسی تقدس کے ہالہ میں چھپالیں ۔
میں مانتا ہوں کہ صحاب رسول ؐ دنیا کا بہترین گروہ ہونے کے باوجود انسان ہی تھے ۔مگر وہ انبیاء کی طرح معصوم عن الخطا نہیں تھے ۔حالانکہ انسان تو انبیاء بھی ہیں لیکن قرآن نے ان کے متعلق کہا :۔’’ ماینطق عن الہویٰ ۔الا وحی یوحیٰ (النجم۔3اور4)’’وہ اپنی مرضی اور خواہش سے کچھ نہیں بولتا ،بلکہ وہی بولتا ہے جو خدا کی طرف سے وحی کی جاتی ہے ‘‘۔اور ہمیں حکم دیا گیا :۔ماآتاکم الرسول فاخذوہ’’ رسول جو تمہیں دے وہ لے لو‘‘ اوروما نہاکم عنہ فانتھوا(الحشر۔7) جس سے روکے رک جائو۔بلکہ یہ بھی تنبیہ کی گئی کہ رسول جس معاملہ میں فیصلہ کردے ،اس معاملہ میں شک نہ کرو اور دل میں کوئی تنگی بھی محسوس نہ کرو (النساء:65) رسول کے علاوہ کسی اور شخص کے لیے ایسی کوئی گواہی ،گارنٹی یا حکم قرآن نے نہیں دیا ۔یہی وجہ ہے کہ اہل سنت کا کوئی گروہ صحابہ کو انبیاء کی طرح’’ معصوم عن الخطا‘‘ نہیں مانتا۔نہ ہی صحابہ کرام رسول کی طرح ہمارے ایمان کا حصہ ہیں ۔ایمانیات کی فہرست میں ان کا نام شامل نہیں ہے ۔وہ ہماری روشن تاریخ کا سنہرا باب ہیں ،جہاں کچھ افسوسناک حادثات کے نشانات بھی ہیں۔
’’ کلھم عدول‘‘ (تمام صحابہ عادل اور امانت دار تھے )کے باوجود ہمیں یہ بھی جان لینا چاہئے کہ تمام صحابہ یکساں معیار کے نہیں تھے،ان کے بھی درجے تھے،ان میں ایک طرف وہ لوگ تھے جن میں سے کچھ ہجرت سے قبل مکہ میں ایمان لائے ،کچھ نے مجبور ہوکر حبشہ کی ہجرت کی ،کسی کو آگ پر لٹایا گیا ،کسی کے گلے رسیاں ڈال گھسیٹا گیا ،کسی کا مال چھین لیا گیا ،گھر وں سے بے دخل کردیا گیا ،یہاں تک کہ شوہر ،بیوی اوراولادتک کو جدا کردیا ۔پھر ہجرت کے بعد انصار مدینہ کی قربانیاں ،اصحاب بدرو احد کا ایثار، اور دوسری طرف ان لوگوں کو دیکھیے جو مکہ فتح ہونے کے بعد اسلام لائے ،بعض نے سرینڈر کیا ،بعض کو ’’ طلقاء‘‘ کہا گیا۔یہ دونوں کیسے یکساں ہوسکتے ہیں ،فتح مکہ کے بعد ایمان لانے والوں میں کچھ لوگ اسلام کی قوت و طاقت کے زیر اثر ایمان لائے ،ان میں سے بعض کے پاس ایمان قبول کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا ،اس لیے کہ تقریباً سارا عرب مسلمان ہوچکا تھا ۔یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید نے بھی صحابہ کرام کو دو زمروں میں تقسیم کیاہے۔ملاحظہ ہو:۔’’ تم میں سے جو لوگ فتح کے بعد خرچ اور جہاد کریں گے وہ کبھی اُن لوگوں کے برابر نہیں ہو سکتے جنہوں نے فتح سے پہلے خرچ اور جہاد کیا ہے اُن کا درجہ بعد میں خرچ اور جہاد کرنے والوں سے بڑھ کر ہے اگرچہ اللہ نے دونوں ہی سے اچھے وعدے فرمائے ہیں جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے با خبر ہے(الحدید۔10)۔اس کا مطلب ہے کہ سابقون آخرون سے بہتر تھے۔
حدیث کی مستند کتاب بخاری جس میں کثرت سے مناقب صحابہ بیان ہوئے ہیں ، مگر ایک یہ حدیث بھی درج ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ،رسول اللہ ﷺ کے دنیا سے رخصت ہوجانے کے بعد بعض اصحاب رسول ؐ الٹے پائوں واپس ہوگئے تھے ،یعنی مرتد ہوگئے تھے ،یا انھوں نے خلاف اسلام کام کیے تھے ۔ آپ ؐ نے فرمایا ’’حوض(کوثر) پر میرے صحابہ کی ایک جماعت آئے گی۔ پھر انہیں اس سے دور کر دیا جائے گا۔ میں عرض کروں گا میرے رب! یہ تو میرے صحابہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تمہیں معلوم نہیں کہ انہوں نے تمہارے بعد کیا کیا نئی چیزیں ایجاد کر لی تھیں، یہ الٹے پاؤں (اسلام سے) واپس لوٹ گئے تھے۔‘‘(بخاری)
ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ کے وصال کے بعد ہی مانعین زکوٰۃ کا ایک گروہ پیدا ہوگیا تھا،یہ گروہ بھی صاحبان ایمان و اسلام ہی پر مشتمل تھا۔جھوٹے مدعیان رسالت بھی میدان میں آگئے تھے اور ان کے ساتھ بھی لوگوں کی قابل ذکر تعداد ہوگئی تھی جن سے باقاعدہ جنگ کرنا پڑی تھی ۔ظاہر ہے کہ ان دونوں گروہوں میں مسیلمہ سمیت بعض وہ لوگ بھی شامل تھے جنھوں نے حالت ایمان میں رسول ؐ کو دیکھا تھا ۔شاید ایسے ہی لوگوں کا ذکر مذکورہ حدیث میں کیا گیا ہے ۔
بخاری و مسلم میں دور رسالت کے چند واقعات ایسے بھی درج ہیں جن میںحدود شرعی کے نفاذ کا ذکر کیا گیا ہے مثلاً حضرت ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ اور غامدیہ خاتون رضی اللہ عنہا نے زنا کا اقرار کیا تو آپ ﷺ نے تمام شرائط پوری ہونے کے بعد ان پر حد جاری فرمائی۔ اسی طرح شراب نوشی کے جرم میں ایک صحابی پر حد نافذ کی، لیکن جب بعض لوگوں نے اس پر لعنت کی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس پر لعنت نہ کرو، کیونکہ اللہ کی قسم! وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے۔” اسی طرح قبیلہ بنو مخزوم کی ایک عورت کے چوری کرنے پر جب سفارش کی گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! اگر محمد کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔‘‘
صحابہ کرامؓ کے تعلق سے ان باتوں کے ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم غلو سے پرہیز کریں۔ انہیں انبیاء کی طرح معصوم عن الخطا نہ مانیں، کیونکہ یہی اہلِ سنت والجماعت کا عقیدہ ہے۔ انہیں انسان ہی سمجھیں، البتہ ان کا احترام کریں، ان کا نام ادب سے لیں اور ان کے ساتھ رضی اللہ عنہ کہیں۔ اسی طرح اگر کوئی عالمِ دین کتبِ حدیث اور معتبر کتبِ تاریخ کی روشنی میں تاریخی واقعات یا اجتہادی اختلافات بیان کرتا ہے تو اس پر چیں بجبیں نہ ہوں اور نہ اس پر ضلالت و گمراہی کے فتوے لگائیں۔ ناقدین کو بھی تنقیص اور تنقید کے فرق کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔ کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اصحابِ رسول ﷺ پر سب و شتم کرے یا ان کی تنقیص کرے، کیونکہ ادب اور انصاف کے خلاف ہے۔ لیکن یہ حق بھی کسی کو نہیں پہنچتا کہ وہ صحابہ کرامؓ سے متعلق تاریخی واقعات یا ان کے اجتہادی فیصلوں کے علمی اور منصفانہ مطالعے پر قدغن لگائے۔ احترام اور تحقیق ایک دوسرے کی ضد نہیں، بلکہ دونوں کا جمع ہونا ہی اہلِ سنت کا معتدل اور منصفانہ منہج ہے۔
