سدھارتھ نگر
ضلع سدھارتھ نگر کے کھجوریہ کے رہائشی عبدالمبین منصوری کی بیٹی نکہت پروین کو نیشنل ان کم میرٹ اسکالرشپ امتحان/NMMSS پاس کرنے کے بعد پہلی سالانہ اسکالرشپ کی قسط 12,000 روپے موصول ہو چکی ہے۔  جس کے بعد اہل خانہ میں خوشی کی کوئی انتہا نہیںہے۔ نکہت پروین کے والد عبدالمبین منصوری نے بتایا کہ میری بیٹی نکہت پروین شروع سے ہی ذہین طالبہ رہی ہے۔ اس نے شری سنگھیشوری انٹر کالجتتری بازار سے 2025-26 میں نیشنل ان کم میرٹ اسکالرشپ امتحان/NMMSS پاس کیا۔ اس کے بعد2026-27کے لئے اس نے نیشنل ان کم میرٹ اسکالرشپ امتحان/NMMSS  کی پہلی سالانہ قسط NSP پورٹل پر درخواست دینے کے بعد12,000/-روپئے کی اسکالرشپ کی رقم میری بیٹی کے اکاؤنٹ میںآ نے کے بعدہمارا پورا خاندان اور گھر والےکافی خوش ہیں۔انہوں نے کہا کہ نیشنل ان کم میرٹ اسکالرشپ ایگزامینیشن/این ایم ایم ایس ایس اسکیم جو کہ حکومت کی طرف سے ہونہار طلباء کی حوصلہ افزائی کے لیے شروع کی گئی ہے۔طلباء کے لیے ایک انتہائی متاثر کن زندگی بخشنے والی اور پرجوش انداز میں حوصلہ افزا اسکیم ہے۔ اس سے طلباء کے حوصلے نمایاں طور پر بلند ہوں گے اور ان کی توجہ تعلیم کی طرف مبذول ہو گی۔ بلاشبہ یہ امتحان معاشرے میں تعلیم کےمتعلق  عوام میں بیداری پیدا کرنے کا ایک نمایاںاقدا مہے۔
نکہت پروین نے اپنی کامیابی کا سہرا اپنے والدین اور اساتذہ کو دیتے ہوئے کہا کہ میرے والدین نے اور میرے خاندان اور گھر کے ہر ایک افراد نے ا س میں میری حوصلہ افزائی  کی اور ہمارے اسکول اور کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کے تمام اساتذہ کی محبت اور مناسب رہنمائی کی بدولت  ہی مجھے یہ کامیابی حاصل ہوئی ہے  جن کی میں تا عمر ہمیشہ مقروض رہوں گی۔
 گورنمنٹیڈاسکولوں میں درجہ؍ 8 کے طالب علم کو سالانہ نیشنل ان کم میرٹ اسکالرشپ امتحان/NMMSS پاس کرنے پر حکومت مسلسل چار سالوں تک ہر سال بارہ ہزار روپئے  کے اعتبار سے کل 48000/- ہزار روپئے کی اسکالرشپ فراہم کرتی ہےمگرمسلسل کلاس 12 تک اپنی تعلیم سرکاری اسکولوں سے جاری رکھنے والے طلبا ہی حکومت کے ذریعہ سالانہ منعقد کیے جانے والے نیشنل انکم کم میرٹ اسکالرشپ/NMMSS   کا فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔
صرف وہی طلباء جو کلاس 7 میں 50فیصد یا اس سےزائد نمبر حاصلکیئے رہتےہیںوہی  نیشنل ا ن کم میرٹ اسکالرشپ امتحان/NMMSS میں شرکت کرنے کے اہل ہوتے ہیں۔
نیشنل ا ن کم میرٹاسکالرشپ/NMMSS  درخواستیں جون اور اگست ماہ کے درمیان کھئلتی ہیں اور نتائج دو سے تین ماہ کے اندر یا مارچ تک متوقع ہوتا ہے۔ عام طور پر صوبہ اتر پردیش میں اسکالرشپ امتحان/NMMSS کے نتائج کا اعلان مارچ ماہ میں کیا جاتا ہے۔ چونکہ امتحان کی تاریخیں مختلف ریاستوں میں مختلف وقتوں میں ہوتی ہیںاس لیے وہاں نتائج کا اعلان بھی مختلف اوقات میں ہوتا ہے۔
اسکالرشپ امتحان/NMMSS میں180 میں سے کم از کم 72 نمبریعنی 40 فیصد جنرل زمرے کے امیدواروں کے لیے اور 57-58 نمبریعنی 32 فیصدOBC/SC/ST امیدواروں کو پاس کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔اسکالرشپ امتحان/این ایم ایم ایس ایس میں کل 180 سوالات میں سے 90 سوالات ذہنی قابلیت ٹیسٹ سے اور 90 تعلیمی قابلیت ٹیسٹ سے  ہوتے ہیں۔اس طرح کل 180 نمبر کا امتحان ہوتا ہے۔
امتحان پاس کرنے کے لیےطلباء کو ذہنی قابلیت ٹیسٹ اور تعلیمی قابلیت ٹیسٹ میں الگ الگ کم از کم نمبرحاصل کرنے ہوتے ہیں۔ مزید برآںمحض کم از کم نمبر حاصل کرنا کافی نہیں  ہوتا ہے۔ وظائف کے لیے حتمی انتخاب ریاستی سطح کی میرٹ لسٹ پر مبنی ہوتاہے۔ وہاں کے طلباء کی کارکردگی کی بنیاد پر میرٹ لسٹ ریاست اور ضلع میں مختلف ہو سکتی ہے۔نیشنل ان کم میرٹ اسکالرشپ امتحان/NMMSS پاس کرنے کے بعد طالب علموں کو کلاس 9 میں داخل ہونے پر NSP کی سرکاری ویب سائٹ/پورٹل پر اسکالرشپ کے لیے درخواست دینی پڑتی ہے اس کے بعد اسکول کے ذریعے اس کی تصدیقکی جاتی ہے۔ اس کے بعد درخواست کی جانچ پڑتال اور تصدیق ضلع، ریاست اور پھر مرکزی سطح پر بھی کی جاتی ہے۔ اس کے بعد حکومت اور محکمہ کی جانب سے طلباء کو اسکالرشپ کے لیے منتخب کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد ایک ٹوکن نمبر جاری کیا جاتا ہے پھر اس کے بعد طلباء اپنے  بینک ا کائونٹ میں براہ راست DBT کے ذریعے12000/-روپئے کی سالانہ اسکالرشپ موصول کر پاتے ہیں۔
اسی طرح نیشنل ان کم میرٹ اسکالرشپ امتحان/NMMSS حاصل کرنے کے لیےطلباء کو سرکاری NSP پورٹل پر سالانہ اپنی اسکالرشپ کی تجدید کرنی ہوتی ہے۔نیشنل ان کم میرٹ اسکالرشپ امتحان/NMMSS کے لیے درخواست دینے سے پہلے طلبہ کو اپنا آدھار سیڈنگ اور اپنے بینک اکائونٹ کا KYC مکمل کروا لینا چاہیے۔ اس کے بعد ہی نیشنل ان کم میرٹ اسکالرشپ ایگزامینیشن/NMMSSکو محکمہ اور حکومت کے ذریعہ طلباء کے بینک اکائونٹمیں براہ راست وظیفہ منتقل کیا جاتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے