لکھنؤ، 6 جولائی 2026: قومی سماجی کارکن تنظیم کے کنوینر محمد آفاق نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ آج کل منبروں اور اجتماعات میں صحابۂ کرام ؓکی تعلیمات اور ان کی مبارک زندگی کا بڑے زور و شور سے تذکرہ کیا جاتا ہے، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ان تعلیمات پر خود عمل کرنے کی کمی نظر آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس نبیِ کریم ؐکی تعلیمات کا ہم ذکر کرتے ہیں، کیا ہم واقعی ان پر پوری اخلاص اور دیانت داری کے ساتھ عمل بھی کر رہے ہیں؟انہوں نے کہا کہ آج عمل کی تلقین صرف غریبوں اور کمزور طبقات کو کی جاتی ہے، جبکہ معاشرے کا ایک طبقہ انہی غریبوں اور کمزوروں کے سہارے آسودہ زندگی بسر کر رہا ہے۔ چاروں خلفائے راشدین ،حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمر فاروقؓ، حضرت عثمان غنیؓ اور حضرت علی ؓکا نام لینا یقیناً باعثِ سعادت ہے، لیکن کیا ہم ان کی سادگی، عدل، ایثار اور خدمتِ خلق کو اپنی عملی زندگی میں اپنائے ہوئے ہیں؟ یہ ایک سنجیدہ خود احتسابی کا موضوع ہے۔محمد آفاق نے کہا کہ آج بڑے بڑے اجتماعات اور جلسوں میں صاحبِ حیثیت افراد کو اسٹیج پر خصوصی مقام دیا جاتا ہے، ان کے لیے خصوصی ضیافت اور استقبال کا اہتمام کیا جاتا ہے، جبکہ صحابۂ کرامؓ نے اپنے دورِ خلافت میں خود بھوک اور سختیوں کو برداشت کرتے ہوئے بھی امت کی بھلائی اور معاشرے کی خدمت کو ترجیح دی۔ انہوں نے ہمیشہ غریبوں، کمزوروں اور غلاموں کے ساتھ عدل، مساوات اور انصاف کا برتاؤ کیا۔انہوں نے کہا کہ آج معاشرے میں انصاف اور برابری کا جذبہ کمزور پڑتا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں ہمیں بے شمار مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے ہمیں اپنے مال، وقت اور وسائل کو معاشرے کی بھلائی کے لیے وقف کرنا چاہیے، اس کے بعد ہی منبروں سے حق، انصاف اور ایثار کی بات کرنی چاہیے۔اپنے بیان کے اختتام پر محمد آفاق نے واضح کیا کہ ان کا مقصد کسی فردِ واحد پر تنقید کرنا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں صحابہ کرامؓ کی پاکیزہ زندگی سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے ان کے کردار کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنانا چاہیے اور رسولِ خدا ؐ کی تعلیمات اور ارشادات پر خلوصِ نیت کے ساتھ عمل کرنا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو معاشرے میں انصاف، بھائی چارے اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کے فروغ کا ضامن بن سکتا ہے۔
