لکھنؤ، 6 جولائی: اتر پردیش کی سیاست میں ایک اہم پیش رفت کے تحت سینئر کانگریسی رہنما، صنعت کار اور سماجی کارکن محمد یونس صدیقی نے سماجوادی پارٹی کی رکنیت اختیار کر لی۔ سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو کی موجودگی میں انہوں نے پارٹی کی باقاعدہ رکنیت حاصل کی۔ اس موقع پر پارٹی قیادت نے ان کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ ان کے طویل سیاسی، سماجی اور صنعتی تجربے سے پارٹی کو بھرپور فائدہ پہنچے گا۔محمد یونس صدیقی گزشتہ کئی دہائیوں سے صنعت، سماجی خدمت اور سیاست کے میدان میں سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں۔ وہ 2009 سے تالکٹورا انڈسٹریل اسٹیٹ انڈسٹریز اونرز ایسوسی ایشن کے صدر ہیں۔ اس کے علاوہ وہ انڈسٹریز ویلفیئر ایسوسی ایشن، اتر پردیش کے ریاستی صدر کی ذمہ داری بھی نبھا چکے ہیں۔اپنی سیاسی زندگی میں انہوں نے اتر پردیش کانگریس کمیٹی کے اقلیتی شعبہ میں نائب صدر، ترجمان اور لکھنؤ منڈل انچارج سمیت کئی اہم عہدوں پر خدمات انجام دی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ سٹی یوتھ کانگریس کمیٹی، لکھنؤ کے جنرل سیکریٹری بھی رہ چکے ہیں۔ سماجی اور تعلیمی میدان میں بھی ان کی خدمات نمایاں رہی ہیں۔ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن، لکھنؤ کے جوائنٹ سیکریٹری، ایلڈیکو گرینس ویلفیئر ایسوسی ایشن کے ماحولیاتی رابطہ کار اور جنرل سیکریٹری، سدگرو کبیر وچار سنستھان کے مشیر اور لکھنؤ اسٹیل فرنیچر کلسٹر ڈیولپمنٹ سوسائٹی کے صدر کے طور پر بھی اپنی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ محمد یونس صدیقی کی سماجوادی پارٹی میں شمولیت سے بالخصوص صنعتی حلقوں، تاجر برادری اور اقلیتی طبقے میں پارٹی کی بنیاد مزید مضبوط ہوگی۔
اس موقع پر محمد یونس صدیقی نے سماجوادی پارٹی کی پالیسیوں اور قومی صدر اکھلیش یادو کی قیادت پر اپنے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ مکمل خلوص، دیانت اور لگن کے ساتھ پارٹی کے نظریات کو عوام تک پہنچانے اور تنظیم کو مزید مضبوط بنانے کے لیے بھرپور کام کریں گے۔
