لکھنؤ، 08 جولائی: سیاسی و سماجی تنظیموں کے متعدد رہنماؤں نے آج سابق رکن اسمبلی شام کشور شکلا سے ملاقات کرکے آئین ہند کی دفعہ 341 کے حوالے سے تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ اس موقع پر حاجی فہیم صدیقی (قومی نائب صدر، انڈین نیشنل لیگ)، محمد آفاق (کنوینر، راشٹریہ سماجک کاریہ کرتا تنظیم)، محمد شاداب (یوپی جنرل سیکرٹری، آل انڈیا جمع? القریش)، سلیم احمد رائنی (اجتماعی مسلم نکاح کمیٹی) سمیت دیگر سماجی و سیاسی شخصیات موجود رہیں۔ حاجی محمد فہیم صدیقی نے کہا کہ آئین کی دفعہ 341 میں موجود مذہبی قید کی وجہ سے ملک کے ایک بڑے طبقے کو مساوی حقوق اور آئینی سہولیات سے محروم رہنا پڑتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس دفعہ میں مناسب ترمیم کرکے مذہبی بنیاد پر عائد پابندی کو ختم کیا جائے تاکہ تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے مستحق افراد کو یکساں مواقع اور انصاف حاصل ہو سکے۔ محمد آفاق نے کہا کہ آئین سبھی شہریوں کو برابری کا حق دیتا ہے، اس لیے مذہبی بنیاد پر کسی بھی قسم کا امتیاز ختم ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورت حال سے بالخصوص مسلم برادری کے متعدد مستحق طبقات کو عملی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس کے ازالے کے لیے آئینی ترمیم ناگزیر ہے۔ چودھری شاداب قریشی نے کہا کہ بہت جلد اس مطالبے کے حق میں ایک منظم عوامی مہم شروع کی جائے گی۔ اس سلسلے میں احتجاجی پروگرام منعقد کیے جائیں گے اور وزیر اعظم ہند، صدر جمہوریہ ہند، متعلقہ مرکزی وزارتوں اور مختلف ریاستی حکومتوں کو یادداشت (میمورنڈم) پیش کی جائے گی، تاکہ اس اہم آئینی مسئلے پر سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے مذہبی قید کو ختم کیا جا سکے۔موجود تمام رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سماجی انصاف، مساوات اور آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے اس مطالبے کو پرامن اور جمہوری طریقے سے ملک گیر سطح پر اٹھایا جائے گا، تاکہ ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے مستحق شہریوں کو یکساں حقوق اور مواقع میسر آ سکیں۔
مزکورہ اطلاع انڈین نیشنل لیگ کے قومی نا۴ب سدر ھاجی فہیم صدیقی نے جاری ایک پریس ریلیز میں دی ہے۔
