محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر، کرناٹک
۱۔ ایسا بھی نہیں ہوتا:۔
میں نے کہا’’کسی کی کامیابی پرتالی بجانے سے وہ بڑا اور میں چھوٹا نہیں ہوجاتا‘‘۔ وہ پہلے تو ہنسااور پھر اندرونی طورپر دانت پیستے ہوئے اس نے کہا’’میری تنقید سے کوئی ذلیل اور میں عزوشرف والا ہوجاؤں، ایسا بھی نہیں ہوتا‘‘۔واقعی اس نے مجھے جواب دے دیاتھا۔ اس کی تنقیدپر ہم اس کواِن دِنوں بے حد تنگ کررہے تھے ۔
۲۔ بڑے آدمی کی بات :۔
میرے لڑکے نے کہا’’ابو میں سمجھتاتھا، ہر بڑا آدمی بڑی بڑی باتیں کرتاہے ‘‘ میرادماغ سن ہوکر رہ گیا۔ بیٹا19کا ہوچکاہے، اورمعاشرتی تجزیے کرنے لگاہے۔ میں نے کہا ’’اچھا‘‘ اور خاموش ہوگیا۔ دراصل میں اس موضوع کو وہیں دفن کرنا چاہتاتھا مگر لڑکے نے آگے کہا’’ابو ،بڑا آدمی بھی انتہائی گھٹیا باتیں کرتاہے، چھوٹے چھوٹے لوگوں سے دشمنی پر اتر آتاہے۔کسی نہ کسی کو گالیاں دیتاہے۔ خود کی عظمت کے گن گاتاہے ‘‘۔میں نے کہا’’موٹرسائیکل روکو‘‘ لڑکے نے ٹووہیلر روک دی ۔ میں جامن خریدنے ٹووہیلر سے نیچے اترآیا۔
۳۔ کام ہوتاہے :۔
میں بڑی تیزی سے جارہاتھا کہ عاقب خان لیکچرر نے ہاتھ بتاکر مجھے روک لیااور پوچھا’’کام کب نہیں ہوتا‘‘ میں دراصل تیزی سے دواخانہ جارہاتھا۔ مروت میںگاڑی روک دی تواس طرح کابے تکا سوال ؟جس کا کیا جواب ہوسکتاہے ۔ میں نے کہا’’جب والدہ ،بیوی، بہن یا بیٹی نہیں چاہتیں تب کام نہیں ہوتا‘‘ اور گاڑی تیزی سے آگے بڑھا لایا۔ میرا وقت پردواخانہ پہنچنا ضروری تھا۔
۴۔ توبہ توبہ :۔
بہت ہی لذیذ اور ذائقہ دار پھل کھانے کے بعدخدا کاشکراداکرنے کیلئے منہ سے نکلا ’’جزاک اللہ خیرا‘‘، خیال آیاکہ اس طرح تو بندوں کاشکراداکیاجاتاہے ۔ پھرتو لاحول ولا قوۃ اور توبہ توبہ کہنے کے علاوہ زبان پر دوسری بات نہیں تھی ۔دن بھر یہی کچھ ہوتارہا۔ ندامت چھائی رہی۔
