ابو احمد مہراج گنج
آج یوٹیوب پر اسکورل کرتے ہوئے مجھے ایک ویڈیو کا تھمب نیل دکھائی دیا جس میں آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر اورنجم الدولہ، دبیر الملک، نظام جنگ مرزا اسد اللہ خان غالب کی تصویریں آپس میں گفت وشنید کرتے ہوئے نظر آرہی تھیں۔میں تھوڑی دیر کے لیے رکا اور کچھ سوچ کر ویڈیو پر کلک کردیا۔سوچنا اس لئے پڑا کہ مجھے بہادر شاہ ظفر میں کوئی دلچسپی نہیں ہاں مرزا اسد اللہ خان غالب کی شاعری اور شخصیت دونوں کا میں دیوانہ ہوں۔
خیر پوری ویڈیو دیکھا بہت کچھ نیا دیکھنے اور سننے کو ملا۔آگے تحریر میں اس تاریخی سیریل کے رائٹر ،اور پروڈیوسر اور ڈائریکٹر کے ساتھ ساتھ اس کے دور رس نتائج پر بھی گفتگو کریں گے ۔آگر اپ کو ان سب میں دلچسپی ہے تو اپ کو آگے پڑھنا چاہیے ۔
یہ سیریل پرسار بھارتی (دوردرشن) کی طرف سے بھارت کے سابق وزیراعظم *جواہر لال نہرو* کی مشہور کتاب *’دی ڈسکوری آف انڈیا’* (The Discovery of India) پر مبنی ہے۔ سیریل کا نام *’بھارت ایک کھوج’ (Bharat Ek Khoj)* ہے۔
یہ بھارتی ٹیلی ویژن کی تاریخ کے سب سے معتبر، اہم اور تاریخی ڈراما سیریلز میں سے ایک مانا جاتا ہے۔ اس سیریل کی ہدایت کاری اور تخلیق کے فرائض معروف فلم ساز *شیام بینیگل* نے انجام دیے تھے۔
پہلی بار *1988ء سے 1989ء* کے دوران دوردرشن (DD National) پر نشر کیا گیا۔
اس کی کل *53 قسطیں* تھیں، جن میں ہندوستان کی 5,000 سالہ تاریخ (وادیٔ سندھ کی تہذیب سے لے کر 1947ء میں ملک کی آزادی تک) کو احاطہ تحریر و منظر میں لایا گیا تھا۔
اداکار *روشن سیٹھ* نے جواہر لال نہرو کا کردار ادا کیا تھا، جو اس سیریل کے راوی (Narrator) بھی تھے۔ جبکہ مشہور اداکار *اوم پوری* نے اس میں مرکزی صداکار (Voice-over Anchor) کی ذمہ داری نبھائی تھی۔
اس ڈرامے میں بھارتی سنیما اور تھیٹر کے کئی عظیم فنکاروں نے کام کیا، جن میں اوم پوری، نصیر الدین شاہ، امریش پوری، عرفان خان، پیوش مشرا، ایلا ارون، کل بھوشن کھربندہ، کے۔ کے۔ رینا اور اننگ دیسائی شامل تھے۔
شیام بینیگل نے اسکرپٹ کو مکمل طور پر مستند اور تاریخی اعتبار سے درست رکھنے کے لیے تقریباً 35 سے 40 مورخین اور ماہرین کی ایک ٹیم سے مشاورت کی تھی جن میں عرفان حبیب جیسے نام شامل ہیں۔
اس سیریل میں صرف سیاسی تاریخ ہی نہیں، بلکہ ہندوستان کی ثقافتی، سماجی، فلسفیانہ اور ادبی ارتقاء کو بھی دکھایا گیاہے اس میں اپنشد، مہابھارت، رامائن، کالی داس کے ڈرامے، سنگم ادب، بھکتی تحریک، مغلیہ دور اور جنگِ آزادی جیسے مختلف ادوار کو الگ الگ قسطوں میں ڈرامائی اور دستاویزی (Documentary) انداز میں پیش کیا گیا ہے۔۔
اگر آپ بھارت کی پانچ سو سالہ تاریخ کو معتبر اور مستند روایات کے مطابق سننا سمجھنا اور دیکھنا چاہتے ہیں تویہ ایک سیریل آپ کو بھاگ دوڑ کی زندگی میں بہت ساری کتابوں کے ورق گردانی سے بچانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے
چلتے چلتے اخیر میں ایک اور بات پنڈت جواہر لال نہرو نے *’دی ڈسکوری آف انڈیا’* نامی کتاب 1942ء سے 1946ء کے دوران احمد نگر قلعے کی جیل میں قید کے دوران لکھی تھی۔اگر آل دل چسپی رکھتے ہیں تو پرسار بھارتی کا یوٹیوب چینل آپ جیسے افراد کا متمنی ہے۔
