شرف الدین سید

اگست کا مہینہ شروع ہوتے ہی ملک میں وطن پرستی کی ایک نئی لہر اٹھتی ہے۔ گلیوں، بازاروں، اسکولوں اور سرکاری اداروں میں ترنگا لہرانے لگتا ہے۔ قومی ترانے گونجتے ہیں۔ "جئے ہند’’جئے بھارت‘‘ کے نعرے بلند ہوتے ہیں اور ہر طرف حب الوطنی کے جذبات کا اظہار ہونے لگتا ہے۔یہ سب دیکھ کر خوشی ہوتی ہے۔
ملک سے محبت کا اظہار  ہونا چاہیے، آزادی کا جشن منایا جانا چاہیے اور ان لوگوں کو بھی یاد کیا جانا چاہیے جنہوں نے اس ملک کی آزادی کے لیے قربانیاں دیں۔
لیکن۔۔۔ ذرا ٹھہریے!
غور سے دیکھیے۔۔۔ اور اپنے آپ سے ایک سوال بھی کیجیے:
کیا وطن پرستی صرف جھنڈا لہرانے، قومی ترانہ گانے اور ’’جئے ہند، جئے  بھارت‘‘ کا نعرہ لگانے کا نام ہے؟اگر ایسا ہے تو پھر یہ بھی یاد رکھیے کہ یہی زبانیں کبھی نفرت کے نعرے بھی لگاتی ہیں۔ یہی آنکھیں کبھی دوسروں کی موت پر جشن بھی مناتی ہیں۔ یہی ہاتھ کبھی رشوت اور بدعنوانی کی دولت کے لیے پھیلتے ہیں۔ یہی قدم کبھی پیسے اور شراب کے عوض ووٹ ڈالنے کے لیے پولنگ بوتھ تک پہنچتے ہیں۔ یہی بازو کبھی عورتوں کی عصمت پامال کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ اور یہی ذہن کبھی معاشرے میں نفرت، عدم برداشت اور انتشار کے بیج بوتے ہیں۔تو پھر سوال یہ ہے کہ ہماری حب الوطنی کہاں ہے؟
ملک کے سرکاری دفاتر سے لے کر اسپتالوں تک، اسمبلیوں سے لے کر زمینوں کی رجسٹری کے دفاتر تک، پیدائش کے سرٹیفکیٹ سے لے کر موت کے اندراج تک۔۔۔ کتنے کام ایسے ہیں جو رشوت کے بغیر آسانی سے ہو جاتے ہیں؟آپ ملک کا کوئی ایک ایسا مصروف بس اڈہ یا ریلوے اسٹیشن دکھا دیجیے جہاں زیورات پہنی ہوئی کوئی اکیلی عورت پورے اطمینان کے ساتھ یہ کہہ سکے کہ ’’میں یہاں مکمل طور پر محفوظ ہوں۔‘‘کتنے لوگ ایسے ہیں جو کسی قانونی ماہر سے مشورہ کیے بغیر محض اعتماد کی بنیاد پر گھر یا زمین خریدنے کا حوصلہ رکھتے ہیں؟ایک طرف منشیات کا مافیا ہے، دوسری طرف زمینوں کا مافیا۔ کہیں کیپٹیشن فیس کا مافیا ہے، کہیں کان کنی کا، کہیں پانی کا اور کہیں چینی کا۔ ان سب کے درمیان ہندو مسلم، مذہب، ذات پات، اور فرقے کے نام پر معاشرے کو تقسیم کرنے والی قوتیں بھی سرگرم ہیں۔یہ سب کچھ ہمارے سامنے ہو رہا ہے۔اور دوسری طرف۔۔۔وطن پرستی کا جوش بھی عروج پر ہے!یہ کیسی عجیب صورتِ حال ہے کہ ہم وطن سے محبت کا دعویٰ بھی کرتے ہیں اور وطن کے نظام کو اندر ہی اندر کھوکھلا بھی کرتے رہتے ہیں۔
حب الوطنی محض ایک نعرہ نہیں، ایک ذمہ داری ہے۔حب الوطنی محض ایک جذبہ نہیں، ایک کردار ہے۔حب الوطنی محض ایک تقریر نہیں، ایک طرزِ زندگی ہے۔اگر بدعنوانی میں ڈوبے ہوئے لوگ بچوں کو اسکول میں اخلاقیات کا سبق دیں، اگر بدکردار لوگ یومِ آزادی کے موقع پر حب الوطنی کے بھاشن دیں، تو کیا ہم یہ سمجھتے ہیں کہ بچے کبھی اس منافقت کو سمجھ نہیں پائیں گے؟بچے خاموش ضرور ہوتے ہیں، بے وقوف نہیں۔
وہ دیکھتے ہیں کہ ہم کیا کہتے ہیں اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ ہم کیا کرتے ہیں۔
اس لیے اصول بہت سادہ ہے:جو کہتے ہیں، وہی کر کے دکھائیے۔۔۔یا جو کرتے ہیں، وہی کہنے کی جرأت رکھیے۔بس یہی حقیقی حب الوطنی ہے۔وہ وطن پرستی کس کام کی جس میں سادگی نہیں، شائستگی نہیں، محبت نہیں، رواداری نہیں، انسانیت نہیں؟
ٹیلی ویژن کے پردے پر بیٹھ کر چیخنے والے ’’کاغذی شیروں‘‘ اور ’’ٹی وی شیروں‘‘ کی تعداد چاہے جتنی بڑھ جائے، اگر ان کے اندر انسانیت نہیں تو ان کی حب الوطنی بھی محض ایک نقاب ہے۔باتوں کے محل میں حب الوطنی کے نقاب سجائے جا سکتے ہیں، لیکن کردار کی زمین پر صرف سچائی ہی کھڑی رہ سکتی ہے۔
حب الوطنی تو وہاں ہے جہاں انسان کی رگ رگ میں مساوات ہو، دل میں محبت ہو، ذہن میں رواداری ہو اور دوسروں کے لیے احترام ہو۔ہماری روزمرہ زندگی کا ہر چھوٹا سا اچھا عمل، ہماری دیانت داری، ہماری شرافت، ہماری ذمہ داری، ہماری قانون پسندی اور دوسروں کے حقوق کا احترام۔۔۔ یہی ہماری اصل حب الوطنی ہے۔
صرف ’’جئے بھارت‘‘ کا نعرہ نہیں!اچھے انسان بنیے۔اچھائی کا ساتھ دیجیے۔
برائی کو مسترد کیجیے۔اور جو سچ آپ کو دکھائی دے، اسے کہنے کی جرأت رکھیے۔یہ مہاتما گاندھی کے اہنسا والی سرزمین ہے۔
یہ ہٹلر کی آمریت والا ملک نہیں، یہ بابا صاحب امبیڈکر کے آئین سے ملنے والے حقِ اظہار کی سرزمین ہے۔یہ دہشت کی پہچان رکھنے والا ملک نہیں، یہ امن کی تلاش میں صدیوں سے کھڑا ہندوستان ہے۔یہ وہ ملک نہیں جہاں انسان آزادی سے سانس لینے سے بھی ڈرے۔یہ وہ ملک ہے جہاں آپ کی آواز کو دبایا نہیں، سنا جانا چاہیے۔اس لیے ڈریے نہیں۔گھبرائیے نہیں۔جھجکیے نہیں۔
بولیے!جو سچ آپ جانتے ہیں، اسے پورے یقین کے ساتھ کہیے۔مقبولیت کبھی سچائی کا معیار نہیں رہی۔انتخابات میں قاتل بھی جیتے ہیں، عصمت دری کے ملزم بھی جیتے ہیں، بدعنوان بھی جیتے ہیں، دھوکے باز بھی جیتے ہیں اور لٹیرے بھی کامیاب ہوئے ہیں۔اس لیے صرف انتخابات میں کامیابی حاصل کر لینا کسی کو سچائی کا علم بردار نہیں بنا دیتا۔جمہوریت یقیناً بہترین نظامِ حکومت ہے، لیکن جمہوریت بھی سچائی کا واحد معیار نہیں۔سچ وہی ہے جو سچ ہے۔۔۔ چاہے اسے کہنے والا مقبول ہو یا غیر مقبول۔جب جھوٹ بولنے والے بے خوف ہو کر بول سکتے ہیں، جب فریب دینے والے دوسروں کو اخلاق کا درس دے سکتے ہیں، جب نقاب پوش لوگ سرِعام اپنی بات کہنے میں شرم محسوس نہیں کرتے، تو پھر سچ جاننے والے خاموش کیوں رہیں؟
برے لوگوں کی زبان سے زیادہ خطرناک اچھے لوگوں کی خاموشی ہوتی ہے۔
اس لیے ریزرویشن کا مسئلہ ہو یا رام مندر میں چندہ چوری کا سوال، خواتین کی آزادی ہو یا سیکولرازم،دھرم ، ذات پات کا مسئلہ ہو یا سماجی انصاف، حب الوطنی ہو یا آئینی اقدار۔۔۔ ہر موضوع پر اپنی رائے رکھیے۔اختلاف کیجیے، مگر دلیل کے ساتھ۔تنقید کیجیے، مگر تہذیب کے ساتھ۔
مخالفت کیجیے، مگر انسانیت کے دائرے میں رہ کر۔ہاں، سچ بولنے کی قیمت بھی چکانی پڑ سکتی ہے۔
گالیاں مل سکتی ہیں۔
الزامات لگ سکتے ہیں۔تمسخر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
دھمکیاں بھی مل سکتی ہیں۔لیکن اگر نیت صاف ہے اور مقصد نیک ہے تو یہ سب آپ کے حوصلے کو شکست نہیں دے سکتے۔اپنی بات کہیے، مگر کسی کی ذاتی تذلیل نہ کیجیے۔
تنقید کیجیے، مگر جان بوجھ کر کسی کی عزت پامال نہ کیجیے۔کیونکہ آزادی کے ساتھ ذمہ داری بھی آتی ہے۔زبان پر گرفت رکھیے۔الفاظ پر قابو رکھیے۔دل میں رحم رکھیے۔ذہن میں معافی کی گنجائش رکھیے۔اور اس مٹی سے محبت رکھیے جس نے ہمیں پہچان دی ہے۔کیونکہ یہ ہندوستان ہے۔۔گنگا جمنی تہذیب کا گہوارہ۔۔ یہ وہ ملک ہے جہاں مختلف مذاہب، زبانوں، ذاتوں اور ثقافتوں کے درمیان اختلاف کے باوجود ایک ساتھ جینے کا خواب زندہ ہے۔اور سب سے بڑھ کر۔۔۔یہ وہ ملک ہے جہاں آئین ہمیں برابر کا شہری بناتا ہے۔
لیکن اگر واقعی ہم آئین، جمہوریت اور آزادیٔ اظہار پر یقین رکھتے ہیں تو پھر ایک سوال ان طلبہ کے بارے میں بھی پوچھنا ہوگا جو اپنے مستقبل کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے خلاف سڑکوں پر نکلتے ہیں۔جب کسی امتحان کا پرچہ لیک ہوتا ہے تو صرف ایک امتحان متاثر نہیں ہوتا۔۔۔ کسی کے برسوں کے خواب متاثر ہوتے ہیں۔ایک طالب علم اپنی جوانی کے قیمتی سال تیاری میں لگا دیتا ہے۔ اس کے والدین اپنی استطاعت سے بڑھ کر اس کی تعلیم پر خرچ کرتے ہیں۔ وہ امید باندھتا ہے کہ ایک دن محنت کے بل پر اپنی منزل حاصل کرے گا۔ لیکن اگر امتحان سے پہلے ہی سوالنامہ بازار میں پہنچ جائے، اگر محنت کرنے والے اور دھوکا دینے والے کے درمیان فرق مٹا دیا جائے، تو اس طالب علم کے دل پر کیا گزرتی ہوگی؟
اس کا احتجاج محض ایک سیاسی نعرہ نہیں۔وہ اپنے مستقبل کی حفاظت کے لیے آواز اٹھا رہا ہے۔وہ پوچھ رہا ہے کہ اگر محنت کی کوئی قیمت نہیں، اگر میرٹ کی کوئی ضمانت نہیں، اگر امتحان کی شفافیت پر یقین نہیں کیا جا سکتا، تو پھر نوجوان کس امید کے ساتھ آگے بڑھیں؟ایسے طلبہ کو سننا چاہیے۔ان کے سوالات کا جواب دینا چاہیے۔ان کے احتجاج کو دشمنی کی نگاہ سے نہیں، ایک ذمہ دار شہری کی آواز کے طور پر دیکھنا چاہیے۔احتجاج جمہوریت کا حصہ ہے۔اختلاف جمہوریت کی روح ہے۔اور سوال پوچھنا کسی جرم کا نام نہیں۔اگر اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے والے طلبہ پر طاقت کا استعمال کیا جائے، انہیں ڈرایا جائے، دھمکایا جائے یا ان کے ساتھ غیرضروری سختی برتی جائے، تو یہ صرف چند نوجوانوں کا مسئلہ نہیں رہتا؛ یہ پورے معاشرے کے لیے ایک سوال بن جاتا ہے۔
جس ملک میں نوجوان اپنے مستقبل کے لیے آواز اٹھانے سے ڈرنے لگیں، وہاں آزادی کے جشن کے ساتھ خود احتسابی بھی ضروری ہو جاتی ہے۔ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہمیں صرف ایسے شہری چاہییں جو قومی ترانے کے وقت کھڑے ہوں، یا ایسے شہری بھی جو ناانصافی کے وقت کھڑے ہونے کی جرأت رکھتے ہوں؟ترنگے کو سلام کرنا آسان ہے۔ترنگے کے نیچے بسنے والے ہر شہری کے حق کا احترام کرنا اصل وطن پرستی ہے۔
قومی ترانہ گانا آسان ہے۔اس ملک کے ہر بچے کو میرٹ، انصاف اور عزت کے ساتھ آگے بڑھنے کا موقع دینا اصل حب الوطنی ہے۔
’’جئے بھارت‘‘ کہنا آسان ہے۔بھارت کے نوجوانوں کو یہ یقین دلانا کہ ان کی محنت ضائع نہیں جائے گی۔۔۔ یہی ’’جئے ہند یا جئے بھارت‘‘ کی حقیقی روح ہے۔
سچ کہنے سے خوف نہ کھائیے۔کیونکہ آخرکار سچ کو نہ نعروں کی ضرورت ہوتی ہے، نہ شور کی، نہ کسی طاقتور سہارے کی۔
سچ خاموش رہ سکتا ہے۔۔۔مگر مرتا نہیں۔
اور اسی یقین کے ساتھ کہیے:سچ ہی کی جیت ہوتی ہے!
یہ ہندوستان ہے۔۔۔
یہی ہندوستان ہے۔۔۔
اور اسے ہندوستان ہی رہنا ہے!…
One thought on “وطن پرستی نعروں میں نہیں، کردار میں ہوتی ہے۔!!!!”
  1. موجودہ سیاسی صورتحال کے پس منظر میں حب الوطنی پر ایک سیدھا سادہ اور واضح مضمون۔ مبارکباد پیش ہے۲

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے