ابو معاذ عبدالعلیم محمد تفسیر صدیقی

استاد مصباح العلوم نسواں رسول پور ڈومریا گنج سدھار نگر یو پی

قاریین کرام—–عزت تیری قائم ہے میرے لال قلعہ سے
میسور میں سوئے ہوئے ٹیپو کی قبر سے تاج و قطب مینار کے دیوار کے در سے بنگال کے سراج سے دلی کے ظفر سے
قاریین کرام—–
جب ہندوستان کی مقدس سرزمین پر انگریزوں کا ناپاک قدم پڑا اور وہ اپنی شاطرانہ چالوں سے یہاں کے مالک بن بیٹھے اور 1857 عیسوی میں عہد مغلیہ کے آخری چشم و چراغ بہادر شاہ ظفر کو قید کر کے پورے ملک ہندوستان پر برطانوی حکومت کا جھنڈا گاڑ دیا– لیکن وہ قوم جو نو سو سال تک ملک ہندوستان پر برابر حکومت کرتی رہی اسے اپنی محکومی ناقابل برداشت محسوس ہوئی- چنانچہ اس نے آزادی کی خاطر ایک تحریک کو جنم دیا اس تحریک نے ہندوستان کا نقشہ بدل دیا اور لوگوں میں غیرت و خودداری کا ایک ایسا جوہر پیدا کیا کہ تحریک خلافت کے بعد محمد علی نے انگریزوں کے پائہ تخت لندن میں گرج کر کہا کہ میں غلام ہندوستان میں واپس نہیں جاؤں گا، میں یہاں سے اسی وقت لوٹوں گا جب میرے ہاتھ میں ہندوستان کی آزادی کا پروانہ ہوگا اور اگر تم مجھے آزادی ہند کا پروانہ نہیں دے سکتے ہو تو سرزمین لندن میں ایک قبر کی جگہ دینی ہی پڑے گی۔
قاریین کرام—– اگر مسلمان جنگ آزادی میں شریک نہیں تھے تو بہادر شاہ ظفر کو کیوں جلا وطن کیا گیا؟ ان کے لڑکے شہید کیوں کیے گئے؟ ان کے پوتوں کا سر کاٹ کر ناشتہ میں کیوں پیش کیا گیا؟ اسی پر بس نہیں ہوا بلکہ عید کے موقع پر جب پورے ہندوستان کے باشندے عید کی خوشیاں منا رہے تھے تو علمائے صادق پور کے گھروں پر برطانوی بلڈوزر چل رہے تھے، اگر مسلمان جنگ آزادی میں شریک نہیں تھے تو علمائے صادق پور کے گھروں پر برطانوی بلڈوزر کیوں چلایا گیا؟ ان پر ظلم کیوں ڈھایا گیا؟ میں پوچھنا چاہتا ہوں ایسے لوگوں سے جو بلا تامل یہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کا ہندوستان میں کچھ نہیں ہے؟
خواب غفلت کی ردا میں سونے والو سنو! مسلمانوں کا اگر کردار دیکھنا چاہتے ہو تو مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا محمد علی جوہر، مولانا ظفر علی خان، مولانا شوکت علی، مولانا ولایت علی صادق پوری اور ہندوستان کی ریاست اتر پردیش ضلع سدھارتھ نگر کا مجاہد مفسر قران مولانا عبدالقیوم رحمانی رحمہ اللہ کی انتھک کوششوں کا نتیجہ ہے کہ جنگ آزادی میں ہماری جگہ ہمیشہ صف اول میں رہی ہے۔ اس سے کسی کو مجال انکار نہیں چنانچہ ایسا ہوا کہ انگریزوں نے ہمارے سامنے گھٹنے ٹیک دیے اور 15 اگست سن 1947 عیسوی کو ہندوستان ان ظالم قوموں کے ہاتھوں سے آزاد ہو گیا——
مگر افسوس صد افسوس

حق کے بدلے گولیاں روٹی کے بدلے لاٹھیاں
کیا حسیں تحفہ ملا ہم کو آزادی کے بعد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے