(فائل فوٹو: عالم بدیع اعظمی)
ڈاکٹر سراج الدین ندوی
ڈائریکٹر مرکز تعلیم القرآن
23 جولائی 2026ء کو یہ اندوہناک خبر ملی کہ عالم بدیع اعظمی صاحب اس دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں۔ یہ خبر میرے لیے نہایت صدمہ انگیز تھی۔ یوں محسوس ہوا جیسے ایک مخلص خیر خواہ، ایک شفیق بزرگ اور ایک باکردار عوامی رہنما خاموشی سے اس دنیا سے چلا گیا ہو۔ اگرچہ موت ایک اٹل حقیقت ہے اور ہر ذی روح کو ایک دن اس کا مزہ چکھنا ہے، لیکن بعض شخصیات کی جدائی اس لیے زیادہ محسوس ہوتی ہے کہ وہ اپنے پیچھے کردار، محبت اور نیک نامی کا ایسا سرمایہ چھوڑ جاتی ہیں جس کی کمی مدتوں محسوس کی جاتی ہے۔
عالم بدیع اعظمی کا انتقال صرف ایک سابق رکنِ اسمبلی کی وفات نہیں بلکہ ایک ایسی سیاسی روایت کے خاتمے کا اعلان تھا جس میں کردار کو دولت پر، سادگی کو نمود و نمائش پر اور عوامی خدمت کو ذاتی مفاد پر فوقیت حاصل تھی۔ وہ ان سیاست دانوں میں تھے جنہوں نے سیاست کو پیشہ نہیں بلکہ ذمہ داری سمجھا اور پوری زندگی اسی احساس کے ساتھ گزاری۔
آج سیاست کے بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ اس میں اصولوں سے زیادہ مصلحت، خدمت سے زیادہ تشہیر اور کردار سے زیادہ سرمایہ اہمیت رکھتا ہے۔ ایسے ماحول میں اگر کوئی شخص پانچ مرتبہ عوام کے ووٹوں سے اسمبلی پہنچے، مخالفین بھی اس کی دیانت کا اعتراف کریں اور اقتدار کے باوجود اس کی زندگی میں کوئی غیر معمولی تبدیلی نہ آئے تو یقیناً وہ ایک غیر معمولی شخصیت کہلانے کا مستحق ہے۔ عالم بدیع اعظمی انہی معدودے چند سیاست دانوں میں شامل تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی سے یہ ثابت کیا کہ سیاست میں شائستگی، سادگی، مطالعہ، اصول پسندی اور عوام سے قربت بھی کامیابی کی ضمانت بن سکتی ہے۔
ان کے انتقال کے بعد مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ یہ خراج صرف رسمی تعزیت نہیں تھا بلکہ ایک ایسے سیاست دان کی خدمات کا اعتراف تھا جس نے طویل سیاسی زندگی میں اپنے کردار کو کبھی داغدار نہیں ہونے دیا۔ ان کی شخصیت اس اعتبار سے بھی منفرد تھی کہ وہ سیاسی اختلافات کے باوجود مختلف حلقوں میں احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔
عالم بدیع اعظمی کی پیدائش 16 مارچ 1936ء کو ضلع اعظم گڑھ کے گاؤں وندول میں ہوئی۔ ان کے والد بدیع الزماں اعظمی ایک باوقار شخصیت تھے اور خاندان میں علمی و اخلاقی اقدار کو اہمیت حاصل تھی۔ دیہی ماحول میں پرورش پانے کے باعث عالم بدیع اعظمی نے عام لوگوں کی زندگی، ان کی مشکلات اور ان کی ضروریات کو بچپن ہی سے قریب سے دیکھا۔ یہی تجربات بعد میں ان کی سیاسی زندگی کا سرمایہ بنے۔
انہوں نے انٹرمیڈیٹ تک تعلیم حاصل کی اور اس کے بعد الیکٹریکل اینڈ مکینیکل انجینئرنگ میں ڈپلومہ کیا۔
عالم بدیع اعظمی کی سیاسی زندگی محض انتخابی سیاست تک محدود نہیں تھی۔ وہ سیاست کو سماجی ذمہ داری اور عوامی خدمت کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ یہی سوچ انہیں عام سیاست دانوں سے ممتاز کرتی ہے۔ وہ ان لوگوں میں شامل تھے جو اقتدار حاصل کرنے سے پہلے بھی عوام کے درمیان رہتے تھے اور اقتدار ملنے کے بعد بھی ان سے دور نہیں ہوئے۔
سیاسی حلقوں میں انہیں ڈاکٹر جلیل فریدی کے قریبی رفقا میں شمار کیا جاتا تھا اور مسلم نمائندگی کے سوال پر وہ سنجیدہ اور متوازن فکر رکھتے تھے۔ ان کے نزدیک سیاست کا مقصد صرف انتخابات جیتنا نہیں بلکہ معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان اعتماد، انصاف اور باہمی احترام کو فروغ دینا بھی تھا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ سیاسی گفتگو میں جذباتیت کے بجائے سنجیدگی اور دلیل کو ترجیح دیتے تھے۔
بعد کے برسوں میں وہ سماج وادی پارٹی سے وابستہ ہوئے اور اسی پلیٹ فارم سے اپنی عوامی خدمات کو آگے بڑھایا۔ ان کی پہچان پارٹی سے زیادہ ان کی اپنی شخصیت تھی۔ لوگ انہیں پارٹی کے نمائندے سے پہلے اپنے علاقے کے مخلص نمائندے کے طور پر جانتے تھے۔
اعظم گڑھ کے نظام آباد اسمبلی حلقے سے مسلسل پانچ مرتبہ کامیاب ہونا کوئی معمولی بات نہیں تھی۔ 1996ء، 2002ء اور 2007ء میں مسلسل کامیابی کے بعد 2012ء اور 2017ء میں بھی عوام نے انہیں اپنا نمائندہ منتخب کیا۔ یہ ایک ایسے شخص کی کامیابی تھی جس نے نہ دولت کی نمائش کی، نہ طاقت کا مظاہرہ کیا اور نہ ہی بلند بانگ دعووں کے ذریعے عوام کو متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انتخابات میں مختلف جماعتوں نے ان کے مقابلے میں مضبوط امیدوار کھڑے کیے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی، بہوجن سماج پارٹی اور دیگر سیاسی قوتوں نے انہیں شکست دینے کے لیے بھرپور کوششیں کیں، لیکن ہر بار نظام آباد کے عوام نے اپنے اعتماد کا اظہار انہی کے حق میں کیا۔ اس مسلسل کامیابی کے پیچھے کوئی سیاسی معجزہ نہیں تھا بلکہ برسوں کی خدمت، دیانت اور عوام کے ساتھ مضبوط تعلق تھا۔
سیاسی مبصرین اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ عالم بدیع اعظمی کی اصل طاقت ان کی شخصیت تھی۔ لوگ انہیں صرف انتخابی موسم میں نہیں دیکھتے تھے بلکہ پورے پانچ سال اپنے درمیان محسوس کرتے تھے۔ وہ عوام کے دکھ درد میں شریک ہوتے، چھوٹے بڑے مسائل سنتے اور حتیٰ المقدور ان کے حل کی کوشش کرتے۔ یہی مسلسل رابطہ ان کے اور عوام کے درمیان اعتماد کا مضبوط رشتہ بن گیا۔
آج کے سیاسی ماحول میں اکثر یہ سمجھا جاتا ہے کہ مقبولیت کے لیے بڑے جلسے، وسیع تشہیری مہم، دولت اور طاقت ناگزیر ہیں، لیکن عالم بدیع اعظمی نے اس تصور کو غلط ثابت کیا۔ انہوں نے خاموشی سے کام کیا، کم بولے لیکن جب بولے تو بات وزن رکھتی تھی۔ان کی مقبولیت کا راز ان کی سادگی، صاف گوئی اور مسلسل عوامی رابطہ تھا۔ لوگ ان کے پاس بلا جھجھک آتے تھے، کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ یہاں دکھاوے کی سیاست نہیں بلکہ خلوص ملے گا۔ انہوں نے اپنے اور عوام کے درمیان کبھی پروٹوکول کی دیوار کھڑی نہیں کی۔ یہی وجہ تھی کہ وہ صرف اپنے حلقے میں نہیں بلکہ پورے اعظم گڑھ میں احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔وہ ان سیاست دانوں میں شامل تھے جن کے بارے میں مخالفین بھی ذاتی سطح پر احترام کا جذبہ رکھتے تھے۔ اختلافات اپنی جگہ، لیکن ان کے کردار، دیانت اور سادگی پر کم ہی لوگوں نے سوال اٹھایا۔ ایک طویل سیاسی زندگی میں اس طرح کی ساکھ قائم رکھنا خود ان کی سب سے بڑی کامیابی تھی۔
اگر عالم بدیع اعظمی کی پوری شخصیت کو ایک لفظ میں بیان کرنا ہو تو وہ لفظ ”سادگی” ہوگا۔ انہوں نے اپنی پوری سیاسی زندگی میں سادگی کو اپنا شعار بنائے رکھا۔ پانچ مرتبہ رکنِ اسمبلی منتخب ہونے کے باوجود ان کی زندگی میں نہ کوئی شاہانہ انداز آیا، نہ پروٹوکول کا شوق پیدا ہوا اور نہ ہی اقتدار کی چمک دمک نے انہیں متاثر کیا۔ وہ اکثر سائیکل یا اسکوٹر پر سفر کرتے تھے اور اسی انداز میں لوگوں کے درمیان آتے جاتے تھے۔ ان کی سادگی دکھاوے کے لیے نہیں تھی بلکہ ان کی فطرت کا حصہ تھی۔ یہی وجہ تھی کہ عوام انہیں اپنا آدمی سمجھتے تھے، کوئی دور بیٹھا ہوا سیاست دان نہیں۔
عالم بدیع اعظمی کی سیاسی زندگی کی ایک بڑی خصوصیت ان کی دیانت داری تھی۔ سیاست میں نصف صدی سے زیادہ وقت گزارنے کے باوجود ان کا نام کبھی مالی بے ضابطگیوں یا ذاتی مفادات کے حوالے سے موضوعِ بحث نہیں بنا۔ انہوں نے عوام کے اعتماد کو ہمیشہ ایک امانت سمجھا اور اپنے منصب کو ذاتی ترقی کا ذریعہ نہیں بنایا۔ ان کی یہی دیانت ان کی اصل سیاسی قوت تھی۔ آج بھی ان کے مخالفین ان کی ایمانداری کا احترام کرتے ہیں، اور یہی کسی بھی عوامی رہنما کے لیے سب سے بڑا سرمایہ ہوتا ہے۔
عہدے اکثر انسان کے مزاج کو بدل دیتے ہیں، لیکن عالم بدیع اعظمی اس معاملے میں بھی منفرد تھے۔ وہ ہر شخص سے انتہائی احترام اور خلوص کے ساتھ ملتے تھے۔ ان سے ملنے والا یہ محسوس نہیں کرتا تھا کہ وہ پانچ مرتبہ منتخب ہونے والے ایک سینئر سیاست دان سے گفتگو کر رہا ہے۔ وہ بڑے انہماک سے دوسروں کی بات سنتے، اختلاف کو برداشت کرتے اور گفتگو میں شائستگی کو کبھی ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔ ان کے حسنِ اخلاق نے انہیں صرف سیاسی حلقوں میں نہیں بلکہ سماجی اور تعلیمی حلقوں میں بھی مقبول بنایا۔
ان کی زندگی کا ایک نمایاں وصف یہ بھی تھا کہ وہ سماجی ذمہ داریوں سے کبھی غافل نہیں ہوئے۔ علاقے میں کوئی تعلیمی تقریب ہو، کسی خاندان میں خوشی یا غم کا موقع ہو، یا کوئی سماجی اجتماع، جہاں ممکن ہوتا وہ خود شریک ہوتے تھے۔ اس عادت نے انہیں عوام کے مزید قریب کردیا۔ لوگ انہیں صرف اسمبلی کا نمائندہ نہیں بلکہ اپنے خاندان کے ایک بزرگ کی حیثیت سے دیکھتے تھے۔ یہی تعلق ان کی مقبولیت کی اصل بنیاد تھا۔
عالم بدیع اعظمی ان سیاست دانوں میں سے تھے جو صرف تقریریں نہیں کرتے تھے بلکہ مطالعہ بھی کرتے تھے۔ انہیں کتابوں سے گہرا شغف تھا۔ سیاسیات، تاریخ اور سماجی مسائل پر ان کی نظر وسیع تھی۔ مسلم سیاست، اسلامی تاریخ اور فکری مباحث میں ان کی دلچسپی ان کی گفتگو میں صاف محسوس ہوتی تھی۔ وہ کسی بھی موضوع پر رائے دینے سے پہلے اس کے مختلف پہلوؤں پر غور کرتے تھے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ ان کی گفتگو میں سنجیدگی اور گہرائی پائی جاتی تھی۔
مختلف قومی، سماجی اور تعلیمی موضوعات پر میرے مضامین تقریباً ہر ہفتہ اخبارات میں شائع ہوتے ہیں۔ عالم بدیع اعظمی صاحب نہ صرف میرے مضامین پوری توجہ سے پڑھتے بلکہ بسا اوقات فون کرکے ان پر اپنی رائے بھی دیتے۔
عالم بدیع اعظمی کی ایک اہم خوبی ان کی صاف گوئی تھی۔ وہ کسی بھی معاملے میں مصلحت کے نام پر حقیقت کو چھپانے کے قائل نہیں تھے۔ اگر انہیں کوئی بات درست محسوس ہوتی تو وہ اسے پوری وضاحت کے ساتھ بیان کرتے تھے۔ ملائم سنگھ یادو کے اعظم گڑھ کے انتخاب کے دوران منعقد ہونے والی جائزہ میٹنگ کا واقعہ اس کی ایک روشن مثال ہے۔ جب اکثر لوگ کامیابی کا یقین دلا رہے تھے، اس وقت انہوں نے زمینی حقیقت بیان کی۔ ان کی بات ابتدا میں شاید سب کو پسند نہ آئی ہو، لیکن بعد کے حالات نے ان کے تجزیے کی صحت کو واضح کردیا۔ یہ واقعہ ان کی سیاسی بصیرت اور حق گوئی دونوں کا مظہر ہے۔
عالم بدیع اعظمی کے نزدیک سیاست کا اصل مقصد عوامی خدمت تھا۔ انہوں نے اپنے علاقے کے لوگوں کے مسائل کو اپنا مسئلہ سمجھا۔ وہ صرف انتخابی مہم کے دوران متحرک نہیں ہوتے تھے بلکہ پورے عرصہ نمائندگی میں لوگوں سے رابطہ رکھتے تھے۔ ان کے دروازے عام لوگوں کے لیے ہمیشہ کھلے رہتے تھے۔ یہی عوامی رابطہ انہیں دوسری قیادت سے ممتاز بناتا تھا۔
انہوں نے اپنی سیاسی زندگی میں اصولوں پر سمجھوتہ کرنے کے بجائے انہیں نبھانے کی کوشش کی۔ ان کی شخصیت میں سنجیدگی، خودداری اور وقار نمایاں تھا۔ وہ وقتی فائدے کے لیے اپنے مؤقف کو تبدیل کرنے کے عادی نہیں تھے۔ اختلاف کرتے تھے تو دلیل کے ساتھ اور اتفاق کرتے تھے تو پوری دیانت کے ساتھ۔ یہی رویہ ان کی شخصیت کو قابلِ اعتماد بناتا تھا۔
عالم بدیع اعظمی کی وفات سے اتر پردیش کی سیاست ایک ایسے رہنما سے محروم ہوگئی جس نے اپنے کردار سے یہ ثابت کیا کہ سیاست میں شائستگی، اصول پسندی اور عوامی خدمت آج بھی زندہ رہ سکتی ہے۔ وہ ان سیاست دانوں میں سے تھے جن کی کامیابی صرف انتخابات جیتنے میں نہیں بلکہ لوگوں کے دل جیتنے میں تھی۔ ان کی زندگی نئی نسل کے سیاست دانوں کے لیے ایک سبق ہے کہ عوامی اعتماد دولت یا طاقت سے نہیں بلکہ کردار، سادگی، دیانت اور مسلسل خدمت سے حاصل ہوتا ہے۔


