عبدالغفار صدیقی

ہر سال ساون کے مہینے میں شمالی ہندوستان بالخصوص اتر پردیش، اتراکھنڈ، ہریانہ، راجستھان، دہلی، مدھیہ پردیش اور بہار کے متعدد علاقوں میں کانوڑ یاترا کا آغاز ہوتا ہے۔ لاکھوں بلکہ بعض اندازوں کے مطابق کروڑوں افراد اس یاترا میں شریک ہوتے ہیں۔ گنگا یا کسی دوسرے مقدس دریا سے جل لا کر شیو مندر میں شیو لنگ پر چڑھانا اس یاترا کا بنیادی مقصد سمجھا جاتا ہے۔ اس دوران شاہراہوں پر غیر معمولی بھیڑ ہوتی ہے، خصوصی انتظامات کیے جاتے ہیں، مختلف راستوں پر ٹریفک تبدیل کر دی جاتی ہے، اور بعض علاقوں میں معمول کی زندگی کئی دنوں بلکہ کئی ہفتوں تک متاثر رہتی ہے۔
کانوڑ یاترا کوئی نیا مذہبی عمل نہیں ہے۔ ہندو مذہبی روایات میں اس کی نسبت قدیم زمانے سے کی جاتی ہے۔ بعض روایات اسے سمندر منتھن کے واقعہ سے جوڑتی ہیں اور بعض اسے راون یا پرشورام سے منسوب کرتی ہیں۔ تاہم تاریخی اعتبار سے مؤرخین کی رائے یہ ہے کہ موجودہ شکل میں اس یاترا کو گزشتہ دو تین صدیوں میں زیادہ فروغ ملا، جبکہ گزشتہ چالیس پچاس برسوں میں اس کا دائرہ غیر معمولی طور پر وسیع ہوا ہے۔ آج یہ دنیا کی بڑی مذہبی یاتراؤں میں شمار کی جاتی ہے۔
کسی بھی مذہبی معاشرے میں اپنے عقیدے کے مطابق عبادت اور مذہبی رسوم ادا کرنا بنیادی مذہبی آزادی کا حصہ ہے۔ ہندوستان کا آئین بھی ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کا حق دیتا ہے۔ اس اعتبار سے کانوڑ یاترا بھی ہندو برادری کا مذہبی حق ہے، جس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ اسی طرح مسلمانوں، سکھوں، عیسائیوں اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو بھی اپنے اپنے مذہبی فرائض انجام دینے کی مکمل آزادی حاصل ہونی چاہیے۔ آئینی اصول یہی ہے کہ ہر مذہب کے ماننے والوں کو یکساں حقوق حاصل ہوں اور ریاست سب کے ساتھ غیر جانب دارانہ رویہ اختیار کرے۔
لیکن اصل سوال کانوڑ یاترا کے وجود کا نہیں، بلکہ اس کے انتظام اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سماجی مشکلات کا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں یہ شکایات مسلسل سامنے آ رہی ہیں کہ یاترا کے دوران عام شہریوں کی روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ کئی شاہراہیں بند کر دی جاتی ہیں، متعدد راستوں کو یک طرفہ بنا دیا جاتا ہے، ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے، سرکاری اور نجی ٹرانسپورٹ محدود کر دی جاتی ہے، اور ہزاروں دیہات و قصبات کے لوگوں کو معمول کے سفر میں غیر معمولی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
مغربی اتر پردیش اس کی نمایاں مثال ہے۔ ہری دوار جانے والے تمام اہم راستوں پر کئی کئی دن تک ٹریفک کے خصوصی انتظامات نافذ رہتے ہیں۔ متعدد مقامات پر عام گاڑیوں کا داخلہ روک دیا جاتا ہے۔ بعض علاقوں میں سرکاری بسوں کے روٹ تبدیل کر دیے جاتے ہیں، بعض جگہ انہیں عارضی طور پر بند بھی کرنا پڑتا ہے۔ اس کا سب سے زیادہ اثر مزدوروں، ملازمین، طلبہ، تاجروں، مریضوں اور روزانہ سفر کرنے والے عام شہریوں پر پڑتا ہے۔
بعض ریاستوں میں اسکولوں کی تعطیلات میں بھی اضافہ کر دیا جاتا ہے تاکہ بچوں کی آمدورفت میں دشواری نہ ہو۔ اگرچہ انتظامیہ اس کا جواز امن و امان اور ٹریفک کے بہتر انتظام کو قرار دیتی ہے، لیکن اس سے تعلیمی سرگرمیاں بھی متاثر ہوتی ہیں۔ پہلے ہی ہمارے تعلیمی نظام کو متعدد مسائل کا سامنا ہے، ایسے میں بار بار کی غیر تدریسی تعطیلات بچوں کے تعلیمی نقصان کا باعث بنتی ہیں۔
اسی طرح کئی ریاستوں میں ساون کے دوران گوشت اور مچھلی کی فروخت پر مختلف نوعیت کی پابندیاں یا سختیاں نافذ کی جاتی ہیں۔ اگرچہ بعض احکامات مقامی سطح پر ہوتے ہیں، لیکن ان کا اثر ہزاروں چھوٹے تاجروں، قصابوں، ماہی گیروں، ہوٹلوں اور ان سے وابستہ مزدوروں پر پڑتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر کسی مذہبی طبقے کی عبادت کے احترام میں دوسرے شہریوں کے جائز روزگار پر پابندیاں عائد ہوں تو اس کا آئینی اور اخلاقی جواز کیا ہے؟ ایک جمہوری ریاست میں حکومت کی ذمہ داری یہ ہے کہ مذہبی آزادی اور شہری آزادی کے درمیان ایسا توازن قائم کرے جس سے کسی فریق کے بنیادی حقوق متاثر نہ ہوں۔
اس دوران سب سے زیادہ مشکلات ان مریضوں کو پیش آتی ہیں جنہیں فوری طور پر اسپتال پہنچنا ہوتا ہے۔ اگرچہ ایمبولینس کے لیے خصوصی راستے بنانے کی کوشش کی جاتی ہے، لیکن ہر مریض ایمبولینس میں سفر نہیں کرتا۔ اسی طرح شادی بیاہ، امتحانات، ملازمت کے انٹرویو، عدالتوں میں پیشی، کاروباری سرگرمیاں اور دیگر ضروری معاملات بھی متاثر ہوتے ہیں۔ بعض لوگوں کو اپنے مرحوم عزیزوں کے جنازے یا آخری رسومات میں شرکت کے لیے غیر معمولی دشواریاں برداشت کرنا پڑتی ہیں۔
یہ کہنا درست ہوگا کہ اتنی بڑی مذہبی یاترا کے دوران کچھ نہ کچھ مشکلات پیدا ہونا فطری بات ہے۔ لاکھوں افراد جب ایک ہی وقت میں سڑکوں پر نکلیں گے تو انتظامیہ کو غیر معمولی انتظامات کرنے ہی پڑیں گے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ان انتظامات میں دوسرے شہریوں کے بنیادی حقوق، ان کی سہولت اور ان کے تحفظ کو بھی یکساں اہمیت دی جاتی ہے؟ یہی وہ سوال ہے جو ہر سال زیادہ شدت کے ساتھ اٹھایا جاتا ہے۔
حکومت کی ذمہ داری صرف یہ نہیں کہ یاتریوں کو سہولت فراہم کرے، بلکہ یہ بھی ہے کہ عام شہریوں کی زندگی کم سے کم متاثر ہو، قانون سب پر یکساں نافذ ہو، اور کسی بھی شخص کو مذہبی عقیدت کے نام پر قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہ دی جائے۔ ایک کامیاب انتظامیہ وہی ہوتی ہے جو مذہبی آزادی اور شہری نظم و نسق کے درمیان متوازن راستہ اختیار کرے۔ اگر یہ توازن برقرار نہ رہے تو مذہبی اجتماع خود تنازع، بداعتمادی اور سماجی کشیدگی کا سبب بننے لگتے ہیں، جس کا نقصان بالآخر پورے معاشرے کو اٹھانا پڑتا ہے۔
اصل تشویش کانوڑ یاترا سے نہیں، بلکہ اس کے دوران بعض مقامات پر پیدا ہونے والی ان صورتِ حال سے ہے جہاں قانون کی عمل داری کمزور دکھائی دیتی ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں متعدد ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جن میں معمولی تصادم یا غلط فہمی نے بڑے تنازع کی شکل اختیار کرلی۔ کہیں کسی گاڑی کے چھو جانے پر مشتعل ہجوم نے گاڑی کو نقصان پہنچایا، کہیں راہ گیروں کے ساتھ مارپیٹ کی گئی، اور کہیں محض افواہ کی بنیاد پر ماحول کشیدہ ہوگیا۔
ظاہر ہے کہ لاکھوں افراد پر مشتمل کسی بھی مذہبی اجتماع میں چند شرپسند عناصر شامل ہوسکتے ہیں۔ یہی صورت حال دوسرے مذہبی یا سیاسی اجتماعات میں بھی دیکھی جاتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا چند افراد کی قانون شکنی کو برداشت کیا جانا چاہیے؟ اس کا جواب یقیناً نفی میں ہے۔ قانون کی نظر میں ہر شہری برابر ہے۔ اگر کوئی شخص جرم کرتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی پولیس اور عدالت کا کام ہے، نہ کہ ہجوم کا۔
انتہائی افسوس اس وقت ہوتا ہے جب کسی معمولی حادثے کو مذہبی توہین یا جان بوجھ کر کی گئی اشتعال انگیزی قرار دے کر چند لمحوں میں ہجوم جمع ہوجاتا ہے۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں افواہیں آگ کی طرح پھیلتی ہیں اور بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ حقیقت اس سے مختلف تھی۔ اس لیے انتظامیہ کی اولین ذمہ داری یہ ہے کہ وہ افواہوں کو فوری طور پر روکے، حقیقت عوام کے سامنے لائے اور قانون شکنی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کرے۔
اگر کوئی مسلمان، ہندو، سکھ یا عیسائی قانون توڑتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ لیکن اگر کسی ایک فرد کی غلطی کی سزا پورے محلے، پورے بازار یا پورے فرقے کو دی جانے لگے تو یہ نہ آئین کی روح کے مطابق ہے اور نہ انصاف کے تقاضوں کے مطابق۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بعض واقعات میں پولیس پر جانبداری یا غیر مؤثر کارروائی کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ ایسے الزامات خواہ درست ہوں یا نہ ہوں، ان سے عوام کے اعتماد کو نقصان پہنچتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ پولیس نہ صرف غیر جانب دار ہو بلکہ اس کا طرزِ عمل بھی غیر جانب دار نظر آئے۔ قانون کی ساکھ اسی وقت قائم ہوتی ہے جب مجرم کی شناخت اس کے مذہب سے نہیں بلکہ اس کے جرم سے کی جائے۔
یہ سوال ہر سال اٹھتا ہے کہ ایسے ماحول میں مسلمانوں کا رویہ کیا ہونا چاہیے؟ میری رائے میں سب سے پہلی ضرورت صبر، ضبط اور حکمت کی ہے۔ اشتعال انگیزی کا جواب اشتعال سے دینا مسئلے کو حل نہیں بلکہ مزید پیچیدہ کرتا ہے۔ قرآن کریم نے بھی صبر، عدل اور حکمت کو مؤمن کی بنیادی صفات قرار دیا ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو غیر ضروری سفر سے اجتناب کیا جائے۔ اگر کوئی ایسا سفر مؤخر ہوسکتا ہو جو بعد میں کیا جاسکتا ہے تو اسے مؤخر کردینا دانش مندی ہے۔ اگر سفر ناگزیر ہو تو ایسے راستوں کا انتخاب کیا جائے جہاں غیر معمولی ہجوم نہ ہو، اور حتی الامکان تنہا سفر کرنے کے بجائے اجتماعی طور پر سفر کیا جائے۔
تیسری بات یہ ہے کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیا جائے۔ فوری طور پر پولیس میں شکایت درج کرائی جائے، ویڈیو اور دیگر شواہد محفوظ کیے جائیں اور قانونی چارہ جوئی اختیار کی جائے۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ ملک کی متعدد سماجی اور قانونی تنظیمیں مظلوم افراد کو قانونی مدد فراہم کر رہی ہیں۔ ایسے اداروں سے رابطہ رکھنا چاہیے اور اپنے آئینی حقوق کے لیے قانونی راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
چوتھی بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ ویڈیوز، افواہوں اور اشتعال انگیز پیغامات کو ہرگز آگے نہ بڑھایا جائے۔ ایک جھوٹی خبر کئی شہروں کا امن خراب کرسکتی ہے۔ مسلمان خصوصاً نوجوان اس معاملے میں غیر معمولی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔
پانچویں بات یہ ہے کہ اپنے محلوں، قصبوں اور شہروں میں غیر مسلم برادرانِ وطن کے ساتھ رابطے مضبوط کیے جائیں۔ امن کمیٹیاں، بین المذاہب ملاقاتیں اور مقامی سطح پر مکالمہ بہت سے تنازعات کو جنم لینے سے پہلے ہی ختم کرسکتا ہے۔ یہ حقیقت ہمیشہ پیش نظر رہنی چاہیے کہ اس ملک کے تمام ہندو مسلمانوں کے مخالف نہیں ہیں۔ کروڑوں لوگ امن، محبت اور باہمی احترام کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ چند شرپسند عناصر کی وجہ سے پورے معاشرے کے بارے میں منفی رائے قائم کرنا نہ انصاف ہے اور نہ دانش مندی۔
جہاں تک ساون کے دوران گوشت کی فروخت یا استعمال پر عائد پابندیوں کا تعلق ہے، اگر کسی علاقے میں وقتی صورت حال ایسی ہو کہ تنازع پیدا ہونے کا اندیشہ ہو تو مسلمان صبر و تحمل سے کام لیں۔ چند دنوں کی احتیاط کسی بڑے نقصان سے بہتر ہے۔
ہندوستان کی اصل طاقت اس کی مذہبی اور ثقافتی گوناگونی ہے۔ اگر ہر مذہبی تہوار دوسرے شہریوں کے لیے خوف، اضطراب یا دشواری کا سبب بننے لگے تو اس سے سب کا نقصان ہوگا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر مذہبی تقریب اپنے تقدس کے ساتھ انجام پائے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ دوسرے شہریوں کے جان و مال، عزت، کاروبار اور آمدورفت کا حق بھی محفوظ رہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے