ہمایوں اقبال ندوی 

نائب صدر، جمعیت علماء ارریہ 

وجنرل سکریٹری، تنظیم أبناء ندوہ پورنیہ کمشنری 

پاکستان سے آئی ہوئی ایک خاتون اس وقت خوب چرچے میں ہے، پب جی گیم پریہاں کےایک غیر مسلم لڑکے سےاسے عشق ہوگیا ہے، اسی لئے ملک چھوڑ کر عاشق کے پاس انڈیا بھاگ آگئی ہے، نیز چار بچوں کو بھی اپنے ساتھ لائی ہے، اور یہ بھی کہتی ہےکہ اب وہ یہیں رہے گی اور ہندو مذہب کی پیروی کرے گی، اپنےبچوں کے نام بھی انہوں نے ہندوانہ رکھ لئے ہیں، یہ سن کر ملت اسلامیہ محو حیرت ہے کہ ایک مسلم خاتون نے اتنا بھیانک قدم کیونکر اٹھایا ہے؟ اپنے ملک، اپنےشوہر، اپنےگھراور مذہب کو داؤ پر اس نے کیوں لگا دیا ہے؟

ابھی ایک ویڈیو بھی تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں ایک رپورٹر نے اس کے مسلمان ہونے کی جانچ کے لئے دو سوالات کئے ہیں، ایک سوال نماز سے متعلق ہے، تو دوسرا سورہ فاتحہ یا کوئی اسلامی کلمہ پڑھنے کے لئے کہا گیا ہے، اس کا جواب مذکورہ خاتون نفی میں دیتی ہے اور یہ کہتی ہے؛ سوری سر!!!

اینکر نے اس انٹرویو کا خلاصہ کرتے ہوئے یہ بھی واضح کیا کہ ؛ سیما جو خود کو مسلمان کہتی ہے اسے اسلام کے بارے میں کچھ بھی پتہ نہیں ہے، وہ کلمہ تک نہیں جانتی ہے، یہ سب کچھ دیکھ اور سن کر عام لوگوں کو بھی اس بات پر بڑا تعجب ہو رہا ہےکہ یہ پاکستانی خاتون جو بڑی مہارت کے ساتھ اپنی بات کہنے کی صلاحیت رکھتی ہے، پورے پاکستان کی معلومات بھی رکھتی ہے، تن تنہا وہاں سے حکومت و انتظامیہ کی آنکھوں میں دھول ڈال کر ہندوستان بھی پہونچ گئی ہے، مگر جس مذہب پر وہ گزشتہ ستائیس سالوں سے بنی ہوئی تھی اس کی بنیادی و ابتدائی باتوں سے بھی ناواقف ہے، دین اسلام کی کچھ بھی خو بو اس میں نظر نہیں آرہی ہے۔ کہیں دال میں کچھ کالا تو نہیں ہے؟ اسی لئے اب لوگوں کو ماضی میں بھی اس کے مسلمان ہونے پر بھی شک ہو رہا ہے۔

شرعی طور پر اس واقعہ کا جائزہ لیا جائے تو اس خاتون کا دین و مذہب سے اس درجہ کی لاعلمی ایک سنگین مسئلہ ہے، شریعت اسلامیہ کی نظر میں یہاں صرف شک کی بات نہیں ہے بلکہ یہ بات صاف ہے کہ مذکورہ خاتون کا اسلام سے پہلے بھی کوئی لینا دینا نہیں رہا ہے، اس مذہب میں داخلہ کے لئے ایک کلمہ ضروری ہے، یہ پہلا اور ضروری کام ہے، اسی لئے اس کا نام بھی پہلا کلمہ ہے، اس کے بول یہ ہیں: "لاالہ اللہ محمد رسول اللہ” ( ترجمہ) اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے رسول ہیں، اس کلمہ کو اسلام میں دروازہ کی حیثیت حاصل ہے، اس کے بغیر اسلام میں انٹری نہیں ہے، یہ کلمہ ایک اعلان ہے اور اقرار نامہ بھی ہے، اس میں جو باتیں کہی گئی ہیں صاحب ایمان ہونے کے لئے ان کا کہنا اور قبول کرنا بھی ضروری ہے، مسئلہ کی رو سے اگر کوئی مشرک بھی یہ کلمہ اس عقیدہ کے ساتھ پڑھ لیتا ہے کہ "اللہ کے علاوہ کوئی ہستی ایسی نہیں ہے جس کی عبادت و بندگی کی جاسکے، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جو خبریں دی ہیں وہ صحیح ہیں” تو وہ مسلمان ہو جاتا ہے۔

مذکورہ خاتون جو خود کو ایکس مسلم کہتی ہے اور کلمہ بھی نہیں جانتی ہے، گویا اسے اسلام کے دروازے کا علم ہی نہیں ہے، اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ وہ ہندوستان میں داخل تو ہوگئی ہے اور ہندو دھرم کو بھی اپنا چکی ہے، مگر اس سے پہلے بھی وہ عند اللہ مسلمان نہیں تھی اور اسلام کے باڈر کراس نہیں کرسکی تھی، سیما اسلام کے باڈر پر ہی کھڑی تھی۔ اب یہ کہنا کہ ایک مسلم خاتون مرتد ہوچکی ہے ، ہندو دھرم اختیار کر چکی ہے، اور اس پر کف افسوس ملنا لاحاصل ہے۔

آج سوشل میڈیا کے ذریعہ اس بات کی خوب تشہیر کی جارہی ہے، مندرکے اندر سےمذکورہ خاتون کی تصویرنشر کی جارہی ہے، اس کا مقصد صرف اور صرف مسلمانوں کی ایذا رسانی ہے،دونوں مجرمین کی آج خوب پذیرائی ہورہی ہے،جبکہ قانونی اعتبار سے ان دونوں کی حقیقی جگہ جیل ہے، یہ کھلے عام آزادی کے ساتھ اپنے عشق کاجشن منارہے ہیں، اس کی سنگینی کا احساس کسی کو بھی نہیں ہے،سماج کہاں جارہا ہے؟اس کا انجام کیا ہونے والا ہے؟اس کی طرف توجہ نہیں ہے، اسمیں نقصان ملک اور معاشرہ کا بھی ہے، اس واقعہ سے تحریک پاکر جرائم کی ایک نئی تاریخ رقم ہوسکتی ہے؟ اس پر دھیان کسی کا نہیں ہے ،اس تحریر کے ذریعہ سنجیدہ لوگوں کو اس جانب بھی غور وفکرکی دعوت دی جاتی ہے۔

دوسری چیز جو مذکورہ انٹرویو میں قابل توجہ ہے وہ نماز کے حوالہ سے سوال کیا جاناہے،اور یہ یہت ہی اہم ہے، شریعت اسلامیہ میں کلمہ اورنماز لازم وملزوم شی ہے،کلمہ پڑھنے کے بعد سب سے پہلے جو چیز ایک صاحب ایمان پر لازم ہوتی ہے وہ نماز ہی ہے،کلمہ ایمان کادعوٰی ہے، تو نماز اس کی دلیل ہے، ایک کلمہ پڑھنے والا یہ عہد کرتا ہے کہ ہم کسی اور کی عبادت نہیں کریں گے،اس کے بعد ایک اللہ کے سامنے جھک کراپنی نماز کے ذریعہ عملی طور پراس کی دلیل بھی پیش کردیتا ہے۔، یہ ایک ایسی عبادت ہے جس سے غیر اللہ کی عبادت پر سب سے زیادہ ضرب پڑتی ہے۔

وہ ایک سجدہ ہے جسے تو گراں سمجھتا ہے

ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات

حدیث شریف میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "بندہ کے اور کفر کے درمیان نماز چھوڑ دینے ہی کا فاصلہ ہے” (مسلم) اور قرآن کریم میں اللہ رب العزت نے سخت لہجے میں یہ حکم دیا ہے کہ؛ قائم رکھو نماز اور مت ہو شرک کرنے والوں میں( الروم:٣١) گویا مسلم ہونے کی سب سے بڑی دلیل نماز ہے،

واقعی وہ رپورٹر صاحب قابل داد ہیں جنہوں نے ان دو بنیادی اور ضروری سوالات کے ذریعہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کردیا ہے،اور ہم سبھوں کے ذہن ودماغ کو بھی اس خاتون کے حوالہ سے صاف کردیا ہےکہ ؛ہم سب کسی اور وادی میں ہیں، اور وہ کسی اور وادی میں گھوم رہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے