ابوالکلام آزاد ندوی

دنیا میں بے شمار انسان آتے اور چلے جاتے ہیں، لیکن تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ وہی شخصیات زندہ رہتی ہیں جو اپنے علم، کردار، اخلاص اور بے لوث خدمات کے ذریعے معاشرے پر گہرے نقوش ثبت کر جاتی ہیں۔ ایسی ہستیاں اپنے عہد کی تعمیر و تشکیل میں مؤثر کردار ادا کرتی ہیں، نسلوں کی فکری و اخلاقی تربیت کرتی ہیں اور اپنے علمی فیوض سے ایک روشن روایت قائم کر جاتی ہیں۔ خصوصاً دینی مدارس کے وہ اساتذۂ کرام، جنہوں نے اپنی پوری زندگی تدریس، تربیت اور اشاعتِ علم کے لیے وقف کر دی، درحقیقت ملتِ اسلامیہ کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔
حضرت مولانا محمد مصطفیٰ قاسمیؒ بھی انہی ممتاز اہلِ علم میں سے تھے جنہوں نے اپنی علمی بصیرت، تدریسی مہارت، زہد و تقویٰ، حسنِ اخلاق اور اخلاصِ عمل کے ذریعے ایک منفرد مقام حاصل کیا۔ آپ فنِ نحو و صرف کے ماہر استاذ تھے۔ آپ کی تدریس صرف کتابوں تک محدود نہ تھی بلکہ طلبہ کی علمی، فکری اور اخلاقی تربیت بھی آپ کی زندگی کا نمایاں وصف تھا۔ ہزاروں تشنگانِ علم نے آپ سے کسبِ فیض کیا اور آج ملک کے مختلف مدارس، مساجد اور دینی اداروں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
حضرت مولانا محمد مصطفیٰ قاسمیؒ ضلع سدھارتھ نگر کی تحصیل نوگڑھ کے گاؤں سیہوروا کے رہنے والے تھے۔ آپ کی ولادت۱۹۴۶ء میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں کے مکتب میں حاصل کی، جہاں قرآنِ کریم اور بنیادی دینی علوم کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ نے اعلیٰ دینی تعلیم کی طرف رخ کیا۔اس کے بعد آپ نے مدرسہ اشرف العلوم کرتھیا، ضلع مہراج گنج میں داخلہ لیا، جہاں شرح جامی تک کی تعلیم حضرت مولانا مصطفیٰ صاحب سے حاصل کی، جو دھریچی، ضلع مہراج گنج کے رہنے والے تھے۔
اعلیٰ دینی تعلیم کے شوق نے حضرت مولانا محمد مصطفیٰ قاسمیؒ کو مختلف علمی مراکز تک پہنچایا۔ ابتدائی نصابی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ۱۹۶۰ء میں آپ نے مدرسہ خادم الاسلام، ہاپوڑ میں داخلہ لیا۔ یہاں آپ نے فقہ، حدیث اور دیگر فنون کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ اس دوران آپ نے متعدد جید اساتذۂ کرام سے اکتسابِ فیض کیا، جن میں بالخصوص قاری مشتاق احمد صاحب، مولانا محمود احمد صاحب، مولانا عابد حسین صاحب اور حضرت مولانا باقر حسین صاحبؒ قابلِ ذکر ہیں۔ ان حضرات سے آپ نے شرحِ وقایہ سمیت مختلف درسی کتابیں پڑھیں۔ اسی ادارے کے مہتمم حضرت مولانا ناظر حسین صاحبؒ سے آپ نے شرحِ وقایہ (کتاب الحج) کا درس حاصل کیا۔
اس کے بعد۱۹۶۲ء میں آپ نے برصغیر کے عظیم دینی و علمی مرکز دارالعلوم دیوبند میں داخلہ لیا۔ یہاں آپ نے نہایت انہماک اور شوق کے ساتھ علومِ دینیہ کی تکمیل کی اور۱۹۶۴ء میں سندفضیلت (عالمیت) حاصل کی۔دارالعلوم دیوبند میں قیام کے دوران آپ کو اپنے عہد کے نامور محدثین اور اساتذۂ کرام سے استفادہ کا شرف حاصل ہوا۔ صحیح بخاری آپ نے حضرت مولانا شیخ فخر الدینؒ سے پڑھی، جامع ترمذی حضرت مولانا ابراہیم صاحبؒ سے، صحیح مسلم حضرت علامہ بشیر احمد صاحبؒ سے، شمائل ترمذی حضرت مولانا فخر الحسن صاحبؒ سے، جبکہ سنن ابن ماجہ اس وقت کے مہتمم حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمیؒ سے پڑھی۔ علاوہ ازیں، مسلسلات کی سند آپ کو حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریاؒ سے حاصل ہوئی، جو آپ کے علمی مقام اور حدیث سے خصوصی شغف کی دلیل ہے۔
دارالعلوم دیوبند میں آپ کے رفقائے درس میں متعدد ممتاز علماء شامل تھے۔ ان میں خصوصیت کے ساتھ حضرت مولانا محمد سلیم قاسمیؒ اور حضرت مولانا محمد سمیع اللہ صاحب قاسمی دامت برکاتہم کے اسمائے گرامی قابلِ ذکر ہیں۔ یہ علمی رفاقت بعد کے زمانے میں بھی باہمی تعلق، علمی تبادلۂ خیال اور دینی خدمات کا ذریعہ بنی۔
دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد حضرت مولانا محمد مصطفیٰ قاسمیؒ نے درس و تدریس کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا۔ آپ نے اپنی علمی صلاحیتوں، تدریسی مہارت اور اخلاص کے ساتھ مختلف دینی اداروں میں طویل عرصہ تک خدمت انجام دی اور ہزاروں طلبہ کو علومِ اسلامیہ سے بہرہ ور کیا۔
آپ کی تدریسی زندگی کا آغاز مدرسہ عربیہ مصباح العلوم، کمریا بزرگ، ضلع مہراج گنج سے ہوا۔ یہاں آپ نے ایک طویل عرصے تک تدریسی فرائض انجام دیے۔ اس دوران آپ نے صرف نصابی کتابیں ہی نہیں پڑھائیں بلکہ طلبہ کی علمی، فکری اور اخلاقی تربیت کو بھی ہمیشہ مقدم رکھا۔ آپ کے حلقۂ درس سے فارغ ہونے والے بے شمار طلبہ بعد میں مختلف مدارس، مساجد، جامعات اور دینی اداروں سے وابستہ ہو کر دین اسلام کی خدمت میں مصروف ہوئے۔بعد ازاں آپ نے مدرسہ انوار العلوم، دبولیہ، لہڑا اسٹیشن، ضلع مہراج گنج میں تدریسی خدمات انجام دیں۔ یہاں بھی آپ اپنی علمی گہرائی، حسنِ تدریس اور شفیقانہ انداز کی وجہ سے اساتذہ و طلبہ میں یکساں طور پر محبوب رہے۔
اس کے بعد آپ الجامعۃ الاسلامیہ نور الہدیٰ، نوگڑھ، ضلع سدھارتھ نگر سے وابستہ ہوئے، اس ادارے میں بھی آپ نے خصوصاً فن نحو و صرف کی تدریس میں غیر معمولی مہارت کا مظاہرہ کیا۔ مشکل علمی مباحث کو نہایت سہل، مرتب اور دل نشین انداز میں سمجھانا آپ کا امتیاز تھا، جس کی وجہ سے طلبہ آپ کے درس کا بے صبری سے انتظار کرتے تھے۔
حضرت مولانا محمد مصطفیٰ قاسمیؒ علم و فضل کے ساتھ حسنِ اخلاق، تواضع، تقویٰ اور اخلاص کا حسین پیکر تھے۔ آپ نہایت خوش مزاج، ملنسار اور منکسر المزاج شخصیت کے مالک تھے۔ طلبہ سے شفقت، چھوٹوں پر محبت اور بڑوں کا احترام آپ کی نمایاں خصوصیات تھیں۔آپ کی زندگی زہد و تقویٰ، سادگی اور اتباعِ سنت کا عملی نمونہ تھی۔طلبہ کے ساتھ آپ کا طرزِ عمل ہمیشہ مشفقانہ اور اصلاحی ہوتا تھا۔ آپ طلبہ کی علمی استعداد کے ساتھ ساتھ ان کی اخلاقی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دیتے تھے۔آپ کے شاگردوں کی تعداد ہزاروں میں ہے، جو آج ملک کے مختلف علاقوں میں تدریس، امامت، خطابت، افتاء اور دیگر دینی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یہی آپ کے اخلاص اور علمی فیض کی سب سے بڑی علامت ہے۔ آپ کے نمایاں تلامذہ میں درج ذیل حضرات کے اسمائے گرامی قابلِ ذکر ہیں:حضرت مولانانصیر الدین صاحب ندوی :خزانچی جمعیۃ علماء مہراج گنج ،مولانا ڈاکٹر برکت اللہ صاحب ندوی ،حضرت مولانا محمد اسلام صاحب قاسمی بانی مدرسہ الصفہ للبنات سونپپری مہراج گنج ،حضرت مولانا محمد نعیم صاحب قاسمی صدر جمعیۃ علماء نوگڈھ ضلع سدھارتھ نگر،حضرت مولانا مفتی سراج الدین صاحب مظاہری صدر مفتی جامعہ ام سلمہ للبنات خوشراجپور ،سدھارتھ نگر،حضرت مولانا مذمل صاحب قاسمی سیوروا، حضرت مولانا احمد حسین صاحب قاسمی گلہریا،ماسٹر ابو بکر صاحب برجمن گنج ،حضرت مولانا اکبر علی صاحب قاسمی و غیرہ کا نام قابل ذکر ہے ۔ یہ حضرات اپنے استاذِ محترم کی علمی تربیت، حسنِ اخلاق اور تدریسی اسلوب کو آج بھی قدر و احترام کی نگاہ سے یاد کرتے ہیں اور مختلف علمی و دینی میدانوں میں ان کی علمی وراثت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
حضرت مولانا محمد مصطفیٰ قاسمیؒ نے علم و عمل، تدریس و تربیت اور خدمتِ دین سے معمور ایک بابرکت زندگی گزاری۔ عمر کے آخری ایام میں بڑھاپے کے باعث آپ کی صحت اکثر ناساز رہنے لگی تھی، جبکہ تقریباً تین سال سے فالج کے عارضے نے بھی آپ کو متاثر رکھاتھا۔ اس کے باوجود آپ صبر و رضا کے ساتھ زندگی بسر کرتے رہے۔ بالآخر ۱۹ جون۲۰۲۶ء، بروز جمعہ تقریباً ۸۰ سال کی عمر میں آپ اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ آپ کی وفات سے اہلِ علم، آپ کے تلامذہ، متعلقین اور اہلِ علاقہ کو گہرا صدمہ پہنچا، کیونکہ ایک ایسا شفیق استاذ رخصت ہوا جس نے اپنی پوری زندگی علمِ دین کی اشاعت اور نسلِ نو کی تربیت کے لیے وقف کر رکھی تھی۔آپ کی نمازِ جنازہ۲۰/ جون ۲۰۲۶ء، بروز سنیچر، بعد نمازِ ظہر آپ کے چھوٹے صاحبزادے حضرت مولانا نجم الدین صاحب قاسمی نے پڑھائی، جس میں علماء، طلبہ، اہلِ علاقہ اور آپ کے عقیدت مندوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ بعد ازاں آپ کو اپنے آبائی قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔
حضرت مولانا محمد مصطفیٰ قاسمیؒ نے اپنے پس ماندگان میں چار صاحبزادے اور تین صاحبزادیاں چھوڑیں۔ آپ کے صاحبزادگان کے اسمائے گرامی درج ذیل ہیں: – مرحوم جناب بدر الدین (متوفی:۲۰۲۲ء) – جناب صدر الدین صاحب – جناب معین الدین صاحب -اور حضرت مولانا نجم الدین صاحب قاسمی۔ (قاسمی پرنٹنگ پریس، لوٹن بازار، ضلع سدھارتھ نگر)
حضرت مولانا محمد مصطفیٰ قاسمیؒ ان خوش نصیب اہلِ علم میں سے تھے جنہوں نے اپنی زندگی کا بیش تر حصہ درس و تدریس، تعلیم و تربیت اور اشاعتِ علومِ دینیہ میں صرف کیا۔ اگرچہ آپ نے اپنی علمی خدمات کو شہرت کا ذریعہ نہیں بنایا، لیکن آپ کے تیار کردہ ہزاروں شاگرد آج مختلف مقامات پر دینِ اسلام کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ یہی آپ کا حقیقی علمی سرمایہ اور بہترین صدقۂ جاریہ ہے۔ آپ کی زندگی موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لیے اس حقیقت کا روشن نمونہ ہے کہ اخلاص، محنت، علم اور حسنِ اخلاق کے ذریعے انسان اپنے بعد بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ رہ سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ حضرت مولانا محمد مصطفیٰ قاسمیؒ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کی علمی خدمات کو ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے۔ آمین۔

