تحریر:محمد مصطفیٰ کعبی ازہری
استاذ تفسیر وحدیث جامعہ حفصہ للبنات دھنوشا نیپال
دنیا میں تقریباً ایک سو پچانوے ممالک ہیں ،جن میں سے ایک ہمارا عزیز وطن نیپال بھی ہے، دنیا کے دیگر ممالک کی طرح ہمارا ملک نیپال بھی مدارس و مساجد کی ایک وسیع اور دیرینہ روایت کا حامل ہے،ملک کے مختلف علاقوں، شہروں، قصبوں اور بستیوں میں مساجد عبادت و روحانیت کے مراکز کے طور پر آباد ہیں اور مدارس علم و تعلیم کے چراغ روشن کیے ہوئے ہیں، کہیں مساجد کے بلند میناروں سے صبح کے سناٹے کو چیرتی ہوئی اذان کی آوازیں بلند ہوتی ہیں اور کہیں مدارس کی درس گاہوں سے قرآنِ کریم کی تلاوت، احادیث نبویہ کی تعلیم اور علم کے متلاشی طلبہ و طالبات کی آوازیں سنائی دیتی ہیں، یہ مناظر صرف مذہبی زندگی کی ایک جھلک نہیں ہیں، بلکہ ایک زندہ تہذیب، ایک بیدار معاشرے اور ایک روشن علمی روایت کی علامت بھی ہیں ـ۔
نیپال کی سرزمین پر قائم یہ مدارس و مساجد یہاں کے مسلم معاشرے کی دینی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ تعلیم، تربیت، اخلاق، تہذیب، اصلاح اور سماجی خدمات کے میدان میں بھی اپنا مثبت کردار ادا کر رہے ہیں، ان اداروں کی اصل اہمیت ان کی عمارتوں، گنبدوں اور میناروں میں نہیں بلکہ ان مقاصد میں پوشیدہ ہے جن کے لیے انہیں قائم کیا گیا ہے، مدارس کی ایک چھوٹی سی درس گاہ میں بیٹھا ہوا طالب علم بظاہر ایک کتاب پڑھ رہا ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں وہ اپنے اور اپنے ملک کے روشن مستقبل کی بنیاد رکھ رہا ہوتا ہے، استاد کے سامنے کھلی ہوئی کتاب صرف چند اسباق کا مجموعہ نہیں ہوتی بلکہ اس کے صفحات میں ایک پوری نسل کی علمی و اخلاقی تربیت کا امکان پوشیدہ ہوتا ہےـ۔
یہاں کے مدارس و مساجد دراصل علم کے وہ آنگن ہیں جہاں نسلیں اپنے ماضی سے رشتہ جوڑتی اور مستقبل کی طرف قدم بڑھاتی ہیں، یہاں قرآنِ کریم ، حدیث، فقہ، عقائد، عربی زبان، اسلامی تاریخ اور اخلاقی تعلیم کے ذریعے طلبہ و طالبات کے ذہن و کردار کی تعمیر کی جاتی ہے، وقت کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے بہت سے ادارے دینی تعلیم کے ساتھ نیپالی، انگریزی، حساب، سائنس، سماجی علوم اور کمپیوٹر جیسے مضامین سے بھی طلبہ و طالبات کو روشناس کرانے میں کوشاں ہیں، اس طرح مدارس صرف ماضی کی علمی روایت کے محافظ نہیں ہیں بلکہ موجودہ دور کے تقاضوں کو سمجھنے اور آنے والے زمانے کے لیے نسلِ نو کو تیار کرنے اداروں کی حیثیت بھی رکھتے ہیں ـواضح رہے کہ وطن عزیز نیپال کے مدارس و مساجد کی آمدنی کے مختلف ذرائع ہیں، جن میں سے چند درج ذیل ہیں:
عام عطیات و صدقات:نیپال کے مدارس و مساجد کی آمدنی کا پہلا اور بنیادی ذریعہ عام عطیات و صدقات ہیں، مقامی مسلمان اپنی دینی وابستگی، اخلاص اور حسبِ استطاعت ان دینی اداروں کے لیے مالی تعاون پیش کرتے ہیں،کسی کے لیے یہ تعاون ماہانہ چند سو یا چند ہزار کی صورت میں ہوتا ہے، کوئی سالانہ چندہ ادا کرتا ہے، کوئی اپنی روزمرہ خوراک میں سے ہر دن مٹھی بھر چاول الگ کرکے طلبہ و طالبات کے کھانے کا حصہ بناتا ہے اور کوئی مسجد کے بجلی، پانی، صفائی، تعمیر و مرمت یا دیگر ضروری اخراجات میں اپنا حصہ شامل کر دیتا ہے۔ ـ
یقیناً یہ تعاون صرف مالی لین دین کا نام نہیں، بلکہ اس کے پس منظر میں دینی محبت، اجتماعی ذمہ داری اور اداروں سے وابستگی کا ایک گہرا جذبہ کارفرما ہوتا ہے،بسا اوقات ایک فرد کی طرف سے پیش کی جانے والی رقم بظاہر معمولی محسوس ہوتی ہے،تاہم جب ایک پورا معاشرہ اپنے مدارس و مساجد کی ضروریات کو اپنی ذمہ داری سمجھ کر تعاون کے لیے آگے بڑھتا ہے تو یہی چھوٹے چھوٹے عطیات و صدقات مل کر ایک مضبوط مالی دھارے کی شکل اختیار کر لیتے ہیں، یوں ایک شخص کی مٹھی بھر چاول، دوسرے کی ماہانہ رقم اور تیسرے کا سالانہ چندہ مل کر کسی مدرسے کے باورچی خانے کا چولہا روشن رکھتے، غریب و نادار طلبہ و طالبات کی غذائی ضرورت پوری کرتے ہیں اور مساجد کی روزمرہ ضروریات کا بوجھ سنبھالتے ہیں،خصوصاً ان اداروں کے لیے جہاں مستقل آمدنی کے ذرائع محدود ہوں، عوامی عطیات ایک ایسے سہارے کی حیثیت رکھتے ہیں جو تعلیمی و دینی سرگرمیوں کے تسلسل کو برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے،اس طرح عام عطیات و صدقات نہ صرف مدارس و مساجد کے مالی نظام کی بنیاد بنتے ہیں بلکہ مسلم معاشرے اور دینی اداروں کے درمیان قائم اس باہمی تعلق کی بھی علامت ہیں جس میں اہلِ خیر اپنے مال کے ذریعے علم، عبادت، دینی تربیت اور خدمت خلق کے چراغوں کو روشن رکھنے میں اپنا حصہ ادا کرتے ہیں ۔
زکوٰۃ:نیپال کے مدارس و مساجد کی آمدنی کا دوسرا ذریعہ زکوٰۃ ہے،یہاں بہت سے اہلِ خیر اپنے مال کی زکوٰۃ مدارس اور دینی اداروں کو دیتے ہیں، کیوں کہ وہ ان اداروں کو دینی تعلیم کے فروغ، مستحق طلبہ و طالبات کی کفالت اور علومِ اسلامیہ کی اشاعت و ترویج کا اہم ذریعہ سمجھتے ہیں، واضح رہے کہ زکوٰۃ اسلام کا ایک بنیادی مالی فریضہ ہے، جو ہر صاحبِ نصاب مسلمان پر اس وقت واجب ہوتی ہے جب اس کے پاس نصاب کے بقدر مال ہو اور اس پر ایک قمری سال گزر جائے، عام نقدی، سونا، چاندی اور تجارتی مال وغیرہ میں واجب مقدار عموماً ڈھائی فیصد (2.5 فیصد) یعنی چالیسواں حصہ ہوتی ہے، البتہ مختلف اموال کی نوعیت کے اعتبار سے زکوٰۃ کے احکام اور نصاب میں تفصیل پائی جاتی ہے،بروقت اس مختصر سے مضمون میں اس کا ذکر غیر معقول ہے ـ۔
الحمد للہ! نیپال کے بعض مدارس میں زکوٰۃ کی رقم شرعی اصول و ضوابط کی رعایت کرتے ہوئے مستحق طلبہ و طالبات، غرباء و مساکین اور دیگر شرعی مستحقین کی ضروریات پوری کرنے میں صرف کی جاتی ہے، بعض اہلِ خیر اپنی زکوٰۃ براہِ راست ایسے مستحق طلبہ و طالبات کی کفالت کے لیے دیتے ہیں جو تعلیمی اخراجات برداشت کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے، جب کہ بعض ادارے زکوٰۃ کی رقم کو مستحقین تک پہنچانے اور ان کی ضروریات پوری کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں،اس طرح زکوٰۃ جہاں صاحبِ مال کے مال کو پاکیزگی عطا کرتی ہے وہاں معاشرے کے ضرورت مند افراد کی دست گیری، ان کی عزتِ نفس کی حفاظت اور دینی تعلیم کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ـ
اہلِ خیر کی خصوصی معاونت:نیپال کے مدارس و مساجد کی آمدنی کا تیسرا ذریعہ اہل خیر کی خصوصی معاونت ہے،یہاں بہت سے اہلِ خیر ایسے بھی ہیں جو عمومی چندے کے بجائے کسی مخصوص ضرورت کو اپنے ذمے لے لیتے ہیں،کوئی غریب طالب علم کی سالانہ کفالت کرتا ہے، کوئی کتابوں کا انتظام کرتا ہے، کوئی طلبہ و طالبات کے لباس یا خوراک کا خرچ اٹھاتا ہے اور کوئی مسجد یا مدرسے کی کسی خاص ضرورت کو پورا کرتا ہے،اس طرح کی خصوصی معاونت میں خیر خواہی کا ایک منفرد جذبہ نظر آتا ہے، معاون شخص ان مدارس و مساجد کو صرف رقم نہیں دیتا ہے، بلکہ ان کی کسی ضرورت کو اپنی ذمہ داری سمجھ کر اس کی تکمیل میں کوئی دقیقہ سعی فروگزاشت نہیں کرتا ہے،اس سے جہاں ان اداروں کی فوری ضرورت پوری ہوتی ہے، وہاں اہلِ خیر اور دینی اداروں کے درمیان اعتماد کا رشتہ مضبوط ہوتا ہے ۔ـ
تعمیراتی و تعمیری فنڈ:نیپال کے مدارس و مساجد کی آمدنی کا چوتھا ذریعہ تعمیراتی و تعمیری فنڈ ہے،ہمارے عزیز وطن کے مسلم علاقوں میں جب کسی نئی مسجد کی تعمیر، مدرسے کے لیے اضافی کمروں، طلبہ یا طالبات کے ہاسٹل، وضوخانے یا دیگر ضروری سہولیات کی ضرورت پیش آتی ہے تو اہلِ خیر سے خصوصی تعاون حاصل کیا جاتا ہے،چناں چہ اس پر کوئی شخص تعمیراتی سامان فراہم کرتا ہے، کوئی مزدوری کے اخراجات میں حصہ لیتا ہے اور کوئی تعمیر کے کسی ایک حصے کی ذمہ داری قبول کر لیتا ہے، یوں بہت سے افراد کی مشترکہ کوشش سے ایک ایسی عمارت وجود میں آ جاتی ہے جو برسوں تک عبادت، تعلیم اور دینی تربیت کا مرکز بنی رہتی ہے ـ۔
فطرانہ اور صدقہ فطر:نیپال کے مدارس و مساجد کی آمدنی کا پانچواں ذریعہ فطرانہ اور صدقہ فطر ہے،جو ہر سال رمضان المبارک کے اختتام پر ادا کیا جاتا ہے،اس کا مقصد مستحق افراد کی مدد کرنا اور انہیں عید کے موقع پر ضروریات پوری کرنے کے قابل بنانا ہے، نیپال کے بعض مسلم معاشروں میں دینی ادارے صدقہ فطر کی وصولی اور مستحقین تک اس کی ترسیل میں کردار ادا کرتے ہیں،بہت سارے لوگ اپنا فطرانہ یہاں کے مدارس میں جمع کرتے ہیں اور ان مدارس کو چلانے کا ذریعہ بنتے ہیں ۔ـ
وقف:نیپال کے مدارس و مساجد کی آمدنی کا چھٹا ذریعہ وقف ،وقف دراصل کسی مال، زمین یا جائیداد کو اللہ تعالیٰ کی رضا اور کسی متعین دینی، تعلیمی یا رفاہی مقصد کے لیے مخصوص کر دینے کا نام ہے، تاکہ اس کی اصل برقرار رہے اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی مسلسل اسی مقصد کی تکمیل میں صرف ہوتی رہے،یہاں کے مدارس و مساجد کے لیے وقف کی مختلف صورتیں سامنے آتی ہیں، کوئی صاحبِ خیر مدرسے کے لیے زمین وقف کر دیتا ہے، کوئی دکانیں وقف کرتا ہے، کوئی مکان یا زرعی زمین مخصوص کر دیتا ہے اور کوئی ایسی جائیداد بھی وقف کر دیتا ہے جس سے ان اداروں کو مستقل آمدنی ہوتی ہے،دکانوں کا کرایہ مدرسے کے اخراجات میں صرف ہوتا ہے، زرعی زمین کی پیداوار طلبہ و طالبات کے طعام و رہائش کا ذریعہ بنتی ہے، جب کہ کسی مکان کی آمدنی تعلیمی یا انتظامی ضروریات پوری کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ ـ
اس وقف کی ایک بڑی خوب صورتی یہ ہے کہ اس کے ذریعے ان اداروں کو صرف ایک مرتبہ مالی تعاون حاصل نہیں ہوتا ہے، بلکہ اس کے طفیل ان کے لیے مستقل طور پر ایک ایسا ذریعہ آمدنی وجود میں آتا ہے جو طویل عرصے تک ان کی ضروریات کا سہارا بن جاتا ہے، ایک صاحبِ خیر کی طرف سے وقف کی گئی چند دکانیں برسوں تک ان مدارس کے اخراجات کا بوجھ ہلکا کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں، ایک زرعی زمین نسلوں تک کسی دینی ادارے کے لیے آمدنی کا وسیلہ بن جاتی ہے اور ایک وقف شدہ مکان علم و عبادت کے چراغ کو مسلسل روشن رکھنے میں اپنا حصہ ادا کرتا ہے۔ ـ
ماہانہ و سالانہ چندہ:نیپال کے مدارس و مساجد کی آمدنی کا ساتواں ذریعہ ماہانہ و سالانہ چندہ ہے،یہاں کے بیشتر دینی ادارے ماہانہ یا سالانہ چندے کے ذریعے بھی اپنی مالی ضروریات پوری کرتے ہیں، بعض افراد ہر ماہ ایک مقررہ رقم ان مدارس و مساجد کے لیے دیتے ہیں، جب کہ بعض حضرات سال میں ایک مرتبہ اپنی استطاعت کے مطابق تعاون پیش کرتے ہیں،اس مستقل تعاون سے ان اداروں کو اپنے بنیادی اخراجات کی پیشگی منصوبہ بندی میں سہولت حاصل ہوتی ہے،یہ چیز ان اداروں کے جملہ معلمین و معلمات کی ضروریات، طلبہ و طالبات کے کھانے، بجلی و پانی، صفائی، کتابوں اور دیگر انتظامی اخراجات میں اہم کردار ادا کرتی ہے ـ۔
رمضان المبارک اور دیگر مذہبی مواقع پر خصوصی تعاون:نیپال کے مدارس و مساجد کی آمدنی کا آٹھواں ذریعہ رمضان المبارک اور دیگر مذہبی مواقع پر خصوصی تعاون ہے،یہ بات مسلم ہے کہ رمضان المبارک اہلِ ایمان کے اندر سخاوت، ایثار اور صدقہ و خیرات کے جذبے کو مہمیز دینے والا مبارک مہینہ ہے،دیگر ممالک کے مسلمانوں کی طرح ہمارے عزیز وطن نیپال کے مسلمان بھی اس ماہ میں اپنے دینی اداروں کی ضروریات کی طرف خصوصی توجہ دیتے ہیں،اس مبارک مہینے میں مدارس کے طلبہ و طالبات کے افطار و سحری، مساجد کے انتظامات اور دیگر دینی سرگرمیوں کے لیے خصوصی تعاون کیا جاتا ہے، اسی طرح عیدین اور دیگر دینی مواقع پر بھی بعض اہلِ خیر مدارس و مساجد کے لیے خصوصی عطیات پیش کرتے ہیں،یہ موسمی تعاون اداروں کی اضافی ضروریات پوری کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے ـ۔
طلبہ و طالبات کی کفالت اور تعلیمی وظائف:نیپال کے مدارس و مساجد کی آمدنی کا نواں ذریعہ طلبہ و طالبات کی کفالت اور تعلیمی وظائف ہیں، یہاں مختلف علاقوں اور معاشی طبقات سے تعلق رکھنے والے طلبہ و طالبات تعلیم حاصل کرتے ہیں، بعض طلبہ و طالبات ایسے خاندانوں سے آتے ہیں جو ان کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات برداشت کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے ہیں، ایسے طلبہ و طالبات کی کفالت یہاں کے اہلِ خیر کی طرف سے کی جاتی ہے،کوئی امید کے ساتھ ایک طالب یا طالبہ کے ماہانہ اخراجات اپنے ذمے لیتا ہے، کوئی کتابیں اور تعلیمی سامان فراہم کرتا ہے، کوئی لباس کا انتظام کرتا ہے اور کوئی مکمل سالانہ کفالت کرتا ہے کہ آج کا محتاج طالب علم کل ہمارے معاشرے اور ملک میں علم و دین کی روشنی پھیلانے والا اور ان کی تعمیر و ترقی میں کلیدی کردار ادا کرنے والا فرد بن سکتا ہے ـ۔
دیگر جائز اور شرعی مالی ذرائع:مذکورہ ذرائع کے علاوہ نیپال کے مدارس و مساجد کو مختلف جائز اور شرعی طریقوں سے بھی مالی تعاون حاصل ہوتا ہے، یہ تعاون ہمیشہ نقد رقم کی صورت میں نہیں ہوتا، بلکہ بعض اوقات اہلِ خیر اپنی استطاعت کے مطابق ضروری اشیاء فراہم کرکے بھی ان دینی اداروں کی خدمت میں اپنا حصہ شامل کرتے ہیں، کوئی صاحبِ خیر مدرسے کے لیے دینی و درسی کتب پیش کرتا ہے، کوئی فرنیچر فراہم کرتا ہے، کوئی کمپیوٹر یا دیگر تعلیمی آلات مہیا کرتا ہے، کوئی طلبہ و طالبات کے لیے بستر اور ضروری سامان دیتا ہے، جب کہ کوئی تعمیراتی کام کے لیے اینٹ، سیمنٹ، ریت، لوہا یا دیگر تعمیراتی مواد فراہم کرتا ہے، بظاہر یہ چیزیں نقد آمدنی کا حصہ نہیں ہوتیں، لیکن حقیقت میں یہ ان اداروں کے اخراجات کو کم کرنے اور ان کی ضروریات پوری کرنے میں نمایاں کردار ادا کرتی ہیں ـ۔
نیپال کے بعض مدارس میں طلبہ کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے کتابوں، بستروں، فرنیچر، برتنوں، تعلیمی آلات اور روزمرہ استعمال کی دیگر اشیاء کی ضرورت مسلسل رہتی ہے،اگر اہلِ خیر ان میں سے کسی ضرورت کو براہِ راست پورا کردیں تو مدرسے کو وہ چیز بازار سے خریدنے کے لیے الگ رقم خرچ نہیں کرنی پڑتی ہے،اس طرح ایک طرف صاحبِ خیر کو خدمتِ دین میں شرکت کا موقع ملتا ہے اور دوسری طرف ادارے کی محدود آمدنی کسی دوسری اہم ضرورت پر صرف کی جاتی ہے ،یہی وجہ ہے کہ غیر نقدی تعاون بھی مدارس و مساجد کے مالی نظام میں ایک قابلِ قدر حیثیت رکھتا ہے،اسی طرح بعض مدارس و مساجد کے پاس اپنی کوئی جائز ذریعۂ آمدنی بھی موجود ہے، مثلاً کسی دکان، مکان، زمین یا دوسری ایسی جائیداد سے حاصل ہونے والی آمدنی جو شرعی اور قانونی طور پر ادارے کے لیے مقرر کی گئی ہو،ایسی آمدنی ادارے کی دینی، تعلیمی اور انتظامی ضروریات پر صرف کی جاتی ہے، بشرط یہ کہ اس کے حصول اور استعمال میں شرعی اصولوں اور نیپال کے متعلقہ قوانین کی پابندی کی گئی ہو۔ ـ
انودان حکومت نیپال:2061 بکرمی سال سے ذرائع آمدنی میں حکومتی انودان بھی ہے جو 2061 سال بکرمی سے 2073 سال بکرمی تک رجسٹرڈ بعض مدارس اسلامیہ میں بطور انودان ایک عدد ٹیچر دے رہے تھے لیکن 2074 بکرمی سال کے بعد سے کثیر رجسٹرڈ مدارس اسلامیہ میں حسب کلاس سالانہ متعین رقم دیا جاتا ہے ۔اسکے علاوہ ناشتہ، کتاب، کمپیوٹر، کپڑا (ڈریس)، ایک یا دو عدد ٹیچر ، تعمیر(بلنڈنگ) اور قبرستان میں مٹی کے ساتھ پکی چار دیواری کیلئے حسب گنجائش رقوم دیئے جاتے ہیں ۔ اور اسی طرح تعمیر مساجد کے لئے رقوم دیتے ہیں جیساکہ دھنوشا ضلع اور سرہا ضلع میں تعمیری مساجد کے لئے موٹی رقوم فراہم کیے ہیں۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ: سرزمین نیپال میں مدارس و مساجد کا جال بچھا ہوا ہے،جن کا وجود مختلف ذرائع کے باہمی تعاون سے ہے،یہ مدارس و مساجد صرف عبادت اور دینی تعلیم کے مراکز نہیں، بلکہ یہ معاشرے کے اخلاقی و تہذیبی شعور کی آبیاری کرنے والے مراکز بھی ہیں،یہاں قرآن و حدیث کی تعلیم کے ساتھ ساتھ نئی نسل کی تربیت، کردار سازی، دینی و اخلاقی اقدار کی ترویج اور معاشرتی اصلاح کا کام بھی انجام پاتا ہے، ان اداروں کی خدمات کا دائرہ صرف مسلم معاشرے تک محدود نہیں رہتا، بلکہ ایک باشعور، بااخلاق، ذمہ دار اور پُرامن شہری معاشرے کی تشکیل میں بھی ان کا حصہ نمایاں ہے، اس اعتبار سے یہ مدارس و مساجد وطنِ عزیز نیپال کی تعمیر و ترقی کے خاموش مگر موثر معمار ہیں،یہی وجہ ہے کہ ان اداروں کو صرف مذہبی اداروں کی نظر سے نہیں، بلکہ تعلیم، تربیت، اخلاق، سماجی خدمت اور قومی تعمیر کے معاون مراکز کی حیثیت سے بھی دیکھا جانا چاہیے ـ۔
اسی احساس کے ساتھ حکومتِ نیپال سے میری مودبانہ اور عاجزانہ گزارش ہے کہ وہ ملک کے مدارس و مساجد کی طرف اپنی نیک نظر اور خصوصی توجہ مبذول فرمائے، ان کی جائز تعلیمی و انتظامی ضروریات کو سمجھنے کی کوشش کرے اور قانون و دستور کے دائرے میں رہتے ہوئے ان اداروں کے لیے ایسے سازگار حالات پیدا کرے جن میں یہ اپنے دینی، تعلیمی، اخلاقی اور سماجی فرائض کو زیادہ موثر انداز میں انجام دے سکیں،اگر حکومت نیپال اور متعلقہ اداروں کی سرپرستانہ توجہ، اہلِ خیر کا تعاون اور مدارس و مساجد کی انتظامیہ کی دیانت دارانہ کاوشیں ایک دوسرے کا ساتھ بن جائیں تو ان اداروں کی فعالیت میں یقیناً مزید اضافہ ہو سکتا ہے،پھر یہ مراکز علم کی شمعیں پہلے سے زیادہ روشن کر سکیں گے، نئی نسل کو تعلیم و تربیت سے آراستہ کر سکیں گے، معاشرے میں امن و اخوت کے جذبات کو فروغ دے سکیں گے اور اپنی خدمات کے ذریعے وطنِ عزیز نیپال کی علمی، اخلاقی اور سماجی ترقی میں مزید موثر کردار ادا کر سکیں گے ـ۔
اخیر میں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے عزیز وطنِ نیپال کو ہمیشہ امن، سلامتی، خوش حالی اور ترقی کی راہوں پر گامزن رکھے، اس کی سرزمین کو محبت، اخوت اور باہمی احترام کا گہوارہ بنائے، اور یہاں قائم تمام مدارس و مساجد کو اپنی حفظ و امان میں رکھے،انہیں قوم و ملت کی فلاح و بہبود اور معاشرے کی تعمیر و ترقی میں پہلے سے بڑھ کر مثبت اور موثر کردار ادا کرنے کے قابل بنائے، ان کے ذمہ داران، معلمین و معلمات، ائمہ، طلبہ و طالبات اور معاونین و محسنین اور اراکین کی خدمات کو شرفِ قبول بخشے، اور ان اداروں کو آنے والی نسلوں کے لیے ہدایت، علم اور خیر کا سرچشمہ بنائے آمین یا رب العالمین۔
